-----

کراچی والے جگہ جگہ زیر تعمیر سڑکوں کے عتاب کا شکار

Karachi Walay Jaga Jaga Zair E Tameer Sarkon Kay Etaab Ka Shikar

’’زحمت کے لیے معذرت، سڑک زیر تعمیرہے‘‘کراچی والے جگہ جگہ زیر تعمیر سڑکوں کے عتاب کا شکارہوگئے،مختلف شاہراہوں پر ترقیاتی کام سے ٹریفک جام معمول بن گیا۔

شہری پریشان ہیں کہ کیا یہ سارے کام رمضان سے پہلے ختم ہوجائیں گے یا پھر شدید گرمی میں، رمضان کے دوران بھی ٹریفک جام کا عذاب سہنا پڑے گا؟

کراچی والوں ہوشیار، صبر کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا،شہر کی سڑکوں پر تعمیراتی کام ابھی جاری ہے ،شہر قائد کی سڑکوں کے تعمیراتی منصوبوں میں کچھ وفاقی اور کچھ صوبائی منصوبے ہیں ۔

بیک وقت کئی ترقیاتی منصوبوں پر کام خوش آئند ہے لیکن ٹریفک کا کوئی متبادل نظام نہ ہونے سے شہری پریشان ہیں، ابھی تو جیسے تیسے تین، چار،پانچ گھنٹے سڑکوں پر گزارنے کے بعد لوگ گھروں کو پہنچ جاتے ہیں لیکن رمضان میں کیا ہوگا؟شہری افطار سے پہلے گھر کیسے پہنچیں گے؟

کراچی کی تقریباً ہر سڑک ہی کھدی ہوئی ہے اور تقریباً ہر سڑک پر ہی ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔

ڈیڑھ ارب سے بننے والا یونیورسٹی روڈ آج بھی زیرتعمیر ہے، شارع فیصل پر ڈرگ روڈ انڈر پاس بھی زیر تعمیر ہے، ڈرگ روڈ کے قریب شارع فیصل، راشد منہاس روڈ پر بدترین ٹریفک جام معمول ہے۔

سرجانی سے ٹاور اور اورنگی ٹاؤن سے بورڈ آفس گرین لائن منصوبے پر کام جاری ہے، نارتھ کراچی،ناظم آباد، گرومندر، گولیمار اور اس منصوبے کے راستے میں آنے والی تقریباً ہر سڑک پر ٹریفک جام رہتا ہے۔

لیاری ایکسپریس وے کا ماڑی پور سے حسن اسکوائر تک واپس جانے والا ٹریک بھی زیر تعمیر ہے۔