-----

شائننگ انڈیا

Shining India

ترقی یافتہ قوم، معزز شہری، باشعور حکومت ، عقلمند مستقبل کے معمار اور چوکنا افواج۔۔ یہ سب دعوے ہیں ’شائننگ انڈیا‘ کےجو فی الحال اپنی ہی افواج کےافسران کے مظالم سے پردہ اُٹھانے پرفوجی جوانوں سے پریشان نظر آتی ہے۔

اگر اِسے ’’اِعلان ِ بغاوت ‘‘سے تشبیہ دی جائے توقطعی غلط نہیں ہوگا۔

معاملہ بھارتی افواج کے جوانوں کے کھانوں کا ہے جس پر آج کل افواجِ بھارت نے شور شرابا کیا ہوا ہے جس کی پہلی اور تازہ مثال تیج بہادر یادو کی ہے جو باڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) میں کانسٹیبل کی حیثیت سے ہے۔

جس نے ناقص اور معیا ر کے برعکس کھانا اور دیگر فوجی افسران کی کرپشن سے پردہ اٹھایا اورمکمل واقعہ ویڈیو کی شکل میں سوشل میڈیا میں نشر کردیا جس کے نتیجے میں ’شائننگ انڈیا‘کے حکمراں بشمول فوجی افسران سے یہ برداشت نہ ہوسکا اور اِس کو سزا کے طور پر پلمبر کے کا م سے منسلک کر دیا۔

مگر بات یہیں تک محدودنہیں رہی بلکہ میگزین’ انڈیا ٹوڈے‘ نے جب اِس غیر جانبدارفوجی کا انٹرویو لیا تو اُس نے اس بات کی مزید وضاحت بھی کی اور کہا کہ اُس کے ایک اور فوجی دوست اِس ویڈیو سے خوش ہیں۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ رائے میتھیوکا ہےجس نے اپنے افسران کے مظالم اور اُن کو ہراساں کرنے سے پردہ اُٹھایا جس کانتیجہ یہ نکلا کہ اُس کی پُر اسرار موت واقع ہوئی جو فوجی چھائونی کے قریب مردہ پایا گیا۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی خود کشی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جس کی تعداد بڑھ کر 378 ہوگئی ہے۔

ان کی خودکشی کی وجہ بے جا انتہا پسندی، لمبی ڈیوٹی، غیر معیاری کھانا اور ہر وقت جنگ کی طرف مائل رہنا ہےجس کی تازہ مثال بھارتی فوج کا اہلکار مود کمار ہے جس نےاِن تمام انتہا پسندی سے تنگ آکر اپنے آپ کو گولی مار ڈالی۔

اِن تمام حالات و واقعات کو مدِنظر رکھیں تو یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہےکہ وہاں کی فوج بھی اب اپنے اندرونی مسائل سے تنگ آچکی ہے اور خود اپنے ماحول سے آزادی کی خواہش مند ہےمگر یہ خودآزاد ریاست کے اعلیٰ حکمراں اپنے اداروں خاص کر اپنی فوج کی آزادی کے خلاف ہے۔



جس ملک کی فوج خود اپنے سسٹم سے تنگ ہو وہ بھلا ’شائننگ ‘ کیسے ہوسکتاہے؟