-----

زندگی، رزق اور موت

Security Guard Issue Blog By Ahmed Ali Qureshi

گزشتہ دنوں میڈیا پر فیصل آباد کی ایک نجی فارمیسی میں دو ڈاکووں کی آمد اور اُن کے مقابلے میں تنہا ڈٹ جانے والے پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کی ویڈیو نشر ہوئی۔

ویڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ ڈاکو مسلح تھے اور مذکورہ گارڈ پر مسلسل فائرنگ بھی کررہے تھے جب کہ اس کے جواب میں گارڈ گولی چلانے کے بجائے بندوق کو بطور ڈنڈا استعمال کرتا اور چٹان کی مانند کھڑا رہا۔

اس فرض شناس گارڈ کی سخت مزاحمت کے باعث ہی فارمیسی کا باقی تمام عملہ اور سرمایہ محفوظ رہا۔ آخر میں ایک ڈاکو مذکورہ گارڈ کے پاوں پرگولی مارتا ہے لیکن شدید زخمی ہونے کے باوجود یہ بہادر انسان اپنی جدوجہد ختم نہیں کرتا۔

جب ڈاکو محسوس کرتے ہیں کہ اس فارمیسی کو لوٹنا اب ممکن نہیں رہا وہ اس سرفروش کے سینہ پر گولیاں برسا کراُسے شہید کرجاتے ہیں۔

یہ تمام ویڈیو دیکھ کرمیں یہ سمجھا کہ مذکورہ گارڈ شاید اناڑی تھا جو اُس نے اپنے دفاع میں فائرنگ نہیں کی۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ جو بندوق اُس کے ہاتھ میں تھی، جس سے وہ ڈنڈے والا کام لے رہا تھا، وہ ناکارہ تھی۔

اگر یہی بندوق درست حالت میں مذکورہ گارڈ کے ہاتھ میں ہوتی تو اس واردات کا نتیجہ کچھ اور ہی نکلتا اور ایک بے گناہ کی زندگی ضائع نہ ہوتی۔

ملک میں دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کا شعبہ بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

پاکستان میں لائسنس یافتہ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ ہے جب کہ 250 ایسی کمپنیاں بھی ہیں جو این او سی نہ ہونے کے باوجود گھوسٹ ایجنسیوں کے طور پرکام کررہی ہیں۔

موجودہ ملکی صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے نجی پرائیویٹ ادارے، دفاتر، اسکولز، کالجز، یونیورسٹیاں، تجارتی مراکز اوردکاندار حضرات اپنے مال، عملہ اورخود کی حفاظت کی غرض سے پرائیویٹ گارڈز کی خدمات حاصل کررہے ہیں۔

تاہم افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ گارڈز فراہم کرنے والی سیکیورٹی کمپنیوں کی اکثریت اناڑی گارڈز اور ناکارہ اسلحہ سے لیس ہیں۔ ان کمپنیوں کو اپنی کوتاہیوں اور غفلت کا ادراک ہے، لیکن یہ کمپنیاں عوام سے پیسے بٹورنے میں مشغول ہیں۔

یہ سیکیورٹی کمپنیاں فی گارڈ اٹھارہ سے بائیس  ہزار روپے ماہانہ تک نجی اداروں سے وصول کرتی ہیں جبکہ گارڈ کو صرف 9 سے 12 ہزار روپے ماہانہ ادائیگی کی جاتی ہیں۔

بارہ گھنٹوں سے زائد روزانہ ڈیوٹی کرنا کوئی آسان کام نہیں المیہ یہ ہے کہ جان ہتھیلی پر رکھنے والوں کی تنخواہ کا موازنہ ایک عام محنت کش سے باآسانی کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات تو ان سے بھی نہیں۔

جس نجی فارمیسی میں گارڈ اپنی جان کھو بیٹھا، اس کے مالکان نے اس کے لواحقین کو دس ہزار روپے کی رقم بطور بہادری و خدمات ادا کی۔ جس شخص نے دوران ڈیوٹی اپنی جان دے دی اُس کی جان کی قمیت فقط دس ہزار روپے؟

مذکورہ گارڈ اپنے گھر والوں کا واحد کفیل تھا۔ اب اُس کے بیوی بچوں کی دیکھ بھال و اخراجات کون برداشت کرے گا؟ جس پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کو علم ہے کہ اُس کی بندوق ناکارہ ہے، کیا وہ آزمائش و مقابلے کے وقت چوروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت و جرات کرے گا؟

حکومت اس حساس معاملے کی مکمل چھان بین کرکے، جن سیکیورٹی کمپنیوں کے گارڈز غیر تربیت یافتہ اور ناکارہ اسلحہ سے لیس ہیں اُن کے لائسنس فی الفور منسوخ کرے۔

علاوہ ازیں پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے گارڈز کی تنخواوں میں اضافہ کیا جائے، ان کو مکمل تربیت، جدید اسلحہ اورعلاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زندگیوں کو بچانے والوں کی اپنی زندگی بھی محفوظ ہوسکے۔

احمد علی قریشی قلم کار ہیں۔ ان سے رابطہ[email protected] پر کیا جا سکتا ہے۔