-----

’مہرالنساء وی لب یو‘۔۔ میٹھی عید کی رنگین فلم کا سب کو انتظار

Mehrun Nisa We Lub You Meethi Eid Ki Rangeen Film Ka Sab Ko Intezar

ارے بھائی !یہ مہرالنساء وی ”لو“یو نہیں مہرالنسا وی ”لب“ یو ہے۔پہلی ہی بار جب فلم کا نام درست کرایاتو یقین ہوگیا کہ نام میں واقعی بہت کچھ رکھا ہوتا ہے۔فلم کا نام اچھا ہو فلم کی کہانی سے” میچ “ہوتا ہو اور لوگوں کیلئے منفرد اور زبان پر ”کیچ“ یعنی یاد رکھنے والا ہوتو فلم ریلیز سے پہلے ہی آدھی کامیاب ہوجاتی ہے۔

ایسا ہی اس بار بھی ہوگا جب میٹھی عیدکی رنگوں سے بھری، خوشیوں سے سجی ’مہرالنساء وی لب یو ‘کو دیکھنے کے لئے لوگ سینما گھروںکا رخ کریں گے۔

دو سال پہلے میٹھی عید پر ہی اسی بینر یعنی یاسر ندااور حسن فلمز(وائی این ایچ) نے ”رانگ نمبر “ سے سب کا منہ میٹھا کرایا تھا۔رانگ نمبر نے سلمان خان کی بجرنگی بھائی جان جیسی بڑی فلم کے سامنے جم کر کمائی کی تھی۔

فلم دیکھنے والے آج تک جوائنٹ فیملی میں اوپن واش روم(صرف بچوں کیلئے)،ڈرٹی پکچر،کٹا کٹ ، پاپے ،سلیم نائی کا استرا،چڑیا اڑی کا کھیل،بڑی بہو کے حاجی ابا سے سوالات ، ایم ڈی سے سلو میاں کی فرمائشیں اور حکیم صاحب کے حوالے سمیت فلم کے مناظر اور مکالمے یاد کر کر پیٹ پکڑ کر ہنستے ہیں۔

یاسر نواز کا جاوید شیخ،دانش تیمور،دانش نواز،نیر اعجاز،قوی خان اور شفقت چیمہ کے ساتھ ”رانگ نمبر“ بالکل صحیح نشانے یعنی فلم بینوں کے دل سے” کنیکٹ“ ہواتھا۔کنیکٹ تو ”مہرالنسا ء وی لب یو“ کا نام اور ٹیز ر بھی ہوگیا ہے۔۔ دیکھنے والوں کے ساتھ۔

گلزار صاحب کی شاعری وہ بھی انہی کی آواز میں،دانش تیمور اور ثنا جاوید کی کیمسٹری اور سکھوندر کی آواز میں زبردست فلمی گیت”تو ہی تو“دیکھتے ہوئے سنتے ہوئے سب جُڑ جاتے ہیں اس فلم سے ۔

ثنا ء جاوید کی یہ پہلی فلم ہے اور پہلی ہی فلم میں ٹائٹل رول ملنا خوش قسمتی ہوتی ہے۔جاوید شیخ رانگ نمبر کی طرح اس فلم میں بھی دانش کے ابا کے کردار میں نظر آئیں گے لیکن اس بار بالکل مختلف انداز میں۔سینئر اداکار نیر اعجاز کا روپ بھی خوب ہے ساتھ میں قدوسی صاحب کی بیوہ سے مشہور ہونے والے وقار حسین کی بھی جھلک ہے۔

فلم مہرالنسا ء وی لب یو ”میں“ کی نہیں ”ہم“ کی کہانی لگتی ہے پورے محلے کی کہانی لگتی ہے۔مہرالنسا کو دوست ،سہیلی،بھائی،بہن،چاچا ،ماما،دادا ،دادی، نانا ،خالہ پورا” محلہ “پیار کرتا ہے ۔

وہ” محلہ “جو اب کچھ علاقوں میں ہی زندہ رہ گیا ہے جہاں ایک گھر کی خوشی سب کے گھر میں جگماتی اور دکھ سب مل کر بانٹتے ہیں۔پورا محلہ ایک جوائنٹ فیملی کی طرح ہوتا ہے۔ اس پورے محلے کو سجانے کیلئے ہی صرف دو کروڑ روپے کا سیٹ لگایا گیا ہے جو پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین سیٹ میں سے ایک ہے۔

محلہ ہوگا تو ہلہ گلہ بھی خوب ہوگا۔فلم رنگوں اور خوشیوں سے سجی ہوئی لگ رہی ہے۔مری اور گلیات کی لوکیشن نے فلم کی جھلک میں اور رنگ بھر دئیے۔

ڈائریکٹر پروڈیوسر اور رائٹر یاسر نواز نے ’رانگ نمبر‘ میں سے ایک دانش کی قربانی دے دی۔اس بار دانش نواز نہیں صرف دانش تیمور نظر آئیں گے۔

’رانگ نمبر‘ کے مکالمے بہت شاندار تھے لیکن اس بار یاسر نواز نے محسن علی کی جگہ ثاقب سمیر پر اعتماد دکھایا ہے اسی طرح’ رانگ نمبر‘ کے ڈی او پی نعیم مصطفی کی جگہ سلیم داد کو سینماٹو گرافی کی ذمہ داری سونپی ہے۔

موسیقی سیماب سین اور شاعری گلزار صاحب کی ہے یعنی فلم اب بڑی نہیں ،بہت بڑی ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی فلم سے جڑے لوگوں کی ذمہ داری بھی۔

’رانگ نمبر‘ کے اینڈ کریٹس میں دانش نواز کا نام نیئر اعجاز سے اوپر نہیں آنا چاہیے تھا، اسی طرح سلیم خواجہ کا نام جونیئر ایکٹرز کی لسٹ میں شامل کرنا صحیح نہیں تھا۔

’مہر النسا ء وی لب یو‘ کی جھلک دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فلم واقعی عید پر سینما جا کر پوری فیملی اور دوستوں کے ساتھ دیکھنے والی فلم ہے یعنی اینٹرٹینمنٹ اور وہ بھی فیملی اینٹرٹینمنٹ۔