-----

سیاسی گمشدگیوں کا کیس

Siyasi Gumshidgiyon Ka Case

حکومت سندھ شاید پہلی بار وزیر اعظم نوازشریف کو خوش آمدید نہیں کہے گی جب کہ وہ دو ماہ میں تیسری بار ایک اور عوامی اجتماع کے لیےسندھ آرہے ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کے منیجر اور دو دیگر افراد کی گمشدگی کے باعث مرکز اور سندھ کے درمیان تنائو محاذآرائی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اسے اس تناظر میں دیکھا جارہا ہےکہ پیپلز پارٹی لیڈر کو کسی مبینہ کرپشن یا فوجداری مقدمے میں ملوث کیا جائے گا۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی لیڈرشپ واضح پیغام دے چکی ہے کیوں کہ وزیرا عظم کے پے در پے دورے ظاہر کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت اب پیپلز پارٹی مخالف گروہو ں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے فعال ہے اور نواز شریف اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔

سندھ میں گمشد گی کا مسئلہ پرانا ہے ، اس معاملے نے حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کو ہلا کررکھ دیا ہے۔اس مرتبہ ردعمل بھی دو سال قبل کے مقابلے میںزیادہ ہوگا، جب زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کیا گیا تھا۔پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے مرکز کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی ہے، ممکن ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔عبدالقادر مری، اشفاق لغاری سندھ سے لاپتہ ہوئےجب کہ نواز لغاری اسلام آباد سے، جس پر پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پر الزام عائد کیا کہ اس کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ان کے کیسز بظاہر مرکز اور سندھ کے درمیان بڑھتے تنائوسے متعلق لگتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں رہا ہوکر اپنے گھروں پر پہنچ جائیں۔چاہے وہ مراد علی شاہ ہوں یا سید قائم علی شاہ پیغام واضح ہے کہ کراچی آپریشن کے مختلف رخ ہیں۔

ادھر وفاقی وزارت داخلہ نے اس مسئلے پر جن میں سے ایک اسلام آباد کی حدود میں وقوع پذیر ہوا ہے،کوئی واضح بیان نہیں دیا ہے۔گو کہ نواب لغاری وزیر اعلیٰ کے سابق مشیر تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غالباً انہیں ماضی کے مقدمات کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہو۔پیپلز پارٹی احتجاج کا اعلان کرسکتی ہے کیوں کہ ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی عدالت میں پیش کیے جانے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔جب کہ ان کے گھروالوں نے متعلقہ عدالتوں میں پٹیشن بھی دائر کردی ہے۔

پیپلز پارٹی رہنمائوں نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی جماعت جیسے کو تیسا کی پالیسی پر عمل پیرا ہوسکتی ہے۔جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حال ہی میںوفاقی ایجنسیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ مداخلت سے باز نہ آئے تو وہ انہیں واپس جانے کا کہہ سکتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں یا نہیں۔انہوں نے غصے کی حالت میں کہا تھا کہ ہمیں 90 کی دہائی کی سیاست میں نہ لے جایا جائےکیوں کہ ہم ماضی کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔ان کا اور پیپلز پارٹی کا ردعمل سمجھ میں آتا ہے، تاہم کیا وہ جانتے ہیں کہ کتنے لوگ گمشدہ ہیں اور عدالت میں کتنی پٹیشن زیر التواء ہیں۔جب کہ حکومت سندھ کے عمل سے لگتا ہے کہ انہیں ایسے مقدمات کا کوئی علم نہیں ہے۔

حالیہ گمشدگیوں پر پیپلز پارٹی کا فوری ردعمل مجھے معروف جرمن نظم’’جب وہ میرے لیے آئے‘‘ کی یاد دلاتا ہے۔جس کا آخری مصرعہ یہ تھا’’ جب وہ میرے لیے آئے،اس وقت میرے حق میں بولنے کے لیےکوئی نہیں بچا تھا‘‘۔گمشدہ اور لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ پاکستا ن میں خاصہ حساس نوعیت کا سمجھا جاتا ہے۔تاہم وہی لوگ اس درد کومحسوس کرسکتے ہیں، جن کے اپنے لاپتہ ہوئے ہوں۔ان کے تحفظات ہمیشہ ان کے محفوظ ہونے سے متعلق ہوتے ہیں۔

قانون کے تحت ، اگر کسی مشتبہ شخص کو پولیس یا قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ حراست میں لیتا ہے تو اسے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے، جب کہ اس کے چارج شیٹ عدا لت میں دو ہفتے  کے اندر پیش کی جاتی ہے۔عملی طور پر یہ تمام قوانین صرف دستاویزات کی حد تک ہیں۔تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت سندھ کو پہلی بارگزشتہ تین برسوں کے دوران ہونے والی گمشدگیکے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جب کہ سندھ میں یہ ایک پرانی کہانی ہے اور بہت سے کیسز میں صوبائی حکومتیںپولیس کے ساتھ ہوتی ہیں۔

گمشدگی کے کیسز میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ اس کے طریقہ کار کا ہے کہ کیسے مدعی کی کہانی کی تصدیق کی جائے۔ایک بار اگر پولیس یا ایجنسیاںانکار کردیں کہ انہوں نے مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے تو اس کا بوجھ واپس متاثرہ پارٹی پر آجاتا ہے۔جب کبھی پولیس کسی مشتبہ شخص کو پیش بھی کرتی ہےتو وہ اس نظریئے کے ساتھ آتی ہے کہ اسے 24گھنٹے قبل حراست میں لیا گیا تھا۔یہ مسئلہ اس وقت بھی حل نہیں ہوسکاجب ایجنسیوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص کو کسی بھی عدالت میں پیش کیے بغیر90روز تک حراست میںرکھ سکتی ہیں۔

سندھ پولیس نے ماضی کے سیکڑوں مقدمات میں گمشدہ افراد کے بارے میں معلومات سے انکار کیا، ایسا ہی وفاقی ایجنسیوں نے بھی کیا۔تاہم یہ کیس اس لیے مختلف ہے کہ مری اور لغاری دونوں کو سندھ سے غائب یا حراست میں لیا گیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔تو انہیں کس نے حراست میں لیا ہے اور متعلقہ تھانے کو اس کی تفصیلات کیوں نہیں معلوم۔لہٰذاجب قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک قانون پاس کیا ہے، جس کے تحت حکام پابند ہیں کہ وہ مشتبہ شخص کو 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کریں، شاید وہ بھول گئے تھے کہ یہ ایک پرانا قانون ہے اور جوقانون پارلیمنٹ میں پاس ہوا ہےوہ فوجی عدالتوں سے متعلق ہے۔

گمشدگی کے مقدمات میں گھروالوں کو سب سے زیادہ پریشانی، گمشدہ شخص کے محفوظ ہونے نہ ہونے سے متعلق ہوتی ہے کہ آیا وہ زندہ بھی ہے یا مرچکا ہے۔ایسا معاشرہ جہاں حکومت یا حکمران جماعت کے افراد ہی غائب ہونا شروع ہوجائیں تو عام افراد کے گھروالے کہاں جائیں گے۔ہمارے معاشرے میں جہاں گمشدہ افراد کی اسٹوری کچھ وقت بعد بھلادی جاتی ہے، خاص طور پر جب وہ کوئی ہائی پروفائل کیس نہ ہو کیوں کہ ہمارے معاشرے میں ایسی خبروں پر شازو ناد ر ہی ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے۔

اب اس کی وجہ خوف ہےیا ان معاملات پر مختلف النوع رویہ۔مثال کے طور پرگزشتہ ہفتےایک پولیس افسر نے گمشدگی کے ایک کیس میں جو ایک ماں کی جانب سے اپنے دو بیٹوںکے متعلق دائر کیا گیا تھا۔اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک سنسنی خیز انکشاف کیا گیا کہ کراچی کے ایک قبرستا ن میں1986 سے دفنائے گئے 86ہزارمیتوں میں سے 80ہزار کے لگ بھگ کی اب تک تشخیص نہیں ہوئی ہے اور ان کی تفصیلات ایدھی سینٹر کے پاس موجود ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس افسر نے اس رپورٹ کو گمشدہ افراد کے کیس کے ساتھ کیوں فائل کیا۔اس سے متاثرہ خاندان کے جذبات مزید مجروح ہوں گے۔80 ہزار ناقابل شناخت لاشوں کا کیا مطلب ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ 31برسوں میںپولیس کے پاس زیر التواء رپورٹیں  اور ان کے گھروالے اب بھی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس کیس کے نتیجے سے ہٹ کر ، یہ صاف ظاہر ہے کہ ایسے خاندان جن کا کوئی چاہنے والا گمشدہ ہےوہ ایدھی سینٹر جائے کہ کم از کم اس کا ڈی این اے ان سے ملتا ہے یا نہیں۔یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ وہ لاشیں جن میں بم بلاسٹ میں ہونے والی ہلاکتیں، حادثات، ٹارگٹ کلنگ، چھینا جھپٹی یا گمشدگی کے مقدمات سے متعلق ہوں۔

کراچی میں ہر طرح کے پرتشدد واقعات ہوتے ہیں ان میں نسلی، فرقہ وارانہ، سیاسی، ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔رپورٹ میں جو دورانیہ بیان کیا گیا ہے وہ بھی بہت پرتشدد تھا۔جس کے بعد فوج، پولیس اور رینجرز کی جانب سے یکے بعد دیگرے آپریشنز ہوئے۔سندھ پولیس کا انکشاف اہمیت کا حامل تھا کیوں کہ عدالت میں گمشدگی کے بہت سی پٹیشنز زیر التواء ہیں۔میرا ایک یونیورسٹی کا دوست گزشتہ ماہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنے کسی فیملی فرینڈ کے متعلق بتایا کہ ان کا بیٹا2015 سے لاپتہ ہے۔انہیں صرف اس بات کی فکر تھی کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کیوں کہ نہ ہی پولیس نے اور نہ ہی رینجرز نے اس با ت کی تصدیق کی تھی۔

کچھ کیسز میں ایجنسیاں مشتبہ افراد کو تفتیش اور تحقیقات کے لیے پولیس کے حوالے کردیتی ہے اور کچھ کیسز میںجب ٹھوس شواہد نہ ملیں تو وہ مشتبہ افراد کو رہا کردیتی ہے تاہم انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ اسے عدالت میں چیلنج نہیں کریں گے۔ہوسکتا ہے کہ ہم جلد ہی مری اور دو لغاریوں کے مسئلے کا ڈراپ سین جلد دیکھ لیں تاہم گمشدگی کے مقدمات کئی افراد کے لیے باعث تشویش رہیں گے۔

70 کی دہائی میں میں نے ایک ہالی وڈ فلم دیکھی تھی، جس کا نام ’’دی مسنگ‘‘ تھاجو کہ ایک سچی کہانی پر مبنی تھی، اس میں ایک سرمایہ کار کا بیٹا لاپتہ ہوجاتا ہے۔وہ اس کی تلاش شروع کردیتا ہے، ایک دن اسے بتایا جاتا ہے کہ اسے قتل کیا جاچکا ہے۔وہ امریکی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کرتا ہے۔پھر اس مقدمے کو ’’کلاسیفائڈ‘‘قرار دے کر بند کردیا جاتا ہے۔10اپریل کے روز 1973کے آئین کی 45ویں سالگرہ منائی گئی۔ان تمام برسوں میںنہ ہی آئین اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکا اور نہ ہی اپنے شہریوں کی حفاظت کرسکا۔