-----

حکومت کا پی آئی اے کی پریمیئر سروس کی ناکامی کا اعتراف

حکومت نے پی آئی اے پریمیئر سروس کی ناکامی کا اعتراف کرلیا، پریمیئر سروس پر 3ارب 90کروڑ روپے خرچ ہوئے، آمدن محض ایک ارب 80کروڑ روپے رہی۔

صرف ساڑھے 4ماہ میں 2ارب 10کروڑروپے کا نقصان پہنچایا گیا، گھاٹے کی تفصیلات ایوان میں پیش کردی گئیں، بڑے بڑے دعوے، بلند و بانگ وعدے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔

ابھی پچھلے سال ہی کی بات ہے جشن آزادی کی خوشیوں پر پی آئی سے کی پریمیئر سروس کی لانچ ہوئی اور اسے قومی ایئر لائن کی کامیابی کی جانب پرواز قرار دیا گیا۔

عالیشان، شاندار، بے مثال، باکمال یہ سارے خوبصورت لفظ اس سروس کو ایک سال بھی نہ چلا سکے اور آج ایوان میں سوال کے جواب میں اس کے تابوت کو آخری کاندھا بھی دے دیا گیا۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ہوابازی ڈویژن کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ قومی ائیر لائن کی پریمئیر سروس بھی گھاٹے کا باعث بن گئی ہے۔

ساڑھے چار ماہ کے دوران پریمئیر سروس نے 2 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا، پریمئیر سروس پر 3 ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوئے، آمدن صرف 1 ارب 80 کروڑ رہی، 14 اگست 2016ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک پریمئیر سروس کا خسارہ 2 ارب 10 کروڑ روپے رہا ہے ۔