ملک میں 90فیصد افراد دانتوں کےمسائل کاشکار

Mulk Main 90 Feesad Afraad Danton Kay Masail Ka Shikar

...راشد سعید ...
دانتوں کے امراض کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دانتوں کےامراض اور اس سےمتعلق مسائل میں روزبروز اضافہ ہورہاہے،ملک میں 90فیصدسےزائد افراد دانتوں کےمسائل کاشکار ہیں۔

کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے تحت سول اسپتال کے ڈینٹل سیکشن میں ہونے والے دو روزہ سیمپوزیم سے خطاب میں ماہرین نے کہا کہ دانتوں کے امراض کی بڑی وجہ آگہی اور شعور کا نہ ہونا ہے۔

سیمپوزیم کی مہمان خصوصی اسپیکر بلوچستان اسمبلی مس راحیلہ حمید خان درانی تھیں،اس موقع پر کراچی کے معروف ڈینٹل سرجنز نے تحقیقی مقالے پیش کئے ۔

اس موقع پر ان کا کہناتھا کہ عوام میں خاص طور پردانتوں کی بوسیدگی ،بھربھرے پن اور مسوڑھوں کی سوجن کےمسائل جنم لےرہے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہناتھاکہ بلوچستان میں دانتوں کی امراض کی صورتحال تشویشناک ہے کہ صوبے میں پینےکے پانی میں زیادہ مقدار میں پایاجانےوالا فلورائیڈ دانتوں کےلئے نقصان دہ ہے،تاہم بہترعلاج اور تکنیک کے ذریعے دانتوں کو بہت دیرتک محفوظ رکھاجاسکتاہے

پروفیسر ڈاکٹر ابراراحمدنے کہا کہ کوالٹی ٹریٹمنٹ جو دنیا میںموجود ہیں وہ یہاں آگئی ہے، وہ سسٹم یہاں ہیں، اس کے معیار کو بہتر کرنا ہے، اس سےمریضوں کو فوائد حاصل ہوں گے۔

سول اسپتال کے ڈینٹل سیکشن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرفہیم انوارنے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ ڈینٹسی کے شعبے میں ماڈرن ٹیکنکس سے بہت انقلاب آگیا ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ ہمارے شعبے میں جو ماڈرن چیزیں آئی ہیں، کوشش ہے کہ انہیں کوئٹہ میں بھی متعارف کرایا جائے۔

کوئٹہ میں سیمپوزیم کےانعقاد کو میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس نے خوب سراہا اور اپنے لئے بہت فائدہ مند قراردیا۔

طالبہ علینہ صدیقی کا کہناتھاکہ نئی ٹیکنیکس کاپتہ چلا ہے، نئی تھراپیز اور دانتوں کو کس سطح پرمحفوظ کرنا ہے۔

ماہرین کا کہناتھا کہ دانتوں کی حفاظت کےلئے ان کی صفائی ناگزیر ہےاور خاص طور پر بچوں کو شروع سےدانتوں کی صفائی کی عادت ڈالنابہت ضروری ہے۔