-----

وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے، جسٹس گلزار کا اختلافی نوٹ

Wazeer E Azam Sadiq O Ameen Nahi Rahe Justice Gulzar Ka Iktilafi Note

پاناما کیس کے فیصلے میں جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے، انہیں وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دیا جاتا ہے، حسین تو چھوٹے تھے، آف شور کمپنیاں اور لندن کے فلیٹ اصل میں نواز شریف کے ہیں جن کی تفصیلات انہوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیں۔

جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ نواز شریف نے لندن فیلٹس کی ملکیت کا اپنی قومی اسمبلی کی تقریر میں اعتراف کیا، مگر وزیراعظم نے وہ ذرائع نہیں بتائے جن سے فلیٹس خریدے گئے،نواز شریف نے قومی اسمبلی اور قوم سے تقریرمیں لندن میں موجود جائیدادسے انکارنہیں کیا، لیکن الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے اثاثہ جات کی تفصیل اور گوشواروں میں ان کا ذکر بھی نہیں کیا،کہا گیا لندن کے فلیٹس حسین نواز کے ہیں، مگر جب یہ خریدے گئے حسین تو بہت چھوٹے تھے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ لنڈن کے فلیٹس گلف اور عزیزیہ اسٹیل مل بیچ کر خریدے گئے، لیکن ہمارے سامنے جو دستاویزات ہیں وہ دوسری کہانی بتاتی ہیں، پاکستانی عوام کا یہ حق ہے کہ اپنے حکمران کے اثاثوں کی تفصیلات جانیں،جب سپریم کورٹ نے تفصیلات مانگیں تو نواز شریف نے صرف اتنا کہہ دیا کہ ان کا لندن کے فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں،اعلیٰ عدلیہ کے آگے یہ بیان وضاحت طلب ہے، خصوصاً جب وزیر اعظم کے صادق اور امین ہونے کا سوال ہو۔

جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ آئس لینڈ اور یوکرین کے وزائے اعظم، اسپین کے وزیر صنعت نے پاناما لیکس میں نام ہونے کے باعث استعفے دیے،قطری شہزادے کے خط میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ لندن کے فلیٹس الثانی فیملی نے خریدے،ان فلیٹس کی رقم کیسے ادا کی گئی اس سے متعلق بھی کوئی تفصیلات نہیں،کس نے آف شور کمپنیاں بنائیں اس سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ لندن کے فلیٹس نواز شریف اور ان کی فیملی کے ہیں اور انہی کی ملکیت میں رہے، یہ لوگ ہی گھر کا رینٹ دیتے رہے۔