وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا

Wou Teri Yaad Thei Ab Yaad Aaya

 بچپن میں جب صرف پی ٹی وی ہی تفریح کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا تو ملکہ ترنم نور جہاں کی طلسماتی اور جذبات میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتی مہکتی آواز میں جب بھی یہ غزل سنتے تھے:

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا

تو ہم عمرو عیار اور امیر حمزہ کے ہمراہ پریوں ،شہزادے، شہزادیوں کےکسی دیس اور کبھی شہنشاہ افراسیاب کے طلسم ہوش ربا پہنچ جایا کرتے تھے، ایک خیالی سی شہزادی ہمارے دل و دماغ میں بھی رہتی تھی اور ہم بھی ناصر کاظمی بنے ملکہ ترنم کے ساتھ ساتھ گنگناتے ہوئے نہ جانے کن جہانوں کی سیر کر آیا کرتے تھے۔

ناصر کاظمی کی شاعری اردو شاعری کا سنہرا دور تھا، ان کی شخصیت میں ایک دکھ تھا، ایک یاسیت اور اداسی تھی اس لئے بجا طور پر انہیں تنہائی، یاسیت اور اداس جذبوں کا حامل شاعر کہا جا سکتا ہے، ان کی شاعری میں چاند، رات، محبت، جدائی،یاد اور تنہائی کے الفاظ تواتر سے ملتے ہیں:

دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

سن1926ء میں انبالہ میں پیدا ہونے والا بچہ اردو شاعری کو ایک منفرد اسلوب عطا کرے گا کوئی نہیں جانتا تھا، ان کی شاعری جدید و قدیم روایات کا حسین امتزاج ہے:

آؤ چپ کی زباں میں ناصر
اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں

دو مارچ 1972ء کو اس فانی دنیا کو الوداع کہنے والے اس عظیم شاعر کی آج پینتالیسویں برسی ہے اور جان کیٹس کی طرح ناصر بھی کم عمری میں دنیا سے رخصت ہوئے، اس حوالے سے وہ کہہ گئے:

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

صحافتی زندگی کا آغاز انہوں نے 'اوراقِ نو سے کیا لیکن 1952ء میں جب عظیم روایات کے حامل ادبی جریدے ہمایوں کے میاں بشیر احمد نے انہیں مدیر مقرر کیا تو ان کی صلاحیتوں کا گویا ایک اعتراف تھا۔

ہمایوں کے بعد ناصر کاظمی ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے اور پھر اسی کے ہی ہو کر رہ گئے، ان کی شاعری میں احساس کا دھیما پن ہے اور جذبات کی مہک گویا روح میں اتر جاتی ہے:

ڈھونڈیں گے لوگ مجھ کو ہر محفل سخن میں
ہر دور کی غزل میں میرا نشاں ملے گا
آج تو بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

یہاں کس قدر دلربائی انداز میں کہتے ہیں:

میں اور اس کو بھولوں ناصر
کیسی باتیں کرتے ہو

صورت تو پھر صورت ہے
وہ نام بھی پیارا لگتا ہے

یہاں دیکھئے کیا انداز بے نیازی ہے:

جدا ہوئے ہیں بہت لوگ، ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں

بیٹھ کر سایہ گل میں ناصر
ہم بہت روئے، وہ جب یاد آیا

کم عمری میں بہت کم لوگ اپنا آپ منوا پاتے ہیں، بلاشبہ ناصر کاظمی ان معدودے چند ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

(مصنف محمد زابر سعید پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)