-----

جنا لُچا اونا اُچا

Jina Lucha Ona Ocha

ہوش سنبھالنے کے بعد بہت سی کہاوتیں اور مثالیں سنتے آئے ہیں مثلا ’جو سووت ہے وہ کھووت ہے‘ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو زیادہ سوئے گا وہ اپنا قیمتی وقت کھو دے گا۔

’پڑھو گے، لکھو گے، بنو گے نواب، کھیلو گے، کودو گے، ہو گے خراب‘ یہ بھی درست ہے کہ کھیلنے کودنے سے وقت ضائع ہوتا ہے اوربچوں کی پڑھائی متاثر ہوگی جس کا ان کے مستقبل پر برا اثر پڑتا ہے اور وہ جو کہتے ہیں کہ گزرا وقت واپس نہیں آتا تو بچے پرفیشنل زندگی میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ان مثالوں کے ساتھ پنجابی میں بھی ایک مثال سننے میں آتی ہے ’جنا لُچا اونا اُچا‘ سوچا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص لچا بھی ہو اور اونچا یا معزز آدمی بھی بن جائے،تاہم پچھلے کچھ سالوں سے ملک میں جس طرح سے بااثر لوگوں نے قومی دولت کو لوٹا اور مزید بااثر بنتے چلے گئے تو اس مثال کی حقیقت سمجھ میں آتی چلی گئی۔

ایک وقت تھا جب کسی کے سامنے یہ بات آتی کہ فلاں شخص نے رشوت لی تو رشوت لینے والا کیا شرمندہ ہوگا جو رشوت کی بات سننے والا شرمندہ ہوتا اورافسوس کرتا تھا، کیوں جب کوئی برا اقدام کرتا ہے اور اسے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو وہ برائی آہستہ آہستہ معاشرے میں پھیلنا شروع ہوجاتی ہے لیکن کوئی بھی عزت دار شخص یہ سننا پسند نہیں کرتاتھا۔

اب توحال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمانداری سے اپنا کام کرے تو اس کے ساتھی طعنہ دیتے ہیں کہ تم نے اپنی زندگی میں کیا بنایا؟ تمہارے پاس تومکان تک نہیں، بچے بھی چھوٹے موٹے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ہمارے پاس تو اپنا مکان، گاڑیاں ہیں، بچے باہر پڑھ رہے ہیں اور وہ ایماندار شخص اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے کہ تنخواہ تو میری بھی اس کے برابر ہے لیکن اوپر کی کمائی سے یہ شخص کتنی عیاشی کی زندگی گزار رہا ہے اور اسے پکڑے جانے کا بھی کوئی خوف نہیں ہے،کیوں؟ اس لیے کہ

’لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا‘

کے مصداق پہلے بھی یہ رشوت لیتے پکڑا گیا، معطل بھی ہوا اور پھر اپنی اسے سیٹ پر بحال ہو گیا۔

اب بتائیں کہ کیا ایک ایماندار شخص جس کی تنخواہ سوا لاکھ روپے ہی کیوں نہ ہو کیا وہ اپنا مکان خرید سکتا ہے؟ کئی گاڑیاں رکھ سکتا ہے؟ اس کے بچے مہنگے اسکولوں میں پڑھ سکتے ہیں؟ جی نہیں اس تنخواہ میں وہ ایمانداری سے زندگی تو گزار سکتا ہے، لیکن اپنا گھر نہیں بنواسکتا، قیمتی گاڑی نہیں رکھ سکتا اوروہ بچے باہر نہیں پڑھا سکتا تواس کے برابرعہدے اور تنخواہ والا شخص کس طرح یہ تمام مراعات سے لطف اندوز ہوسکتا ہے؟ اور یہ سب کچھ ہمارے آس پاس ہو رہا ہے لوگ اپنی آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہماری آنکھوں کے سامنے خرچ کر رہے ہیں،لیکن ہمارے ادارے ہیں کہ چپ سادھے بیٹھے ہیں۔

یہ ادارے چند لاکھ کی کرپشن والے کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پکڑ کر جیل کی ہوا کھلانے کی مہارت رکھتے ہیں، چند لاکھ کی کرپشن والا ہاتھ آجائے تو تین سال ضمانت بھی نہیں ہوتی اور اربوں کی کرپشن کرنے والے دندناتے بھرتے ہیں ، وہ بلوچستان کا بیورو کریٹ ہو یا سیاستداں، سندھ کی با اثر شخصیات ہوں یا ایان علی، پنجاب کے مراعات یافتہ ہوں یا سیاسی پنڈت، خیبر پختونخوا کے بااثر لوگ ہوں یا گورنمنٹ سرونٹس، اس حمام میں سب ہی،،،،،،

تقریباً چالیس سال پہلے حکومت میں شامل شخصیات کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ کوئی وزیر کرپٹ نہیں ہے، ایک وزیر کے بارے میں الزام سامنے آیا تو لوگوں نے اس کی پارٹی پر لان تان کے پہاڑ گرا دیے، لیکن اب تو حال یہ ہے کہ ہر دوسرے نہیں تو تیسرے سیاستدان یا سرکاری افسر پر کرپشن کا الزام سامنے آتا ہے لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ ڈرے بھی تو کس سے؟ اسے معلوم ہے کہ پکڑے گئے تو دلاور فگار کا شعر یاد کر لیتا ہے کہ 'لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا اور اب تو نیب کے قوانین موجود ہیں جس میں کچھ لے دے کر بات بن جاتی ہے اور پھر قسطیں کروا کے ایک قسط دو باقی گول، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

استعفیٰ دینا تو دور کی بات ایسی شخصیات کے ساتھی اسے فرشتہ ثابت کرنے کیلئے طرح طرح کے بیانات دیتے ہیں، لاتعداد ایسے لوگ ہیں جو زمینوں پر قبضہ کرنےکیلئے کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار بن جاتے ہیں، اگر غلطی سے ایسے سیاسی رہنما کے خلاف کارروائی شروع ہو تو پوری سیاسی جماعت اسے انتقامی کارروائی کا نتیجہ قرار دے دیتی ہے اور جمہوریت خطرے میں آ جاتی ہے،چوں کہ حکومتی ارکان خود اس قسم کے بیانات اپنے رہنماؤں کے حق میں دیتے رہے ہیں تو وہ بھی اپنی جان چھڑاتے ہوئے مزید کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔

ایک دل دہلا دینے والی خبر سنی کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دست راست سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین کی 479 ارب روپے کی کرپشن اور دہشت گردوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے مقدمات میں ضمانت ہو گئی، اسپتال سے انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ روانہ کیا گیا۔

شرجیل میمن پر اربوں روپے کرپشن کا الزام لگا اور کیس شروع ہوگیا، مقدمات سے پہلے ہی وہ پاکستان سے روانہ ہو گئے جہاں وہ کئی ماہ قیام کے بعد واپس پہنچے اور ان کی عدالت سے حفاظتی ضمانت منظور ہوگئی، پاناما کیس میں نواز شریف کے خاندان پر پیسے باہر منتقل کرکے پراپرٹی خریدنے کا الزام لگا، عدالت میں کیس چلا اور ان کے سامنے عجیب و غریب کاغذات لاکر رکھ دیئے گئے، ان مقدمات کا فیصلہ محفوظ ہے جس کا سب کو شدت سے انتظار ہے۔

یہی نہیں ہم آصف علی زرداری کے سوئس بینک میں 6 ارب روپے واپس لانے کے بیانات سنتے آ رہے ہیں، مسلم لیگ ن اس رقم کو پاکستان واپس لانے کے بلند و باگ دعوے کرتی رہی لیکن نہ پیسے آیا اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔

اسی طرح ایک سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور ڈائریکٹر حج کو کرپشن پرسنگین الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا لیکن یہ الزامات بھی بس الزامات ہی کی حد تک رہے اور انہیں مقدمے میں با عزت بری کر دیا گیا۔

پارلیمنٹ میں نیب کے خلاف باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن اس کی بہتری کے لیے قانون سازی نہیں کی جاتی، یہ تو اربوں روپے کرپشن کی صرف چند مثالیں ہیں جن میں الزامات ثابت نہیں ہو سکے اور ملک کا قیمتی خزانہ لوگوں کے بینکوں میں منتقل ہو گیا، اس میں قصور وار ہے تو نیب، ایف آئی اے، پولیس، ایف بی آر اور دیگر ادارے جو عدالتوں میں الزامات کو ثابت نہیں کر پاتے، قصور ہے تو حکومت وقت کا جنہوں نے ان اداروں میں نااہل اور من پسند افراد تعینات کیے،عدالت کے سامنے جب ثبوت ہی نہیں جائیں گے تو عدالت ملزمان کو تمام عمر جیل میں رکھنے کے احکامات تو جاری نہیں کر سکتی۔

دکھ اس بات کا ہے کہ اتنے سنگین الزامات کے تحت ضمانت ہونے یا بری ہونے کے باوجود حکومت نے کسی بھی ذمہ دار ادارے کے سربراہ کو فارغ نہیں کیا اور نہ ہی شوکاز نوٹس جاری کیا، ایسے افسران کے خلاف نہ ہی کوئی تادیبی کارروائی کی گئی نہ برطرف کیا گیا، سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ثبوت نہیں تھا تو ان شخصیات کو گرفتار کیوں کیا گیا؟ اور اگر گرفتار کیا گیا تو وہ چھوٹ کس طرح گئے؟ اگر بے گناہ گرفتار کیا گیا تو گرفتار کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟

غرض جو حالات سامنے آرہے ہیں میرا دل بھی لچا بننے کو چاہ رہا ہے اور کیوں نہ چاہے جب لچا بنوں گا تو اونچا بنوں گا، کوئی ہے جو مجھے کرپشن کے ذریعے دو تین ارب روپے دلوا دے، پھر میں بھی تھوڑے سے پیسے واپس کر کے بری ہو جاؤں یا زیادہ سے زیادہ مجھے ڈیڑھ دو سال کیلئے جیل بھیج دیا جائے، یہ عرصہ میں اسپتال میں گزاروں یا جیل میں رہ کر کوئی کتاب لکھوں اور لکھاری بھی کہلاؤں ۔

سب باتیں ایک طرف، تمام لوگ یاد رکھیں کہ چاہے وہ بدعنوانی کر کے اربوں روپے کمالیں اور ملک کے خزانے پر ڈاکا مار کر اپنے بینک میں منتقل کر دیں، لچا لچا ہی ہوتا ہے، کبھی شریف نہیں بن سکتا، لچے کو برے نام سے ہی یاد کیا جائے گا اورتاریخ میں اسے عزت کا مقام کبھی نہیں مل سکے گا، ایسے لوگوں کو کیا معلوم کہ شرف النفس اور ایماندار ہونے کی لذت کیا ہوتی ہے اور پھر سب سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کو رزق حلال کھلانے کا پھل ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، بصورت دیگر 'جیسا کرو گے، ویسا بھروگے اور یہی قدرت کا قانون ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔