-----

کراچی کے حقوق کے لئے جلسے جلوس ریلیاں

Karachi Ke Haqooq Ke Liye Jalsay Juloos Reliyan

کراچی کے عوام حیران بھی ہیں اور پریشان بھی ۔۔۔شہر قائداور شہریوں کے لئے حقوق کی تحریکیں جنم لے رہی ہیں اور حیرت اس بات پر بھی ہے کہ حکمران جماعتوں نے بھی باقاعدہ کراچی کے حقوق پر ریلیوں اور جلسوں کا آغاز کردیا ہے ۔

لگتا ہے کراچی کی قسمت تبدیل ہوجائے گی۔ ہوسکتا ہے انتخابات میں عوام ہی کوئی بہتر فیصلہ کرلیں اور انتخابی دنگل میںکچھ انصاف پر مبنی فیصلے ہوجائیں ۔

پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے دھرنا دیا۔ بات کی کراچی کے حقوق پر مبنی سولہ نکات کی ، جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی کراچی کے حقوق پر اور مسئلہ اٹھایا لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی اضافی بلنگ کے خلا ف۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ریلی نکالی اور جلسہ کیا کراچی کے حقوق ، مئیراورمنتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اور وسائل کی ۔

تحریک انصاف بھی کراچی کے حقوق کی آواز اٹھانے میں پیچھے نہ رہی اور قیادت کراچی پہنچ کر ریلی اور جلسے کرگئی۔ سونے پر سہاگہ ۔۔میڈیا میں کراچی کے مسائل کی گھن گرج پر اس نعرے کو پذیرائی مل گئی اور عوام و شہر کی خراب حالت کو کیش کرانے کے لئے حکمراں جماعتیں بھی میدان میں آگئیں۔

سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی نےدیگر شہروں کی حالت سندھ باسیو ں کے حقوق دینے کے دعوے کے ساتھ کراچی کے حقوق کےلئے بھی ریلی نکالی ۔الزام وفاق پر ہے کہ فنڈز جاری نہیں ہورہے جبکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی کی بات بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

مسلم لیگ ن وفاقی حکمراں جماعت بھی کراچی کے حق کا پرچم بلند کرکے سڑک پر نکل آئی۔ایسا لگا کہ ایم نائن موٹروے معیار کے مطابق پنجاب موٹر وے کی طرح بن جائے گی ۔شاید وفاق حکومت کراچی کے شہریوں سے بہت مخلص ہوگئی تو سرکلر ریلوے کے فعال حصے میں دھابے جی سے کراچی سٹی تک لوکل ٹرین چلادے گی اور ہزاروں لوگوں کے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کردے گی ۔

حکمران اور سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے عجیب سے خیالات جنم لینے لگے ہیں ۔۔لگتا ہے کہ مقبول ترین شہر کے کچرا کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور شہر آئینے کی طرح صاف کردیا جائے گا۔۔کرپشن کہیں نہیں ہوگی۔ ہر عوامی مسئلہ ایمانداری سے مناسب بجٹ میں حل کردیا جائے گا۔منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور مالی وسائل فراہم کرکے ان سے جواب طلبی کو یقینی بنایا جانے لگے گا۔

کراچی میں پینے کے پانی کی کمی دور ہوجائے گی۔ شہر کے ہرحصے میں واٹراینڈ سیوریج بورڈ اپنے نظام کو فعال کردے گا۔ٹینکر اورہائیڈرنٹ مافیا کو ختم کردیا جائے گا۔

لوڈشیڈنگ ختم ہونے جارہی ہے نرخ کنٹرول ہوجائیں گے۔سڑکوں کی تعمیر تو جاری ہے ہی اور مناسب بجٹ میں شہر کی تمام سڑکیں معیار کے مطابق بنادی جائیں گی۔ عوام کے لئے بہترین پبلک ٹرانسپورٹ اور سرکلر ریلوے کی جدید ٹرین دستیاب ہوگی۔

یہ خواب بھی آنے لگے کہ پتھارو ں کو ختم کرکے شہر کی شاہراہیں کشادہ ہوجائیں گی۔سرکاری زمینوں اور عمارتوں پر قبضہ مافیا اپنے انجام کو پہنچے گی ۔۔اچھے افسران اور ماہرین کی مدد سے ٹریفک کی بدنظمی کو ختم کرکے قانون نافذ کردیا جائےگا۔

سرکاری اسکولوں کو جدید معیار کے مطابق بنادیا جائے گا ۔تفریحی مقامات کو بحال کرکے کسی کمرشل مقاصد کے لئے نہیں دیا جائے گا۔ شہر میں امن و امان کافی حد تک بحال ہوگیا ہے تو اسٹریٹ کرائم پر بھی قابو پالیا جائے گا۔

۔۔ یہ عوامی مسائل ہی شاید آئندہ انتخابات میں عوام کا مطالبہ بن کر ابھریں۔