Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
20 اپریل ، 2017

سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ اور جذباتیت کی شکست

سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ اور جذباتیت کی شکست

دو ماہ کے انتظار کے بعد سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ آ گیا، اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقل، استدلال اور عزم کی فتح ہے اور جذباتیت کی عبرت ناک شکست ہے۔

یوں محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان میں پاناما کے علاوہ اور کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے جب کہ ہمارا ازلی دشمن ہر روز ہمارے گھیرا تنگ کر رہا ہے، عدلیہ اور فوج دونوں ہی قومی سلامتی کے ادارے ہیں اور عالمی منظر نامہ سے بخوبی آگاہ ہیں، اگر سوشل میڈیا کے جذباتی دانشوروں کی جذباتیت کو بنیاد بنایا جاتا تو پھر ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

اگر فارن آفس ان کی جذباتیت کے پیچھے چل پڑے تو پاک بھارت جنگ کب کی شروع ہو چکی ہوتی بلکہ ہم امریکا پر بھی حملہ کر چکے ہوتے، اب ان جسمانی طور پر بظاہر بالغ اور عقلی اور شعوری نا بالغوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنا فیصلہ مسلط کر دیتے ہیں اس کے بعد عدالتوں، فوجی پالیسی سازوں اور حکمت عملی بنانے والوں پر گویا فرض ہے کہ ان کا فیصلہ مانیں وگرنہ ایسی ایسی گالیاں پڑیں گی کہ خدا کی پناہ، خیر ایسے ذہنی نابالغ افراد ہر معاشرے میں ہوتے ہیں اور عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں اور اپنا کام جاری رکھا جائے کیونکہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہم اپنے رب کے آگے جواب دہ ہیں، نہ کہ ان نو آموز مفکروں کی کالمی عدالتوں کے۔

فیصلے کے بعد زندہ دلان لاہور سڑکوں پر نکل آئے اور ’میاں دے نعرے وجن دے‘ کے نعرے لگا کر گویا مخالفین کی بولتی بند کر دی، لاہور میں ن لیگی ورکر مٹھائیاں بانٹ کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے، شام تک اکثر دکانوں پر مٹھائی ختم ہو چکی تھی، پنجاب میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک مسلمہ ہے، دو روز پہلے چکوال کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، لاہور کے علاوہ ملتان، فیصل آباد، قصور، سیالکوٹ، سرگودھا، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، حیدر آباد، نواب شاہ سمیت کئی شہروں میں ن لیگ کے کارکنوں نے جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔

فیصلے کے بعد وزیر اعظم نے اپنی بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سرخرو کیا ہے، اس موقع پر ان کی صاحبزادی مریم اور بھائی شہباز شریف کے چہرے بھی خوشی اور مسرت سے دمک رہے تھے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے پاناما کیس پر تقریباً ساڑھے 5سوصفحات پر مشتمل فیصلے اپنے  میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیانات میں سنجیدہ تضادات کا ذکر کیا ہے اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم  بنانے کا حکم دیا ہے جس میں وزیر اعظم اپنے صاحبزادوں کےہمراہ پیش ہوں گے۔

قانون کے ماہر ہمارے چند دوستوں کی رائے میں اس تاریخ ساز فیصلے میں واضح ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے اب آرٹیکل 62/63 کے حوالے سے وزیر اعظم کی تقریر کا معاملہ نہیں ہو گا، اسی طرح وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز  کا اپنے والد کے زیر کفالت اور آف شور کمپنیوں کی بینیفیشل والا معاملہ بھی ختم ہو گیا ہے، اس کو بھی جی آئی ٹی انکوائری کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

مزید برآں سپریم کورٹ نے لندن فلیٹس کے حوالے سے انکوائری کا دائرہ بھی محدود کیا ہے، میرے خیال میں قانون کو جانے بغیر،تاریخ پڑھے بغیر، بین الاقومی سیاست اور حالات حاضرہ کو سمجھے بغیر ان بونے اذہان کے حامل دانشوروں کو اپنی تعفن زدہ بدبو دار سوچ کو اب اپنے تک ہی محدود کر لینا چاہیے، یہ بے چارے صبح و شام جمہوریت کا مذاق اڑاتے ہیں۔

یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ دن رات اناپ شناپ بولنے اور لکھنے والوں ،لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے والوں کو برداشت کر کے بھی مسکرا ر ہے ہیں، یاد رکھیں بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)

Advertisement