Can't connect right now! retry
Advertisement

خصوصی رپورٹس
15 مارچ ، 2017

’سائیکل یاری‘مہم ، شہری مسائل سے عالمی مسائل کے حل تک کارگر

’سائیکل یاری‘مہم ، شہری مسائل سے عالمی مسائل کے حل تک کارگر

این ای ڈی یونیورسٹی کے احاطے میں پھیلی چھوٹی موٹی سڑکوں کا جال ۔۔اس پر چلتےطلبہ و طالبات کا رش ۔۔اور انہی سب کے دوران ایک نوعمر پتلی دبلی سی جسامت والی تن تنہا سائیکل چلاکر ایک ڈپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ تک آنے جانے والی لڑکی۔۔۔

ایک لمحے کے لئے تصورکیجئے کہ جس شہر میں سائیکل چلانا ہی معیوب سمجھا جاتا ہو وہاں لڑکی کا سائیکل چلانا تو اور بھی دوبھر ہوگا۔۔۔مگر داد دینی چاہئے اس لڑکی کو جس نے وہ سب کر دکھایا جس کے لئے بہت ہمت کی ضرورت تھی۔

یہ ہیں کنزہ بتول۔۔۔جن کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے این ای ڈی میں ’سائیکل یاری‘ مہم متعارف کرائی ہے ۔ اس مہم کی کامیابی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب یونیورسٹی میں شٹل سروس ختم ہوگئی ہے اور زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات سائیکلوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ آتی جاتی ہیں۔

یہ ایک منفردسروس ہے ۔ کنزہ بتول نے جنگ کی نمائندہ سےخصوصی گفتگو میں بتایا کہ سروس کا آغاز 3 سائیکلوں سے ہوا تھا یعنی سائیکلیں استعمال کرنے والے بھی کم ہی تھے لیکن بعد میں یہ تعداد بڑھتے بڑھتے30 سائیکلوں تک پہنچی اور آج 10ہزاراسٹوڈنٹس سائیکلیں استعمال کررہے ہیں جبکہ ہر ماہ اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

وہ منظر بہت ہی سہانا لگتا ہے جب زیادہ تعداد میں رنگ برنگی اور جدید سائیکلیں ایک ساتھ ادھر ادھر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ کیمرے کی آنکھ سے دیکھیں تو بھی یہ نظارہ بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔

اس سروس کی بدولت پیٹرول کے ساتھ ساتھ قیمتی زرمبادلہ بچانے کا آغاز ہوگیا ہے۔ ماحولیات پر مثبت اثرات پڑرہے ہیں۔ یہ ایسا چراغ ہے جس نے گویا عالمی حدت کی کمی میں اپناچھوٹا سا ہی صحیح قابل ذکر کردار اداکرنا شروع کردیا ہے۔

کیمیکل انجینئر نگ سے گریجویٹ ہونے والی کنزہ بتول 3 سال پہلے این ای ڈی یو نیورسٹی میں سائیکل چلانے والی پہلی لڑکی تھیں لیکن آج اسی چراغ سے کئی نئے چراغ روشن ہورہے ہیں ۔

جنگ کی نمائندہ سے تبادلہ خیال میں کنزہ کا کہنا تھا ’’چونکہ میرا ڈپارٹمنٹ داخلی راستے سے کافی فاصلے پر تھا اورجسے طے کرنے میں مجھے بہت مشکل محسوس ہو تی تھی اس لئے ایک دن میں نے اپنی مشکل کا حل سائیکل کی شکل میں ڈھونڈ نکالا ۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ یہ سہولت ہر طالب علم کو مہیا ہونی چاہئے چنانچہ ’سائیکل یاری‘ مہم کا آغاز کیا۔‘‘

کنزہ کہتی ہیں’’میں سائیکل کلچر کو فروغ دینا چاہتی ہوں جو ہمارے معاشرے سے تقریباًختم ہوچلاہے ۔نیدر لینڈ ، چین ، بلجیم ، سوئٹزرلینڈ ، جاپان ، فن لینڈ ، جرمنی ، ناروے ، سوئیڈن اور دنیا کے بہت سے دیگر ممالک میں آج بھی اس روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے‘‘ ۔

یہ پہلو ہوسکتا ہے آپ کو حیرت انگیز لگے لیکن سچ یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان کے سائیکل پر دفتر آنے اور گھر جانے کی مثالیں آج بھی موجود ہیں۔

چین میں 37فیصد اور نیدر لینڈ یعنی ہالینڈ میں 99فیصد لوگ سائیکلوں کا استعمال کرتے ہیں ۔

کنزہ انہی اعداد شمار کا حوالے دیتے ہوئے کہتی ہیں ’’جب دنیا کے اتنے بڑے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک میں سائیکل عام ہے تو ہمارے یہاں کیوں نہیں ہوسکتی؟سائیکلنگ کا ایک فائدہ یہ بھی تو ہے کہ اس سے جسمانی ورزش ہوتی ہے اور ورزش انگنت بیماریوں کا حل ہے ۔‘‘

سائیکل سروس سےطلبہ تو مستفید ہوہی رہے ہیں اس کے فوائد دیکھتے ہوئے اساتذہ بھی اس مہم کا حصہ بن گئے ہیں جو اور بھی زیادہ خوش آئند بات ہے۔

Advertisement