Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
24 اپریل ، 2017

سیاسی اخلاقیات کا سوال

سیاسی اخلاقیات کا سوال

سیاسی اخلاقیات ایک اضافی اصطلاح ہے اور صرف سیاستدانوں اور حکمرانوں کی کرپشن تک محدود نہیں، ہمارے جیسے معاشرے اور قوم کی افزائش کے لئے اخلاقی سوالات اہمیت رکھتے ہیں جو مجموعی طور پر سیاسی اور دانشورانہ طور پر بدعنوان ہے۔ اگر وزیراعظم نواز شریف اپریل 2016  میں اس وقت اپنا عہدہ چھوڑ دیتے جب پہلی مرتبہ ان کے بچوں کے نام پاناما پیپرز میں سامنے آئے تھے اور وہ خود کو کلیئر کرالیتے تو وہ دوسروں کو پیروی کرنے کے لئے ایک اچھی مثال قائم کر سکتے تھے لیکن اب ان کے استعفے کا مطالبہ ایسے سیاست دانوں کی جانب سے بھی کیا جارہاہے جو خود سیاست میں اعلیٰ اخلاقی معیار پر پورے نہیں اترتے لہذا یہ طرز عمل بذات خود ایک تضاد ہے۔

آج سیاسی اخلاقیات کا معیار قائم کرنےیا بدعنوانی کے خاتمے کےلئے اقدام کے بجائے وزیر اعظم کو ہٹانے پر زیادہ سیاست ہورہی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو اہم اپوزیشن رہنما ہیں، نواز شریف سے اخلاقی بنیاد پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسری جانب برسوں تک نوازشریف سے وابستہ رہنے والے سابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کو قبول کرلیتے ہیں تو انہوں نے کوئی نظیر قائم نہیں کی۔ اسی طرح نواز شریف سابق فوجی آمر پرویز مشرف پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں اور ان سے 6-7  برس تک وابستہ رہنے والے افراد کو قبول بھی کرلیتے ہیںوہ بھی سیاسی اخلاقیات سے محروم ہوجاتے ہیں۔

ہماری سیاست میں’’لوٹا کلچر‘‘ کاخاتمہ تاحال نہ ہوسکا باوجود اس کے کہ اس کلچر کی حوصلہ شکنی کے لئے کچھ اچھی قانون سازی بھی ہوچکی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی فلسفہ ’’سیاست امکانات کا کھیل ہے‘‘ واضح طور پر یہ تشریح کرتا ہے کہ سیاست میں اخلاقیات اور سمجھوتے دو مختلف چیزیں ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی لغت میں سیاسی اخلاقیات انہیں این آر او اور سیاسی لوٹوںکو قبول کرنے سے نہیں روکتی۔ وہ اس طرح کے سوالات کو زمینی حقائق سے جوڑتے ہیں۔

لہٰذا وہ ان لوگوں کو بھی معاف کر دیتے ہیں جن پر کبھی وہ بھٹو کے قاتل ہونے کا شک کیا کرتے تھے اور ان سے بھی مصالحت کر لیتے ہیں جن کا بےنظیر بھٹو نے اپنے خط / ایف آئی آر میں 18 اکتوبر 2007 کے جلوس پر خودکش حملے میں نام لیا تھا۔ جماعت اسلامی بھی کسی سے بھی ہاتھ ملا سکتی ہے جو ان کے لئے موزوں ہو اور انہیں اقتدار سے قریب کر سکتا ہو، ایک طرف پی ٹی آئی کے ساتھ ان کا اتحاد ہے تو دوسری طرف وہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ایم ایم اے کے احیا کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔

آزاد کشمیر میں انہوں نے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ لہٰذا موجودہ تحریک کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ نواز شریف کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لئےہے اور فرق صرف یہ پڑا ہے کہ زور آصف علی زرداری سے نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے۔ جبکہ کوئی بھی سیاسی گاڈ فادرز یا مقدس گائے کے بارے میں بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر کہا، شریف خاندان تاریخ رقم کر سکتا تھا اگر وہ دیگر عالمی رہنماؤں کی طرح اقتدار ن لیگ کے قابل بھروسہ رہنما کے اس وقت تک کے لئے سپرد کر دیتے جب تک کہ خود کو کلیئر نہ کرالیتے۔ اس سے ان کے خلاف مہم تقریبا ختم بھی ہوسکتی تھی۔

میری خواہش ہے کہ بجائے یہ کہنے کہ ’’اگر مجرم پایا گیا تو ایک دن بھی اقتدار میں نہیں رہوں گا‘‘وہ کہہ سکتے تھے کہ ’’میں مستعفی ہوتا ہوں کیونکہ میرے بچوں کے نام پاناما پیپرز میں آگئے ہیں، لیکن ان کا نام کلیئر کرا کر میں واپس آؤں گا۔‘‘ان دو جملوں کا فرق ’’سیاسی اخلاقیات‘‘ کے سوال پر بہت فرق پیدا کر سکتا تھا۔

ایک برس کے بعد انہوں نے سیاسی تجزیہ کاروں اور اپوزیشن کو اپنی اور اپنے بچوں کی سیاسی اخلاقیات پر سوال کرنے کی اجازت دی۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے بھی انہیں کلین چٹ نہیں دی ہے، اس وقت کیا ہوگا جب کل جے آئی ٹی بھی ان کو مجرم قرار دیتی ہے۔ کیا ہوگا اگر کل سیاسی جماعتوں کی جانب سے دباؤ بنایا جاتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے موقع ضائع کردیا ہے اور ان کے لئے واحد آپشن قانونی فتح ہے یا وہ مجروح تاثر کے ساتھ آئندہ انتخابات کا سامنا کریں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اب اعتراف کرتے ہیں کہ غالبا وہ عمران خان کی جارحانہ سیاست کو شکست پہ شکست کے باوجود سمجھ نہ سکے۔

عمران خان نے کبھی ہار نہیں مانی اور پاناما لیکس نے انہیں تقریبا نئی سیاسی زندگی دے دی ہے۔ وہ اب دھرنا پارٹ ٹو کے موڈ میں ہیں،۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مقامی انتظامیہ کے ذریعے پہلے اجازت دیدی تھی لیکن اب یہ مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی اس کو گو نواز گو مہم میں بدلنے کے موڈ میں ہے۔

ایک طرف عمران خان نےدادو میں اپنی تقریر کے بعد آصف علی زردای کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا دروازہ عملا بند کر دیا ہے اور دوسری طرف کسی بڑے اتحاد کے موقعے کا امکان کم ہوگیا ہے۔یہ دیکھنا دلچسپی کا حامل ہوگا کہ کس سیاسی مورل گراؤنڈ پر مستقل کا اتحاد بنتا ہے۔ اتحاد خود اصولوں پر مصالحت ہوتا ہے خاص طور پر جب اس کا مقصد حکمران کو اقتدار سے بیدخل کرنا ہو۔ اس سے مجھے 1977 یاد آتا ہے، پی این اے کی تحریک جو نظام مصطفی کے لئے شروع کی گئی تھی لیکن اس وقت ختم ہوئی جب بھٹو کو مارشل لا کے ذریعے اقتدار سے بیدخل نہیں کر دیا گیا اور بعدمیں پی این اے نے جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شمولیت اختیار کرلی۔ اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے بہت حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، یہاں تک کہ اگر آپ براہ راست ملوث نہیں بھی ہیں۔ اس طرح کی اخلاقی پوزیشن ہمارے معاشرے میں پہلے دن سے مفقود ہے۔

بمشکل ہی کوئی ایسا معاملہ ہوگا جہاں کسی طاقتور حیثیت میں بیٹھے ہوئے شخص نے اخلاقی بنیاد پر اپنا عہدہ چھوڑا ہوا۔ ہمارے وقت کے ایک عظیم سیاسی اور اخلاقی لیڈر نیلسن مینڈیلا نے اپنی کتاب ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ میں لکھا ہے کہ زندگی میں ہر انسان کی دو ذمہ داریاں ہوتی ہیں، خاندان کی ذمہ داری، اپنے والدین، اپنے بیوی اور بچوں کی ذمہ داری اور اپنے عوام، برادری اور ملک کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں نے آزادی کے لئے بہت طویل سفر کیا ہے۔ لیکن میں یہ راز پایا ہے کہ ایک بلند چوٹی پر چڑھنے کے بعد ایسی کئی مزید بلند چوٹیاں ہوتی ہیں۔ میں صرف ایک لمحے کے لئے آرام کر سکتا ہوں کیو نکہ آزادی کے ساتھ ہی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ میرا طویل سفرا بھی ختم نہیں ہوا ہے۔

Advertisement