بلاگ
15 ستمبر ، 2016

۔۔۔اور عید گزر گئی!

۔۔۔اور عید گزر گئی!

وطن عزیز پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان موجود ہیں انہوں نے پورے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ عید منائی۔ جو استعاعت رکھتے تھے انہوں نے قربانی کی اور حضرت ابراہیم ؑکی اس سنت کی یاد تازہ کی جو انہوں نے صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر کی۔

مسلمان صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی خوشیوں کا اہتمام کرتے ہیں یہ بات اسلام کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔ اس موقع پر ایسے ایسے لوگ بھی اپنے بچوں کو گوشت کھلا پاتے ہیں جو خوفناک مہنگائی کے ہاتھوں اسے خریدنے کی استعاعت نہیں رکھتے۔

اس عید کے موقع پر ہمارے پاکستانی احباب یہ بھی کہتے سنے گئے کہ بڑی عید پر گوشت کھاتے ہوئے کم از کم یہ تو یقین ہے کہ ہم بکرے کا گوشت ہی کھا رہے ہیں کسی گدھے کا نہیں۔ یہ سن کر لوگوں نے قہقہے لگائے جبکہ یہ رونے کا مقام تھا نہ کہ ہنسنے کا۔ کسی نے کیا خوب کہاہے: ’احساس زیاں جاتا رہا‘

بحیثیت مجموعی ہم بے حس ہو چکے ہیں عید کوئی ہو ہم اس کو اس لئے مناتے ہیں کہ بس منانا ہے۔زیادہ تر لوگوں میں گویا ایک مقابلہ جاری ہوتا ہے ایک اونٹ،دو بھینسیں تین یا چار بکرے۔ گویا قربانی بھی ایک اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے اور پاکستان میں یہ سلسلہ نمود و نمائش کچھ زیادہ ہی دیکھا گیا۔

اس رجحان پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے وگرنہ معاشرے میں فرسٹریشن اور تناؤ بڑھتا جائے گا اور ماہرین کے مطابق اس سے نوجوانوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

میرا تعلق چونکہ لاہور سے ہے اس لئے اس عید پر صفائی کے حوالے سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ماضی کی طرح نہیں ہوا کہ ہر طرف خون اور کھالیں بدبو چھوڑ رہی ہیں بلکہ صفائی کا بہترین انتظام رہا جو خوش آئند ہے۔

بھارتی فلموںکی بھی اس مرتبہ نمائش نہیں کی گئی بلکہ پاکستانی فلموں کی نمائش ایک اچھی پیشرفت ہے عیدین کے حوالے سے ہمیں ہمیشہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہم مسلمان اس کو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے مناتے ہیں اور یہی ہماری خوشی کا مقصد بھی ہےجیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مسلمان دو طرح کی عید مناتے ہیں۔ ایک کوعید الفطر اور دوسری کو عید الاضحی کہا جاتا ہے۔ عید الاضحی ذوالحجہ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔

عید کو عید اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے نیز ہر وہ دن جس میں کوئی شادمانی حاصل ہو، اس پر ’’عید‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ دن شرعی طور پر خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔عید کے تہوار کا آغاز ہجرت کے بعد ہوا۔

حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ دو دن ایسے مناتے تھے جس میں وہ کھیلا کرتے تھے‘‘۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا یہ دو دن کیسے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا ان دو دنوں میں زمانہ جاہلیت میں ہم کھیلا کرتے تھے۔ تو رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا ﷲ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں ان کے عوض ان سےبہتر دو اچھے دن عطا فرمائے ہیں۔ ایک عید الاضحیٰ کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن۔