-----

مردم شماری کا آغاز کل سے ہورہا ہے

Mardum Shumari Ka Aghaaz Kal Say Ho Raha Hai

..... واصف اوصاف.....
پاکستان کی آبادی کے حقیقی جائزوں کےلئے بالاآخر 15 مارچ سے چھٹی مردم و خانہ شماری کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ ملک میں آخری مردم و خانہ شماری 1998 میں ہوئی جس کے بعد 2008 میں یہ عمل دہرایا جانا تھا مگر مختلف وجوہات کے باعث یہ التواء کا شکار رہا ۔

حالیہ مردم شماری 2مراحل میں کروائی جارہی ہے ۔ پہلا مرحلہ 15 مارچ سے شروع ہوگا اور 13 اپریل تک جاری رہے گا جس میں پنجاب کے 15 اضلاع ، سندھ کے کراچی ڈویژن سمیت 8اضلاع، خیبرپختونخوا اور فاٹا کی ایک ایجنسی سمیت 14 اضلاع، بلوچستان کے 15 اضلاع ، آزادجموں و کشمیر کے 5 جبکہ گلگت بلتستان کےبھی 5 اضلاع شامل ہوں گے۔

دس دن کے وقفے کے بعد 25 اپریل سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا جو 24 مئی تک جاری رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے ساتھ ساتھ پنجاب کے 20 اضلاع، سندھ کے 21 اضلاع، خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع ، فاٹا کی 6 ایجنسیز، بلوچستان کے 17 اضلاع جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلستان کے 5 ، 5 اضلاع میں مردم شماری کا کام کیا جائے گا۔

مردم شماری کےلئے ملک کے تمام صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر بلاکس ، سرکل اور چارجز میں توڑا کیا گیا ہے۔ایک بلاک 200سے 300گھروں پر مشتمل ہوگا جبکہ 5 سے 7 بلاک مل کر ایک سینس سرکل تشکیل دیں گے جبکہ 5 سے 7 سینس سرکل پر ایک چارج بنے گا ۔اسی مناسبت سے ملک بھرمیں 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد بلاکس، 21 ہزار سے زائد سینس سرکلز اور 3ہزار سے زائد چارجز بنائےگئے ہیں ۔

مردم شماری کی ٹیم ایک سول ادارے اور 1فوجی جوان پر مشتمل ہوگی جبکہ ان کے ساتھ علاقائی سیکورٹی کے ذمہ دار اہلکار مثلا ً پولیس وغیرہ کے جوان بھی ہوں گے ۔

ٹیم میں شامل ہر شمار کنندہ کو 2 بلاکس میں مردم و خانہ شماری کرنے کی کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ وہ ہر بلاک پر 14 دن صرف کریں گے جس کےلئے پہلے 3 دن شمار کنندہ خانہ شماری کا فارم پُر کریں گے جس میں علاقے کا نام عمارت کا نمبر، عمارت کی نوعیت، گھرکے سربراہ اور رہائشیوں کے کام کی نوعیت کی معلومات بھری جائیں گے جبکہ10 دن اسی بلاک میں مردم شماری کا فارم 2 مکمل کیا جا ئے گا جس میں گھرانے میں موجود افراد ، ازداوجی حیثیت ، ان کی تعلیمی قابلیت، قومیت، زبان ، کام کی نوعیت اور گھر سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جائیں گی ۔ 2 دن کے وقفے کے بعد دوسرے بلاک میں کام کا آغاز کردیا جائے گا۔

مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں اور خانہ بدوشوں کے کوائف بھی نوٹ کیئے جائیں گے ۔مردم شماری کے اس تمام عمل پرتقریباً24 سے 25 ارب روپے خرچ ہوں گے۔