-----

شیر کی ایک دن کی زندگی

Sher Ki Ek Den Ki Zindagee

آج سے ٹھیک 218سال پہلے سرنگا پٹم میں مملکت خداداد میسور کا پرچم ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوا تھا اور مغرب کے وقت فتح علی ٹیپو سلطان کے جسد خاکی کو  دیکھ کر انگریز جنرل ہیرس  بے اختیار پکار اٹھا تھاکہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے‘‘ اور صرف 4برس بعد شہنشاہ دہلی شاہ عالم نے انگریزی سرپرستی میں رہنا قبول کر لیاتھا۔

سلطان کو اپنوں کی غداری  نے شکست دی، دانائے راز حضرت علامہ نے 1929ء میں ٹیپوسلطان کے مزار پر حاضری دی اور ایک گھنٹے تک سلطان کی قبر پر تنہا بیٹھے روتے رہے، انہوں نے  اپنی فارسی کی ایک نظم میں سلطان شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ٹیپو سلطا ن شہیدوں کے امام ہیں، وہ ہندوستان، چین، روم اور شام کی عزت ہیں، ان کا نام چاند اور ستاروں سے زیادہ روشن ہے، ان کی قبر کی خاک مجھ سے اور تجھ سے زیادہ زندہ ہے،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں سلطان ٹیپو کا فقرجذبہ حسینؓ کا وراث ہے۔

  اقبال کے مردِ مومن کو اگر مجسم حالت میں دیکھنا مقصود ہو تو ٹیپو سلطان شہید اس کا بہترین نمونہ ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ سلطان ٹیپو کی ذات میں اقبال کو اپنا  مردِ مومن نظر آتا تھا جو عالم بھی ہے اور عابد بھی، ایک جری سپاہی اور بہترین سپہ سالار بھی اور ایک بہترین حاکم و منتظم بھی،ایک تجربہ کار سیاستدان اور غیر معمولی بصیرت رکھنے والا عوامی رہنما بھی اور عوام دوست قائد بھی۔

ٹیپو سلطان ایک بہت بڑے مدبر بھی تھے، وہ سمجھ چکے تھے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عزائم کیا ہیں، انہیں یہ بھی اندازا تھا کہ شاہان مغلیہ میں اب اتنی سکت نہیں کہ وہ اکیلے انگریزی سامراج کا مقابلہ کر سکیں، دوسری طرف انگریز بھی جان چکے تھے کہ اگر ٹیپو سلطان کو اپنے ارادوں میں کامیاب ہونے دیا گیا تو ہندوستان پر قبضہ نہیں ہوسکے گا، چنانچہ اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے انگریز، نظام اور مرہٹے متحد ہوگئے۔

انگریز سلطان کو ہندوستان پر اپنے اقتدار کی راہ میں واحد رکاوٹ سمجھتے تھے، انہوں نے نظام حیدر آباد کو اپنے ساتھ ملا لیا، مرہٹے تو غیر مسلم تھی، یہاں اپنوں نے ہی ساتھ نہ دیا، اسی پالیسی کے تحت سلطان کے قریبی ساتھیوں کو بھی ساتھ ملا لیا گیا، ہم کب تک دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو الزام دیتے رہیں گے، اپنوں نے جو کچھ کیا وہ ہم کیوں بھلا دیتے ہیں۔

سلطان اپنے وقت سے آگے کی سوچتے تھے، انہوں نے اپنی مملکت سے بے روزگاری ختم کرنے کیلئے چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا، چھوٹے بڑے ڈیم بنوائے اور شاندار مساجد تعمیر کرائیں، مسجدوں کے علاوہ ہندو مندروں کی دیکھ بھال کے اخراجا ت بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوتے تھے،بے اولاد ہندو مندر میں منت مانتے اور لڑکی پیدا ہوتی تو اسے مندر کی ’خدمت‘ کیلئے وقف کردیتے تھے، پھر یہ شادی نہیں کرسکتی تھیں، سلطان نے اس قبیح رسم کا ریاست میں خاتمہ کردیا، مالا بار کی ہندو قوم’نائر‘ کی عورتیں سینہ برہنہ رکھتی تھیں، سلطان نے اس رسم کو بھی ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔

سلطان ٹیپو کے سکے احمدی یا اشرفی کہلاتے تھے جو خلفائے راشدین اور اماموں کے نام سے منسوب تھے، سلطان کے اسلحہ خانے میں ’میسور راکٹ‘ تیار ہوتے تھے جو آج کے جدید ترین خلائی راکٹوں کی بنیاد بنے، چنانچہ واشنگٹن کے جنگی عجائب گھر میں سلطان ٹیپو کا اسم گرامی راکٹ کے موجد کے طور پر درج ہے، سلطان نے ’فتح المجاہدین‘ نامی کتاب بھی لکھی جس میں جنگی حکمت عملی کے رموز بیان کیے تھے ،ریاست میں شراب اور دیگر منشیات پر سخت پابندی تھی، سرنگا پٹم کے بڑے بازار میں دو رویا گھروں کی دیواروں پر نقش بنائے گئے تھے جن میں شیر انگریزوں کو چیر پھاڑ رہے تھے۔

سن1787ء میں انگریزوں کی حمایت سے مرہٹوں اور نظام حیدرآباد نے میسور پرحملہ کر دیا مگر شکست کھائی، پھر 1789ء میں تینوں نے مل کر میسور پرحملہ کر دیا، یہ میسور کی تیسری جنگ کہلائی جو تین سال جاری رہی، انگریزوں کی چالوں اور اپنوں کی غداری اور بے وفائی سے ٹیپو کو انگریزوں سے صلح کرنی پڑی، اس کے مطابق میسور نے تین کروڑ روپے تاوان ادا کیا، نیز سلطان کو اپنے دو شہزادے عبدالخالق اور معز الدین انگریزوں کی تحویل میں دینا پڑا جو دو سال بعد واپس آئے، لوگ سلطان سے بہت محبت کرتے تھے، اس موقع پر انہوں نے اپنی خون پسینے کی کمائی سلطان کے قدموں میں ڈھیر کردی حتیٰ کہ عورتوں نے اپنے زیورات تک خزانے میں جمع کرا دئیے۔

 سلطان ٹیپو کو انگریزوں سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا بنا ہوا نمک استعمال نہیں کرتے تھے، وہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرناچاہتے تھے، چونکہ اس زمانے میں برطانیہ اور فرانس میں سخت دشمنی تھی، لہٰذا ٹیپو نے فرانسیسی فوجی دستے کو  میسور میں تعینات کر رکھا تھا۔

سلطان نے شہنشاہ نپولین بونا پارٹ سے بھی خط کتابت کی تاکہ انگریزوں کے خلاف مل کر کارروائی کی جائے، علاوہ ازیں سلطان نے  ترکی کے عثمانی خلیفہ، ایران اور افغانستان کے حکمرانوں اور نظام حیدر آبادسے بھی مدد کی درخواست کی، انہوں نے نواب حیدر آباد میر نظام علی خان کو خط لکھا کہ ’’اگر مسلمان اب بھی متحد ہوجائیں تو گزشتہ شان و شوکت پھر آسکتی ہے لہٰذا ہمیں ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے کہ روز محشر  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمسار نہ ہونا پڑے۔‘‘

افسوس صد افسوس مسلم حکمرانوں نے سلطان کی پکار پر کان نہ دھرے، افغانستان کا زمان شاہ فوج لے کر آیا، ابھی لاہور میں تھا کہ انگریز کی ایماء پر ایران نے حملہ کردیا تو اسے واپس جانا پڑا، آخرکار فروری 1799ء میں انگریزوں، نظام اور مرہٹوں کی متحدہ افواج نے تین اطراف سے میسور پر چڑھائی کی، انگریزوں نے میسور کے وزراء میر صادق، میر غلام علی لنگڑا، میر قمر الدین، میر معین الدین اور وزیر مالیات پورنیا کو سازش سے ساتھ ملا لیا تھا، ان کی غداری سے دشمن کی افواج نے سرنگا پٹم کا  محاصرہ کیا،اس وقت سلطان انگریزوں کی شرائط مان کر اپنے آپ کوبچا سکتے تھے۔

ان کے خادم خاص راجہ خان نے جب ایسا کرنے کو کہا تو سلطان نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ انگریز بھی چلے گئے، نظام حیدر آباد کی سلطنت بھی ختم ہو گئی اور آج اس کا نام بھی کوئی نہیں جانتا، مرہٹے بھی بکھر گئے، میر صادق کو لوگ آج نفرت سے یاد کرتے ہیں اس کا نام ایک گالی بن چکا ہے لیکن شہید میسور کا نام قیامت تک زندہ رہے گا۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)