-----

ذرا زبان سنبھال کر

Zara Zaban Sanbhal Ker

پاور پالیٹکس کی راہداریوں میں گزشتہ ہفتے جو کچھ ہوا جب مختلف طبقات اور عمر سے تعلق رکھنے والے دو ارکان قومی اسمبلی نے اخلاقیات، اقدار اور پارلیمانی کے برخلاف رویوں کا مظاہرہ کیا۔ اپنے حریف کی ہتک و تضحیک میں خواتین تک کو اپنی بدزبانی کا ہدف بناتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ پارٹی سربراہان اگر اپنے ارکان کو مخالفین کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال سے روکتے اور اندرون پارٹی اخلاقی رویوں کو اختیار کرنے پر زور دیتے تو خالد لطیف (مسلم لیگ ن) اور مردا سعید (تحریک انصاف) کے درمیان جو کچھ ہوا، وہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔

جاوید لطیف عمر میں بڑے ہیں انہیں نوجوان ارکان پارلیمنٹ کی صفِ اوّل سے رہنمائی کرنی چاہئے، لیکن مراد سعید کی بہنوں کے خلاف گھٹیا ریمارکس دے کر خالد لطیف نے اپنے لئے ہمدردیاں کھو دیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے سیاسی اظہار رائے کا فن اور اس کے لئے زبان کا استعمال آج تک نہیں سیکھا چونکہ سیاسی جماعتوں میں کوئی اخلاقی حدود و قیود ہیں، نہ ہی ریفریشر کورسز اور اسٹڈی سرکلز کا انعقاد ہوتا ہے لہٰذا اوسط سے گری سیاسی کھیپ ہی سامنے آ رہی ہے۔

گزشتہ 20سال کے دوران منتخب ایوانوں میں خواتین کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین کی سیاسی شراکت میں بڑھی جبکہ ایک کروڑ خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں اور کچھ علاقوں میں تو ابھی تک اپنے حق رائے دہی سے روکا جاتا ہے۔

اب وقت ہے کہ مرکزی سیاسی جماعتوں میں ہوشمند اور دانشمند عناصر کو اور خصوصاً خاتون ارکان پارلیمنٹ کو کسی مشترکہ اعلامیہ یا سیاسی اخلاقیات کے میثاق پر متفق ہو جانا چاہئے۔ سیاسی جلسوں اور جلوسوں میں اکثر شریک خواتین کو سیاسی اور جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے جلسوں اور جلوسوں میں ایسے ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔

پارٹی سربراہ عمران خان خود اس قدر نالاں ہوئے کہ انہوں نے ایک بار خطاب کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ایک خاتون ٹی وی اینکر کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور نشاندہی کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت نے قبیح حرکت کے مرتکب شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ تحریک انصاف کی قیادت نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم کی بیٹی مریم کے خلاف مہم کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا جبکہ ایسی بدسلوکیوں پر وزیراعظم کے خاموشی اختیار کرنے کا ریکارڈ بھی بڑا مایوس کن ہے۔اندرون خانہ ممکن ہے کہ وہ ان باتوں کا نوٹس لیتے ہوں اور وزرأ کو منع بھی کرتے ہوں مگر یہ بات کبھی باہر نہیں آتی ۔

انیس سو اسّی کی دہائی میں بیگم نصرت بھٹو مرحومہ کی سابق امریکی صدر جیرارڈ فورڈ کے ساتھ تصاویر ایک نجی ہیلی کاپٹر سے گرائی گئیں۔ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جو 1988ء کی انتخابی مہم کے دوران نوازشریف کے آدمی تھے، ان پر وہ تصاویر گھڑنے کا الزام ہے لیکن ایک بار حسین حقانی نے یہ وضاحت کی تھی کہ وہ آئیڈیا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل مرحوم کا تھا۔ توقع تو یہ بھی تھی کہ وزیراعظم نوازشریف تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کے لئے تضحیک آمیز زبان کے استعمال پر وضاحت طلب کرتے۔

عمران خان کی خاندانی زندگی پر تبصروں میں تمام حدود و قیود پھلانگ لی گئیں۔ بعض اوقات تو ن لیگی رہنماء اخلاقی حدود تک پار کرگئے۔ اگر اور کچھ نہیں تو نوازشریف اور شہباز شریف کو اپنی ہی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ شیخ سے سیکھنا چاہئے جنہوں نے اپوزیشن کی خاتون رکن کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال پر اپنے ہی وزیر کو جھاڑ پلانے کی ہمّت کی۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سیاسی جدوجہد میں بیگم کلثوم نواز اور مریم کا نمایاں کردار رہا ہے۔

شیخ رشید احمد نے شاید بدزبانی میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ بعض اوقات تو عوامی اور بازاری زبان میں فرق ہی بھول جاتے ہیں۔ شیخ صاحب کی سیاسی زیرکی اور طرز کا احترام اپنی جگہ لیکن بات جب زبان کے استعمال کی آتی ہے تو یہ سیاسی کارکنوں کے لئے بڑی شرم کی بات ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات آپ کو سرنگ کے دوسرے کنارے روشنی نظر آتی ہے۔

یہاں بے نظیر بھٹو کی بیٹیوں بختاور اور آصفہ کو داد دینی پڑتی ہے جنہوں نے دو بار اعلیٰ ظرفی اور کردار کی پختگی کا مظاہرہ کیا۔جب انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے صوبائی وزیر پتافی کو اپوزیشن کی رکن نصرت سحر عباسی سے نازیبا ریمارکس پر معذرت کے لئے مجبور کیا۔ چند ماہ بعد دونوں بہنوں نے متنازع شخصیت عرفان اللہ مروت کی اپنے والد آصف زرداری سے ملاقات کے بعد مبینہ طور پر پیپلزپارٹی میں شمولیت پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
جس سے پیپلزپارٹی کی سیاسی اور منتخب قیادت تک کو ایک مثبت پیغام گیا۔

یہ قومی اسمبلی کی سابق اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ہی تھیں جنہوں نے خواتین سے متعلق ایشوز پر تمام خاتون ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو یکجا کیا۔ جو بدزبانی کرتے ہیں جسے ضبط تحریر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یقیناً یہ بیمار ذہنوں کی عکاس ہے۔ اس پس منظر میں جاوید لطیف کے ریمارکس ناقابل قبول ہی نہیں بلکہ وزیراعظم کو مراد سعید سے معذرت کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ دوسری جانب مراد سعید جیسے نوجوان رکن پارلیمنٹ کو یہ گر سیکھنا چاہئے کہ سیاسی حریفوں سے ہاتھا پائی کے بجائے زیادہ موثر انداز میں کس طرح نمٹا جائے۔

اخلاقیات خود اپنے اندر سے آتی ہے لیکن اب بھی اگر سیاسی جماعتیں متفق ہوں تو وہ ’’میثاق سیاسی اخلاقیات‘‘کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔