-----

لندن فلیٹوں کی انکوائری کی ضرورت ہے، جسٹس اعجازالاحسن

London Flaton Sameit Har Muamlay Ki Inquiry Ki Zarorat Hai Justice Aijaz Ul Hassan

پاناما کیس کے فیصلے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے رائے دی ہے کہ مے فیئر فلیٹس کی ملکیت سمیت ہر معاملے کی انکوائری کی ضرورت ہے، جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی جائے، رپورٹ آئے گی تبھی وزیر اعظم کی نا اہلی سے متعلق فیصلہ ہو گا۔

پانچ رکنی بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے 219 صفحات پر مشتمل اپنی رائے دی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ فریقین کے وکلا وضاحت نہ کر سکے کہ مرحوم میاں محمد شریف اور الثانی خاندان کے درمیان کن شرائط کے تحت کاروباری معاہدہ طے پایا؟ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ قطر میں 12 ملین درہم کی سرمایہ کاری نقد رقم کی صورت میں کی گئی اور اس کی کوئی دستاویز موجود نہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے احتساب کا سامنا اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے، ضروری تھا کہ وزیراعظم اپنے اور خاندان پر لگائے گئے الزامات کی صفائی پیش کرنے کے لیے تمام معلومات عدالت کے سامنے رکھتے، مگر درست حقائق اور دستاویزی ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھنے کے بجائے غیر واضح اور مبہم جو اب دیا گیا، تیکنیکی بنیادوں کے پیچھے پناہ لی گئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا ہے کہ مے فیئر فلیٹس کی ملکیت سمیت تمام معاملے کی انکوائری کی ضرورت ہے، نیب کا رویہ جانبدارانہ ہے، اس لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی جائے،رپورٹ آئے گی تو تبھی وزیر اعظم کی نا اہلی سے متعلق فیصلہ ہو گا ،وزیراعظم اور ان کے بچے حسن اور حسین نواز تحقیقات میں تعاون کریں، ضرورت پڑنے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش بھی ہوں۔