Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
24 اپریل ، 2017

آہ! ایم اے راحت

آہ! ایم اے راحت

اکتوبر 1995ء کی وہ شام مجھے آج بھی یاد ہے جب میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا تھا کہ میرے سامنے ایک گاڑی رکی اور ایک فیملی اس میں سے اتری، ایک صاحب نے ساتھ والے گھر کی گھنٹی بجائی تو میرا پڑوسی ماجد باہر نکلا اس نےبڑے پرتپاک انداز میں اس فیملی کا استقبال کیا اسی دوران اس کی نظر مجھ پر پڑی تو مجھے پاس آنےکا اشارہ کیا، جب میں قریب پہنچا تو ماجد نے بڑے فخریہ انداز میں ایک بزرگ کا تعارف کروایا کہ زابر صاحب! یہ ایم اے راحت ہیں، یہ سنتے ہی میرے انداز و اطوار  میں احترام اور عقیدت سمٹ آئے،اس دوران ماجد نے جناب ایم اے راحت سے میرا تعارف کروا دیا تھا،یہ ان عظیم ہستی سے میری پہلی ملاقات تھی جن کی تحریروں کو پڑھتے پڑھتے ہم نے نو عمری کی دہلیز کو پار کیا۔

ابن صفی مرحوم کی عمران سیریز کے تناظر میں صوفی کا کردار تخلیق کرنے والے ایم اے راحت اکتوبر 1995ء میں کراچی سے لاہور منتقل ہو گئے، شروع میں وہ علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک میں رہائش پذیر رہے بعد میں اعوان ٹاؤن شفٹ ہو گئے۔

اگست 2016ء میں  ان کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تو ان کے ٹیسٹ کروانے سے معلوم ہوا کہ ان کو برین ٹیومر ہے، 8ماہ تک جو ممکن علاج معالجہ تھا، ان کی فیملی نے کروایا،گزشتہ ماہ 30 مارچ کو ان کی اہلیہ بھی انتقال کر گئیں جس کے بعد ان کی طبیعت تیزی سے خراب ہونے لگی، 8روز قبل وہ کومہ میں چلے گئے اور آج دوپہر اسی حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

مرحوم نےاپنے پسماندگان میں 5بیٹے اور 4بیٹیاں چھوڑی ہیں، ان کی نماز جنازہ آج بعد از نماز عشا رضوان مسجد، اعوان ٹاؤن میں ادا کی جائے گی اور تدفین علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک قبرستان میں کی جائے گی۔

مرحوم جاسوسی تحریروں میں جناب ابن صفی اور تاریخی ادب میں جناب نسیم حجازی سے متاثر تھے، تا ہم فکشن میں ان کا اپنا منفرد اسلوب تھا، ان کے صاحبزادے نے بتایا کہ موت سے پہلے وہ اپنی زندگی سے مطمئن تھے تاہم وہ مزید اصلاحی پہلو والی تحریریں لکھنا چاہتے تھے۔

 انہوں نے ساڑھے 11سو ناول اور تقریبا ساڑھے 3ہزار کہانیاں اور افسانے لکھے، وہ اکثر کہا کرتے تھےکہ گھر کا ماہانہ خرچ ہی نہیں بلکہ یہ مکان،گاڑی اور اپنا سب کچھ  انہوں نے ناول لکھ لکھ کر بنایا ہے، ایک گھنٹہ پہلے کے وہ مناظر میں کبھی بھول نہیں پاؤں گا کہ جب عصر حاضر کے اس عظیم ادیب کے جسد خاکی کو جب جناح اسپتال کی چوتھی منزل سے لفٹ کے ذریعے نیچے لایا جا رہا تھا تو اسٹریچر کے پاس افسردہ کھڑے میرے ذہن میں دانائے راز حضرت علامہ نے گویا سرگوشی کی،

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
وہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں 

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)

Advertisement