نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر

Nigah E Ishq O Masti Wohi Awal Wohi Akhir

رب کائنات  قرآن حکیم میں ایمان والوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے

اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درور و سلام بھیجا کرو (سورۃ احزاب-56)

دانائے راز حضرت علامہ اقبال  فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام تر عقل اور فلسفہ دانی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ اقبال کے مطابق  عشق و مستی میں اوّل اور آخری محور ایک ہی ہستی ہیں اور وہ  نبی کریم کی ذات مبارک جو ذات ِ تجلیات ہے جو بقول حضرت عائشہ کہ

قرآن ہی ان کے اخلاق ہیں

اقبال محبت و عشق کی معراج ہی نبی کریم سے محبت کو سمجھتے ہیں 

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ

گزشتہ روز وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان میں موجود گستاخان رسول کو بڑا سخت پیغام دیا ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت و عقیدت ہر مسلمان کا قیمتی سرمایہ ہے اور آپ کی شان مبارک میں کسی بھی طرح کی گستاخی ناقابل معافی ہے اور گستاخانہ مواد پھیلانے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا، مزید برآں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بھی قرار دادیں منظور کی گئیں کہ توہین آمیز لنکس بلاک کیے جائیں اور شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دین ہے۔

بہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

  قرآن میں ایک اور جگہ  اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

اے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم!کہہ  دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تا بعداری کرو، اسی پر اقبال کا ایک بہت مشہور شعر ہے

کی محمد ﷺسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

ہمارا ایمان ہے کہ ممدوح رب العالمین، المخاطب بہ خطاب وما ارسلناک الارحمۃ للعالمین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، فخر موجودات، وجہ تخلیق کائنات، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جن پر خدا اور فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں، کسی ایک مذہب کے رسول نہیں بلکہ سب مذاہب کے لیے ہادی مطلق اور نور الہدیٰ ہیں، ان کی نبوت لازمانی و لامکانی ہے، چناں چہ ہر دور میں بلا امتیاز مذہب و ملت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گلہائے توصیف پیش کیے جاتے رہے ہیں، مغرب کے اکابر دانشور، شعرا، ادبا اور مؤرخ حضور نبی کریم کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

گوئٹے جرمنی کا ایک مشہور و معروف شاعر اور فلسفی ہے، اس نے ایک شہرہ آفاق نظم لکھی جس کا نام ہے نغمہ محمد، اس نظم میں مغرب کے اس عظیم شاعر نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے، اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایک باصفا جوئے آب سے تشبیہ دی ہے جو دنیا کے صحراؤں میں ہدایت کے نخلستاں اگاتی ہے اور الوہیت کے سمندر سے جا ملتی ہے، وہ کہتا ہے کہ اس چشمے کو دیکھو جو ستاروں کی کرنوں کی طرح ہنستا ہوا صاف شفاف چٹانوں سے نکلا ہے، بچپن میں اسے قدسیوں نے اس دنیا میں پالا جو بادلوں سے پرے ہے، شباب کی تازگی اور ولولہ لیے ہوئے وہ خرام ناز کرتا ہوا بادلوں سے نکلتا ہوا مرمریں چٹانوں سے گزرتا سرمدی بحر سے جا ملتا ہے۔

یہی وہ نظم ہے جس کا ترجمہ اقبال نے جوئے آب کے نام سے کیا، یہی نہیں وہ ہجرت کا نواں سال اور دیگر نظموں میں پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کو شان دار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہے، نظم برگزیدہ اشخاص میں وہ اپنے آپ کو جنگ بدر کے شہداء میں شمار کرتا ہے، یہ گوئٹے ہی تھا جس نے یہ کہا تھا کہ ہم سب اسلام ہی میں جیتے اور مرتے ہیں۔

نپولین بونا پاٹ سے ایک ملاقات میں گوئٹے نے اسے اپنی ایک نظم محمد سنائی تو نپولین نے اس کی بہت تعریف کی، شہنشاہ نپولین پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت مداح تھا اور اس نے والٹیئر پر سخت تنقید کی کیونکہ اس نے اسلام کی تنقیص کی تھی، یہ نپولین ہی تھا جس نے یہ کہا تھا کہ میں دنیا کے تمام ممالک کے تمام دانشوروں اور روشن خیالوں پر مشتمل ایک حکومت بنانا چاہتا ہوں جو دنیا کے امن کی ضمانت ہوگی اور یہ حکومت قرآنی اصولوں کے تحت بنے گی کیوں کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو امن اور خوشحالی کی ضامن ہے۔ یہ اقتباس ایک فرانسیسی زبان میں لکھی جانے والی کتاب بونا پارٹ ایٹ اسلام سے لیا گیا ہے جو پیرس سے 1914ء میں شائع ہوئی۔

کارلائیل اور جارج برنارڈشا جو مغرب کا بلند پایہ ڈرامہ نگار ہیں انہوں نے قرآن کا مطالعہ کر رکھا تھا، مائیکل ہارٹ نے نیو یارک سے 1978ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب دی ہنڈریڈ میں دنیا کے سو عظیم آدمیوں کی درجہ بندی کی اور پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرفہرست رکھا۔

معروف مؤرخ ایڈورڈ گبن 1870ء میں لندن سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بصیرت کی تعریف کرتا ہے، ایک اور مؤرخ لین پول ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مدح سرا ہے۔

حکومت کو فوری طور پر تمام گستاخان رسول کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تو ہمارا ایمان ہے اور انہی کی شان سے سب شانیں بنیں اور یہ کائنات وجود میں آئی۔

مصنف صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔