-----

وائے ناکامی !متاعِ کارواں جاتا رہا

Wai Nakami Matah Karwa Jata Raha

’’جب کبھی تم سے دولت چھن جائے تو سمجھو کچھ نہیں کھویا اور اگر صحت چھن جائے تو سمجھنا کچھ کھو دیا ہے لیکن اگر ’کردار‘ چھن جائے تو سمجھ لینا کہ تم نے اپنا سب کچھ ہی کھو دیا ہے‘‘،یہ وہ قولِ زریں ہے جسے ہم نے کتابوں میں بھی پڑھا اور اپنے بزرگوں سے ہر محفل میں بطور نصیحت بھی سنتے تھے، زندگی بھر ہم نے اس پر عمل کرنے کی کوشش کی اور اپنے بچوں کو بھی اس کی نصیحت کی۔

عام لوگ اس حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے کہ ہمارے سماجی رویے اکثر سماج کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں، انسان کا کردار اس کے ماضی اور مستقبل دونوں کا آئینہ ہوتا ہے، اگر کوئی قوم یا گروہ کردار کی گراوٹ پر سمجھوتا کر لے تو یہ اس قوم یا گروہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہو گا۔

ہمارے لڑکپن میں پاکیزہ محبت کا جو تصور تھا اسے آج کی نسل محض ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی، ابلاغ عامہ کے ایک استاد کی حیثیت سے اپنے طالب علموں کے خیالات اور رویوں  سے مجھے آگاہی حاصل رہتی ہے، اس حوالے سے کیس اسٹڈیز اور سروے بھی کرواتا رہتا ہوں جن کا حوالہ میں نے اپنی کتاب ’معاشرتی نفسیات‘ میں بھی دیا ہے۔

ہمارے لڑکپن میں بھی ایسے بہت سے تھے جو ’پاکیزہ محبت‘ کے حوالے سے ہمارے تصورات کا مذاق اڑاتے تھے اور اپنے تئیں موج کرتے تھے، میں نے پاکیزہ محبت کی مثال اس لیے دی کہ اس کو اگر ایک پیمانہ فرض کر لیں تو ہمیں اندازا ہو جائے گا کہ اخلاقی اقدار کا تصور بھی کس حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔

ہمارے لڑکپن کے دور کی وہ اقلیت جو گناہ آلود زندگی کو موج تصور کرتی تھی وہ اب محض اقلیت نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے لیڈران کو اس حوالے سے اسپیس دے رہی ہے کیونکہ وہ اس کو برائی نہیں سمجھتی، انہی خیالات کے حامل ہمارے چند  طالب علم ٹیلی ویژن اینکرز بن کرسماجی رویوں پر بھاشن دینے میں لگے ہیں۔

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ ابلاغ عامہ یا میڈیا کا دور ہے، ریڈیو، ٹی وی، اخبارات، رسائل و جرائد،سوشل میڈیا وغیرہ نے ہمارے ارد گرد گویا دیوار چین کھڑی کر رکھی ہےاور ہم اس دیوار کے آگے دیکھ ہی نہیں سکتے، ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں دکھایا جاتا ہے، ہم وہی سنتے جو نشر کیا جاتا ہے،ابلاغ عامہ کے یہ ادارے ہماری آنکھیں اور کان ہیں۔

میڈیا ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے اس لیے اس کا درست سمت میں استعمال بہت ضروری ہے، افسوس ہے کہ ہمارے یہاں چند ادارے اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، ہماری اخلاقی پستی اور گراوٹ اس سطح پر ہے کہ ایک لیڈر کے چاہنے والے اگر یہ کہتے ہیں کہ آپ کے لیڈر میں فلاں فلاں اخلاقی کجی ہے تو جواب سن کر پاکستانی معاشرے کی اخلاقی افلاس آہ بھرتے جواب دیتی ہےاور تمہارا لیڈر بھی تو ایسا ہی ہے اس میں بھی  یہ ہے، وہ ہے، اس جواب پر افسوس کرنے کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے، کاش ایسا ہوتا کہ جواب آتا کہ نہیں ہمارے لیڈر میں کوئی اخلاقی گراوٹ نہیں، وہ پارسا ہے ،وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا، وہ پیتا نہیں، وہ کبھی گناہ آلود زندگی کا مرتکب نہیں ہوا،(آگےایک طویل فہرست گنوائی جا سکتی ہے شرمندگی کی اس طویل داستاں کی)

بحیثیت ایک سوشل سائنٹسٹ میں معاشرے کی اس روحانی اور  طبعی گراوٹ پر کچھ عرصے سے غور کر رہا ہوں کہ کاش ایسا ہوتا کہ یہ قوم اور اس کے دانشور دو برائیوں کو اس طرح جسٹیفائی نہ کرتے جو ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اقدار کے حوالے سے کیا ہم ایک بانجھ قوم بن چکے ہیں؟

ہمارے پاس کوئی ایسا لیڈر ہی نہیں جو ان تمام سماجی بیماریوں سے پاک ہو،ہمیں دو برائیوں کا آپس میں تقابل کیوں کرنا پڑ رہا ہے، جب ہمارا جسم بیمار ہوتا ہے تو ہمیں معالج کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح جب سماج بیمار ہوتا ہے تو ہمیں سماجی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستانی معاشرہ ایک بیمار معاشرہ ہے، ہمیں اس کا تدارک کرنا ہو گا، نصاب میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

پاکستانی معاشرے کے زمینی حقائق سے نا آشنا ہمارے ایک امریکی دانشور دوست نے پوسٹ لگائی کہ اگر ہمارے لیڈر کا امریکی اسکینڈل ہے تو دوسرے لیڈر کا لاہوری اسکینڈل ہے، گویا اس حمام میں دونوں ہی برہنہ ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کا جواب انہوں نے یہ کہہ کر نہیں دیا کہ یہ بات غلط ہے، کاش وہ ایسا کہتے لیکن انہوں نے جواب میں دوسرے کے اسکینڈل کا حوالہ دے کر نہ صرف  جسٹیفائی کیا بلکہ فرمایا کہ ہمارا وکیل اسی کا تو بدلہ لے رہا ہے، یہ کہہ کر انہوں نے گویا  اپنے لیڈر کا امریکی اسکینڈل تسلیم کر لیا، اگر کوئی لیڈر یا کردار کسی شخص کو جیل کے پیچھے پہنچا سکتا ہے تو وہی کردار لوگوں کی نظر میں اسے فرشتہ بھی ثابت کر سکتا ہے۔

دو روز پہلے چیف جسٹس نے اسی طرف اشارہ کیا ہے، اصل میں کردار کی اچھائی یا برائی کا تعلق حالات اور دیکھنے والے کے ظرف پر ہوتا ہے اور یہی میری اس تحریر کا بنیادی نکتہ یا مقصد ہے،دانائے راز حضرت علامہ اسی حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا