-----

کراچی آپریشن میں ایک نئی مثال

Karachi Operation Main Aik Naye Masali

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ کراچی کے دوران نیم قوم پرستوں یا منحرفین کو قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے ایک اہم بات کی ، اگر کسی نے درست اخذ کیا ہے تو یہ ایک طرح سے معافی کے اعلان کے مترادف اوریہ آپریشن ردالفساد کے تناظر میں اختیار کردہ پالیسی کی جانب اہم پیش رفت ہے ۔

جنرل باجوہ نے گزشتہ ہفتے کراچی کا دورہ کیا ۔ انہوں نے نیم قوم پرستوں اور منحرفین کو قومی دھارے میں لانے کیلئے انٹیلی جنس اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے کاوشوں کی تعریف کی۔

یہ نیشنل ایکشن پلان پالیسی کا بھی حصہ ہو سکتا ہے کہ معاشرے کو انتہا پسندانہ رجحانات سے پاک کیا جائے جس کیلئے پہلی بار جامعات اور کالجوں کے پروفیسرز اور اساتذہ کرام کو بھی شامل عمل کیا گیا ہے ۔

کراچی کی ایک سوختہ تاریخ ہے خصوصاً گزشتہ تین دہانیوں میں ہزاروں نوجوان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو کر پریشر گروپوں کا جزو بن گئے ۔

گزشتہ ساڑے تین سال کے عرصہ میں 16 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ 7ہزار اب بھی جیلوں میں پڑے سڑ رہے  ہیں۔ بعض گروپوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے سیکڑوں کارکنان لاپتہ ہیں۔

جیل اصلاحات لانے میں مسلسل حکومتوں کی ناکامی نے بڑی خطرناک صورتحال کو جنم دیا ہے ۔ یہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کیلئے سلیپر سیلز اور محفوظ ٹھکانوں کی شکل اختیار کر گئے ہیں، معمولی جرائم میں ملوث نوخیز ذہنوں کو سنگین جرائم میں ملوث کرکے پختہ بنایا جاتا ہے ۔

اس پس منظر میں آرمی چیف کے بیان پر غور کیا جائے تو یہ بھٹکے ہوئے عناصر میں سے اکثر کو قومی دھارے میں لانے کیلئے بنیاد فراہم کر سکتا ہے ۔

جنرل باجوہ کو دی گئی بریفنگ اور ان کے خطاب کی تفصیلات تو میسر نہیں لیکن کراچی آپریشن سے وابستہ بعض حکام نے انکشاف کیا کہ معافی کی پیشکش ایسے عناصر کیلئے ہے جو اپنے کئے پر نادم اور قومی دھارے میں لوٹ آنے  کے خواہشمند ہیں۔

کراچی آپریشن میں سنگین مسائل بھی درپیش رہتے ہیں جیسے ہر تین ماہ بعد رینجرز کے اختیارات میں توسیع، سندھ اور وفاق میں کشمکش اور اپیکس کمیٹی اجلاسوں کے انعقاد میں تاخیر ( آخری اجلاس گزشتہ فروری میں ہوا تھا)  آرمی چیف کے بیان نے آپریشن کو نئی سمت دینے کے ساتھ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ آپریشن مکمل قیام امن تک جاری رہے گا ۔

ذرائع کا یہ بھی کہناہے کہ آپریشن صرف کراچی میں سرگرم گروپوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اندرون سندھ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

آرمی چیف سے قبل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی کراچی کا دورہ کیا تاہم اپنے دو روزہ دورے میں انہوں نے خود کو سندھ حکومت سے فاصلے پر رکھا۔ ایک تو وہ صوبائی حکومت کی جانب سے رینجرز اختیارات میں توسیع پر تاخیر سے خوش نہیں تھے اور دوسرے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے کا تنازع بھی وجہ نزع بنا۔

اے ڈی خواجہ نے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے غیر سرکاری رہنمائوں یا اعلیٰ قیادت کے مخصوص احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ گزشتہ 5 ماہ سے سندھ ہائیکورٹ کے حکم سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

نیم قوم پرست یا منحرف کی اصطلاح ان کے لئے استعمال کی جارہی ہے  جو مبینہ طور پر ملک دشمن عناصر یا گروپوں کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔ ان میں بلوچ، سندھی اور مہاجر سب ہی شامل ہیں۔

یہ بلوچستان پالیسی کا فالو اپ ہو سکتا ہے جہاں سرکاری دعوئوں کے مطابق سیکڑوں فرار یوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اب بحالی کے عمل سے گزررہے ہیں۔

کراچی آپریشن کے تناظر میں ایسی  انٹلی جنس رپورٹس  موجود ہیں کہ سیکڑوں نوجوان  جو برسوں قبل علیحدگی پسند گروپوں میں شامل ہوگئے تھے اب انہیں نیم قوم پرست قرار دیا جارہا ہے ، وہ مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کے ہاتھوں استعمال ہوئے، لگتا ہے ان کے کیسز کے از سر نو جائزے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ اس حوالے سے پالیسی کے دائرے میں ایم کیو ایم لندن بھی آتی ہے یا نہیں لیکن پاکستان سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار دونوں ہی بلوچستان طرز پر ایمنسٹی پر  زور دے رہے ہیں۔

یہ اس پالیسی کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے  جس سے آگے چل کر لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔ اس پالیسی پر اگر سنجیدگی سے عمل کیا گیا تو اس سے لیاری کے ان نوجوانوں کو بھی سہولت حاصل ہوگی جو گزشتہ دہائی سے گینگ وار کا حصہ بنے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لندن میں مقیم قیادت کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تاہم جو ان سے فاصلہ اختیار کرے گا ، اسے ریلیف مل سکتا ہے ، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ  آئندہ چند ماہ میں اس نئی پالیسی کا کتنے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ایسی پالیسی پہلی بار سابق ڈائریکٹر جنرل رینجرز لیفٹننٹ جنرل بلال اکبر کے دور میں اختیار کی گئی، اور ’’ بحالی مرکز‘‘ کے قیام کی سفارشات بھی تیار کی گئی تھیں۔

بلال اکبر نے ایک بار بتایا تھا کہ جنوبی افریقا،  دبئی اور دیگر ممالک میں مقیم ایم کیو ایم کے کارکنوں نے بتایا تھاکہ انہیں وطن واپسی اور قومی دھارے میں لوٹ آنے کیلئے تحفظ کی یقین دہانی درکار ہے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ واپسی پر پولیس انہیں جعلی مقابلوں میں مار دے گی یا سنگین جرائم کے الزام میں پکڑ لے گی ۔


انہیں بتایا گیا کہ جو ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سنگین جرائم میںملوث ہیں، انہیں قانون کےعمل سےگزرنا پڑے گا۔ البتہ معمول کی زندگی میں واپس آنے کیلئے ان کے کیسزپرہمدردانہ غور ہوگا۔

بدقسمتی سے جیلیں بھی ’’بھرتی کے مراکز‘‘ بن گئی ہیں۔ پرہجوم جیلوں میں موجود معمولی جرائم میں پکڑے گئے نوجوان خطرناک جرائم پیشہ بن کر نکلتے ہیں۔

جو معاشرہ چاردہائیوں میں بدترین طرزحکمرانی کے باعث انتہا پسند بن گیا ہے، اسے سدھارنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے لیکن اسے قبول تو کرنا ہوگا ۔