Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
12 اپریل ، 2017

گنگا جمنی تہذیب اور یوگی آدیتیہ ناتھ

گنگا جمنی تہذیب اور یوگی آدیتیہ ناتھ

How Dictators Come To Power In A Democracy

یہ عنوان تھا جم پاؤل کے تحقیقاتی مضمون کا، معروف امریکی دانشور اور مصنف نے یہ تحقیقی مضمون 2013ء میں تحریر کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، اس مضمون میں جم پاؤل نے ہٹلر کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ثابت کیا کہ جب جمہوریت میں رہنے والوں کی اکثریت حالات سے بالکل مایوس ہو جائے توبعض اوقات ایسے دیوانوں کو اپنی حمایت دے دیتی ہے جنہیں عام حالات میں پذایرائی نہیں مل سکتی، جم پاؤل کی یہ تحقیق آج بھی صادق ہے۔

بھارت میں2014ء کے انتخابات میں نندر مودی اورامریکا میں 2016ء کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جم پاؤل کا تجزیہ درست ہے، اب اس تجزیے کی صداقت بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بھی درست ہوتی نظر آرہی ہے۔

یو پی بھارت کی سب سے کثیر آبادی والی ریاست ہے، یہاں بھی جمہوریت ہی کے با عث ایک ایسا شخص اس ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے میں کامیا ب ہو گیا ہے جس کو دنیا کا کوئی بھی غیر جانبدارشخص ذہنی اعتبار سے ایک متوازن انسان قرار نہیں دے سکتا۔

ٹھاکر اجے سنگھ بشٹ عرف یوگی آدیتیہ ناتھ نامی اس شخص کو جاننے کےلیے یہ چند جملے ہی کافی ہیں کہ جو انہوں نے مختلف جلسوں اور پروگراموں میں کہے کہ ’’مسلمانوں کو سزا دینے کی خاطر ان کی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں‘‘ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’’بھگوان گنیش کی مورتی ہر مسجد میں رکھیں گے، شاہ رخ اور حافظ سعیدکی باتوں میں کوئی فرق نہیں، اگر بڑی تعداد میں لوگوں نے شاہ رخ کی فلموں کا با ئیکاٹ کر دیا تو وہ بھی عام مسلمانوں کی طرح بھارت کے گلی محلوں میں دھکے کھائے گا‘‘۔

یوپی اور اس کے اطراف کی تہذیب کو ہندو یا مسلم تہذیب کی بجائے گنگا جمنی تہذیب کہا جا تا ہے اور ان باتوں پرکوئی بھی معتدل شخص یہ سمجھنے سے قاصر ہےکہ ایسے منفی اور انتہائی متعصب ذہن رکھنے والے شخص کو اتر پردیش جیسی تنوع کی حامل ریاست کا وزیر اعلیٰ کیوں کر بنایا گیا، اگر اترپردیش کی 90 یا 95فیصد آبادی ہندو ہوتی تو اس با ت پر شاید کوئی کان بھی نہ دھرتا مگر یوپی میں 20فیصد مسلمانوں کے ساتھ جین مت، بدھ مت اور عیسائیوں کی بھی قابل ذکر تعداد صدیوں سے رہ رہی ہے۔

اترپردیش میں آگرہ تاج محل، لکھنؤ، فتح پور سیکری، علی گڑھ، بریلی اور دیو بند سمیت کئی علاقوں میں مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کے ایسے انمٹ نقوش ہیں جن کا ذکرخود ہندو بھی بڑے فخر سے کرتے ہیں۔

اترپردیش کی انتخابی مہم کے دوران جہاں ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی ترقی اور خوشحالی کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیتے رہے ہیں، وہیں جب قبر ستان کے ساتھ شمشان کا ذکر کیا اور بی جے پی کی جانب سے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ دیا تو کئی حلقوں کی جانب سے یہ بات کی جاتی رہی کہ مودی گجرات کی طرح اتر پردیش میں بھی ’ہندوتوا‘ کا تجربہ کرنا چاہ رہے ہیں، اب یوگی آدیتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنانے سے واضح ہو گیا ہے کہ مودی کا اصل ایجنڈا یہی ہے، ورنہ اتر پردیش کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا جاتا جو رام مندر اور ہندو راشٹر کےلیے مسلمانوں سے لڑنے کے بجائے غربت، بے روزگاری، لا قانونیت، غنڈہ گردی اور کرپشن سے لڑنے کی بات کرتا،یوگی آدیتیہ ناتھ کا ان سب معاملات پر کوئی تجربہ نہیں ۔

یوگی 5 مرتبہ گورکھ پورسے لوک سبھا کے رکن ضرور منتخب ہوئے مگر لوک سبھا میں یوگی کی زیا دہ تر دلچسپی ’گاؤ رکشھا‘ اور مندروں کی حفاظت جیسے مذہبی معاملات تک ہی رہی، وزیر اعلیٰ کے طور پر یوگی کا چناؤ اس لیے بھی حیران کن رہا ہے کہ اس سے پہلے مودی نے جتنی بھی ریاستوں میں بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ چنے تو خیال رکھا کہ کسی طاقتور شخص کو کسی بھی ریاست کا وز یراعلیٰ نہ بنا یا جائے جو مستقبل میں مودی کی قیادت کو چیلنج کر سکے، مثلاً گجرات جیسی قدامت پسند ہندو اکثریتی ریاست میں جین مت سے تعلق رکھنے والے وجے روپانی اور جھاڑ کھنڈ جیسی قبائلی ریاست میں رگھوبھر داس کو چنا جو تیلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں، ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنی ریاست میں تشخص کی بنیاد پر حمایت نہیں رکھتا۔

یوپی میں یوگی آدیتیہ ناتھ کاتعلق ٹھاکروں کے خاندان سے ہے اور ٹھاکروں کا یوپی کی سیاست میں اہم مقام ہے، 2007ء میں یوپی کے ریاستی انتخابات میں یوگی آدیتیہ نے ہندو مہا سبھا کے ٹکٹ پر اپنے حامیوں کو بی جے پی کے خلاف انتخابات لڑوائے۔

تجز یہ نگا روں کی اکثریت کے مطابق نریندرمودی نے ایسے شخص کو یوپی کا وزیر اعلیٰ بنا کر یہ خطرہ اس لیے مول لیا کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یوپی میں اگر کو ئی شخص ہندوتوا ایجنڈا پر عمل کر واسکتا ہے تو وہ یوگی آدیتیہ ناتھ ہی ہیں۔

اس بات سے قطع نظر کہ یوگی آدیتیہ ناتھ یوپی میں ہندوتوا کا ایجنڈا پورا کروا پائیں گے یا نہیں ایک با ت یقینی ہے کہ یوپی جیسی کثیر رنگی ریاست پر اگر دوسرے رنگ مٹا کر صرف زعفرانی رنگ تھوپنے کی کوشش کی گئی تو اس سے نہ صرف یوپی بلکہ پورے بھارت میں مذہبی تصادم اور فسادات کے شدید خطرات پیدا ہو جائیں گے۔

Advertisement