-----

جوش، جذبے اور جنون کا ٹاکرا

Champions Trophy Pakistan Vs India

دو سال سے زائد کے انتظار کے بعد دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ یعنی پاک بھارت ٹاکرا اتوار کو ہوگا جس سے قبل دونوں طرف خوب گرما گرمی ہے اور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ دونوں جانب کے شائقین بھی جیت سے کم پر راضی نہیں۔

ماضی کے مقابلوں کو دیکھا جائے تو دونوں ٹیموں کے درمیان 127 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں 72 بار پاکستان کامیاب ہوا اور 51 بار جیت بھارت کو ملی جب کہ 4 میچوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

اگرچہ آئی سی سی کے بڑے ایونٹ یعنی ورلڈ کپ میں پاکستان ابھی تک اپنے روایتی حریف کو ہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے، مگر جب بات چیمپئنز ٹرافی میں ہونے والے مقابلوں کی ہو تو پاکستانی شاہین ہمیشہ بھارتی سورماؤں پر حاوی نظر آئے۔

چیمپئنز ٹرافی میں آج تک دونوں ٹیموں کے درمیان 3 مقابلے ہوئے جس میں 2 مرتبہ پاکستان کو اور ایک مرتبہ بھارت کو جیت نصیب ہوئی۔

ان میچوں میں محمد یوسف 2 میچ کھیل کر 168رنز کے ساتھ اب تک کے ٹاپ اسکورر ہیں جب کہ شعیب ملک نے 3 میچوں میں 150رنز بنائے ہیں۔ اسی طرح بولنگ میں پاکستان کے رانا نوید الحسن نے 2 میچز میں 6 وکٹیں اور راولپنڈی ایکسپریس یعنی شیعب اختر نے ایک میچ 4 وکٹیں حاصل کیں۔

اس سال چیمپئنر ٹرافی میں دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ انگلینڈ کے ایجبسٹن کرکٹ اسٹیڈیم میں سجے گا۔ اس سے قبل اس میدان میں چیمپئنز ٹرافی کے مقابلوں میں پاکستان، بھارت کیخلاف 2 بار سامنے آیا۔ جس میں ایک بار جیت پاکستان تو دوسری مرتبہ بھارت کی ہوئی۔

اتوار کو ہونے والے مقابلے میں ایک طرف جہاں پاکستان کے کپتان سرفراز کے حوصلے بلند ہیں وہیں دوسری جانب ویرات کوہلی 2014 میں بطور کپتان پاکستان کے ہاتھوں ہوئی شکست کا بدلہ لینے کے موڈ میں ہیں۔

بظاہر بھارت کی ٹیم اس مرتبہ مضبوط ہیں اور اسے کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہیں مگر اس میچ میں سرفراز کے پاس بھی تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ موجود ہوں گے جن سے وہ بھرپور فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جب کہ بابر اعظم ، فہیم اشرف، فخر زمان ، حارث سہیل بھی پاکستان کی بیٹنگ میں جان ڈال سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ حسن علی ، شاداب خان ، عماد وسیم ، جنید خان اور محمد عامر بولنگ کا جادو چلا کر کوہلی الیون کےلیے مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ضرور ایم ایس دھونی کپتانی کی ڈرائیونگ سیٹ پر تو موجود نہیں ہیں مگر ویرات کوہلی کے ساتھ ضرور گراؤنڈ میں ضرور موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان کا بطور بیٹسمین بھی پاکستان کیخلاف رکارڈ اچھا ہے جب کہ ویرات کوہلی خود بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ اس سے قبل بھی پاکستان کے خلاف ایک اننگر میں 183 رنز بنا چکے ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اعداد و شمار کسی کے بھی حق میں ہوں، پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں جب بھی آپس میں ٹکراتی ہیں تو دونوں ٹیموں میں ایک منفرد جذبہ اور جنون نظر آتا ہے اور وہی ٹیم مقابلہ سرخرو ہوتی ہے جو اپنے اعصاب مضبوط رکھتی ہے۔