چلو اچھا ہوا تم بھول گئے

Chalo Acha Huwa Tum Bhool Gaye

عمران خان کا پاکستان سوپر لیگ میں شریک غیر ملکی کھلاڑیوں کے خلاف متنازع بیان کوئی حیرت کی بات نہیں، وہ ایسی باتیں پہلے بھی کرچکے ہیں جن سے نسل پرستی کا گماں ہو سکتا ہے، گزشتہ دنوں میڈیا پر ان کے تازہ بیان پر بحث ہوتی رہی جس میں انہوں نے مہمان کھلاڑیوں کے لیے ’پھٹیچر‘ اور’ ریلو کٹا‘ جیسے الفاظ استعمال کئے۔

انہوں نے افریقی کھلاڑیوں کو کچھ اس طرح مخاطب کیا گویا وہ اس براعظم میں بسنے والوں کو کم تر سمجھتے ہیں، عمران خان اپنے دفاع میں کچھ بھی کہتے رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افریقی سیاہ فام لوگوں کے خلاف ان کا یہ رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ایک بارایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سیاست دان بابر غوری ایک ٹی وی شو میں عمران خان کے کردار کو نشانہ بنانا چاہ رہے تھے، اس کوشش میں انہوں نے ایک بچی کے بارے میں کہا کہ اس کی شکل بالکل عمران خان جیسی ہے، عمران خان اس پروگرام میں تو کچھ نہ بولے لیکن کچھ ہی دنوں بعد بابرغوری کی بات پر عمران خان کے رد عمل کی ویڈیو سامنے آئی، اس ویڈیو میں کپتان واضح طور پر افریقی سیاہ فام لوگوں کی تضحیک کرتے دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔

افریقا اور دنیا کے دیگر حصوں میں بسنے والے سیاہ فام افراد سے اظہار یکجہتی کے طور پر میں کپتان کے الفاظ یہاں دہرانا نہیں چاہتا، لیکن یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد مجھے سب سے پہلے ان چند افریقیوں کا خیال آیا جن سے میرا ذاتی طور پر کسی نہ کسی طرح واسطہ رہا ہے، میں نے چند لمحوں کے لیے تصور کیا کہ اگر یہ ویڈیو ان افریقیوں نے دیکھ لی ہوتی، تو وہ میرے اور میرے ملک کے سیاسی رہنماؤں کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوتے؟

مجھے اس سیاہ فام افریقی خاتون کا بھی خیال آیا جس نے ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں میری پیشہ ورانہ رہنمائی کی تھی، مجھے صومالیہ سے تعلق رکھنے والا وہ سیاہ فام ٹیکسی ڈرائیور بھی یا د آیا جس نے مجھے نیویارک میں لٹنے سے بچایا تھا اورجب میں نے اس کے اس احسان کی وجہ پوچھی تواس کا جواب تھا: ’’کیوں کہ تم پاکستانی ہو۔‘‘

مجھے سوتے جاگتے یہ خدشہ پریشان کرتا رہا کہ کہیں ان افریقیوں کویہ نہ معلوم ہوجائے کہ اس ویڈیو میں کیا کہا گیا ہے اور کہنے والا کون ہے، ویڈیو دیکھنے کے تین چار دن بعد تک ایک انجانی سی شرمندگی مجھے ستاتی رہی۔

افسوس یہ ہے کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے ان کے کچھ پرستار سوشل میڈیا پر مسلسل اپنی اس منطق کا پرچار کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ عمران خان جو کچھ کہتے اور کرتے پھریں، وہ پاکستان کے دیگر تمام سیاست دانوں سے بہتر ہیں، یہ وہی فلسفہ ہے جس کے تحت اچھے اور برے طالبان کے درمیان فرق بیان کرکے ان ہی جیسے لوگوں نے ملک میں دہشت گردی کی کھلے عام حوصلہ افزائی کی، لہٰذا اس قسم کے پرستار بھی اپنی سوچ اور عمل کے اعتبار سے ان لوگوں جیسے ہیں جو مختلف حیلے بہانوں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

یہ لوگ کبھی نہیں مانیں گے کہ ان کی کسی دیوانہ وار طرف داری کے پیچھے منطق کے بجائے ان کے ذاتی جذبات اور احساسات کار فرما ہوتے ہیں، چاہے طرف داری عمران خان کی ہو، یا طالبان کی اور المیہ یہ ہے کہ اب یہ رویہ کم و بیش ہر ادارے میں اور ہر سطح پر پایا جاتا ہے،میں بھی ذاتی طور پر بحیثیت کرکٹر عمران خان کے پرانے فین کلب سے تعلق رکھتا ہوں، فرق صرف اتنا ہے کہ مجھے معلوم ہو تا ہے کہ کپتان کہاں غلط ہیں اور کہاں نہیں۔

میں اردو اورانگریزی دونوں زبانوں میں مضامین لکھتا ہوں لیکن اس مضمون کے لیے میں نے خاص طور پر اردو کا انتخاب کیا ہے، شاید حب الوطنی کے جذبے نے مجھے اس وہم میں مبتلا کر رکھا ہے کہ کہیں یہ مضمون انگریزی میں لکھا گیا تو یہ پاکستان سے باہر بھی پڑھ لیاجائے اور پھر دنیا بھر میں ماضی اور حال کے تمام پاکستانی رہنماؤں پر نسل پرستی کا شبہ کیا جانے لگے، شاید میری اس بات پر بہت سے لوگ ہنس پڑے ہوں، لیکن میری یہ تحریر اس وقت صرف میرے دل کی سچائی بیان کررہی ہے، غیرملکی خبررساں ادارے پہلے ہی دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز تک عمران خان کے اس متنازع بیان سے متعلق خبر پہنچا چکے ہیں۔

مجھے یہ بھی خوف تھا کہ اگر یہ مضمون انگریزی میں لکھ دیا جاتا تو  پاکستان میں مقیم  افریقی باشندے، سفارت کار اور سفارت خانوں میں تعینات اسٹاف یا پاکستان میں بھٹک کرآ جانے والا کوئی افریقی سیاح یا تاجر، اسے پڑھ کر کسی بھی صورت  پاکستانی رہنماؤں کے بارے میں اچھی  رائے قائم نہیں کرسکتا تھا۔

مجھے یہ خیال بھی آیا کہ ان میں سے کوئی شخص کہیں پاکستان یا عمران خان کے خلاف نسل پرستی کا دعویٰ دائر نہ کر دے، مجھے لگتا ہے کہ اگر کسی سیاہ فام افریقی نے ایسا کوئی دعویٰ دائر کر دیا تو اسے کسی بھی بین الاقوامی فورم میں ثابت کرنے میں صرف اتنی ہی دیر لگے گی جتنی دیر یہ ویڈیو چلے گی، ایسی صورت میں پاکستان اور یہاں بسنے والے دنیا کو کیا جواب دیں گے؟ یہاں خان صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ  اگر بابر غوری پرغصہ اتارنے کیلئے سیاہ فام افریقیوں کا مذاق اڑایا جاسکتا ہے تو کیا میں کسی شخص کو نیچا دکھانے کیلئے اسے ’نیازی پٹھان‘ کہہ سکتا ہوں؟ خداناخواستہ اگر میں ایسا کہہ دوں تو خان صاحب کو کیسا لگے گا؟ ویسے بھی عمران خان ان مہمان کھلاڑیوں کی تضحیک کر کے پٹھانوں کی روایتی مہمان نوازی کی بھی دھجیاں اڑا چکے ہیں۔

رہی بات یہ کہ پی ایس ایل میں شرکت کرنے والے ڈیرن سیمی سمیت غیر ملکی کھلاڑی ’پھٹیچر‘ تھے یا نہیں؟ یہاں میں خان صاحب پر صرف ایک بات واضح کروں گا کہ ان غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کی ترغیب دینے میں جس شخص کا سب سے بڑا ہاتھ ہے اس کانام سر ویوین رچرڈز ہے ، مجھے یقین ہے کہ عمران خان اس سر ویوین رچرڈز کو نہیں بھولے ہوں گے جس کے بارے میں ایک بار وہ خود کہہ چکے ہیں کہ ’’آج کل استعمال ہونے والا بلّا اگر ویوین رچرڈز کے ہاتھ لگ جاتا تو وہ اُن کی مزید کتنی دُھنائی کرتے‘‘۔

میری اگلی سطروں کو پڑھ کر کچھ لوگ کرکٹ ریکارڈزنکالنے بیٹھ جائیں گے، مجھے یاد ہے کہ 1980ءمیں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز مشکلات کا شکار تھی اور ویوین رچرڈز صرف 18رنز بنا سکے تھے، لیکن اپنی اس مختصر اننگز میں بھی اس بلے باز نے عمران خان کی ایک تیز رفتار گیند کو پلک جھپکتے میں باؤنڈری کے باہر پھینک دیا، ڈیپ مڈ وکٹ پر کھڑا ہوا اعجازفقیہہ ہل تک نہیں سکا،یہ منظر اسٹیڈیم میں بیٹھے ہزاروں شائقین نے دیکھا جب رچرڈز کے بلے کی ضرب کھا کر گیند صرف ایک باؤنس کے ساتھ باؤنڈری لائن کے باہر گری تو تماشائیوں پر سکتا طاری ہوگیا لیکن اگلے ہی لمحے خود عمران خان نے رچرڈز کی طرف دیکھا اور تالی بجا کر ان کی مہارت کی داد دی اور پھر پورا اسٹیڈیم اس شاندا رچوکے پر داد دینے کے لیے کھڑا ہوگیا، ہر وہ شخص جو نیشنل اسٹیڈیم میں موجود تھا اس منظر کو کبھی نہیں بھول سکے گا۔

چار ٹیسٹ میچز کی اس سیریز میں اس وقت کے عظیم بولر عمران خان اپنے ہوم گراؤنڈز پر ایک بار بھی ویوین رچرڈز کو آؤٹ نہیں کرسکے، حالانکہ سنیل گواسکر کا کہنا تھا کہ اس دور کے عمران خان کو آسانی سے کھیلنا ناممکن تھا۔ خان صاحب  پی ایس ایل کے فائنل میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی لاہور آمد کے پیچھے اس سیاہ فام کھلاڑی ’سر ویوین رچرڈز‘ کا جوش اور جذبہ ہی کار فرما تھا۔

مجھے معلوم ہے کہ عمران خان کی یاد داشت غیر معمولی حد تک تیز ہے، انہیں اس سیریز کا رچرڈز اب تک یاد آچکا ہوگا، حالانکہ یہ عظیم بلّے باز افریقی نہیں ہے لیکن مجموعی طور پرسیاہ فام افرادکے بارے میں سوچ بدلنے کے لیے ان کا لگایا ہوا وہ ایک چوکا ہی کافی ہے، جو لوگ کتاب، تجربے اور انسانوں سے براہ راست کچھ نہیں سیکھنا چاہتے  وہ عمر کے خاص حصے میں خوداپنی یاد داشت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

پی ایس ایل میں شریک غیر ملکی کھلاڑی ’پھٹیچر‘ یا ’ریلوکٹا‘ نہیں بلکہ وہ خان صاحب کی پھینکی ہوئی گیند کو چار گنا زیادہ تیز رفتاری سے باؤنڈری کے باہر کا راستہ دکھانے والے سر ویوین رچرڈز کے پرستار ہیں اور وہ انہی کی حوصلہ افزائی پر آپ کے ملک میں کھیلنے آئے تھے اوران سب مہمان کھلاڑیوں نے خطرات کے باوجود لاہورمیں فائنل ہزاروں افراد کے بیچ کھلے آسمان تلے کھیلا، کسی کنٹینر میں بیٹھ کر یا اس پر چڑھ کرنہیں۔

نصرت امین سینئر صحافی ہیں اور جیو اور جنگ گروپ سے وابستہ ہیں۔