-----

ایک حادثاثی وزیراعظم

The Accidental Prime Minister

پارلیمانی نظام میں بلاشبہ طاقت کا محور وزیراعظم کی ذات ہی ہوتی ہےمگر پارلیمانی نظام کے حامل کئی ممالک کی جدید تاریخ میں ایسے وزرائےاعظم بھی گزرے ہیں کہ جن کی حیثیت محض ایک کٹھ پتلی کی سی رہی ہے۔ ایسے وزرائے اعظم کے لئے ’’ڈمی‘‘ اور’’حادثاتی وزیر اعظم‘‘ کی اصطلاع استعمال کی جاتی ہے۔

پاکستان کی مثال کو ہی دیکھا جائے تو تاریخ کا کون سا ایسا طالب علم ہو گا کہ جو حالیہ تاریخ میں راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، شوکت عزیزاور ابتدائی تاریخ میں محمد علی بوگرا، حسین سہروردی اور فیروز خان نون کو’’حادثاتی‘‘ وزیراعظم قرار نہ دے؟

ان حادثاتی وزرائے اعظم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا کہ جس کے کسی قریبی مشیر یا عہدے دار نے اس کے دور حکومت پر الگ سے کوئی کتاب لکھی ہو۔

پڑوسی ملک بھارت میں  سنجیا بارو کی لکھی گئی کتاب 'The Accidental Prime Minister' پڑھ کر اپنی قومی تاریخ کے اس بانجھ پن کا زیادہ شدت سے احساس ہوا۔

سنجیا بارو 2004 سے 2008 تک سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے  میڈیا ایڈوائز رہے۔

من موہن سنگھ کا دس سالہ دور(2004 تا 2014) بہت سے اہم اتار چڑھاو کا شکار رہا۔ خاص طور پر من موہن سنگھ کے دوسرے دور میں کرپشن کے ایسے ایسے بڑے اسکینڈلز سامنے آئے جن کے باعث بھارت کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔

من موہن سنگھ کی اپنی ذات پر تو کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا مگر وہ اپنے وزرا کی قومی دولت کی اس لوٹ مار کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔

اس کتاب میں سنجیا بارو نے من موہن سنگھ کو مکمل طور پر بے قصور مگر بے بس وزیر اعظم قرار دیا ہے۔

بارو کے مطابق جب کانگریس حکومت پر کرپشن کے الزامات لگنا شروع ہوئے تو من موہن سنگھ نے میڈیا میں یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ بے شک ان کے وزرا کرپٹ ہیں مگر وہ خود تو ایماندار انسان ہیں۔ من موہن سنگھ کے اس بے حس رویہ نے ان کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا۔

میڈیا مشیر کے طور پر سنجیا بارو کی ذمہ داری یہ تھی کہ من موہن سنگھ کے کاموں کو میڈیا میں بھر پور طریقے سے اجا گر کیا جائے۔ مگر من موہن سنگھ سنجیا بارو کو بار با ر یہی کہتے کہ دھیان رکھا جائے کہ کسی بھی حالت میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی اہمیت ان سے کم نظر نہ آئے۔

بارو کے مطابق من موہن سنگھ کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ ان کا سیاسی وجود سونیا گاندھی کی ہی بدولت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ من موہن سنگھ کےلئے سب سے پہلےسونیا گاندھی، پھر وزارت عظمیٰ اور اسکے بعد ملک کی اہمیت تھی۔

من موہن سنگھ کے سامنے کانگرس کے سابق وزیر اعظم نرسیما راو کا انجام تھا۔ نرسیما راو اپنی حکومت(1991تا1996) کے دوران سونیا گاندھی کی کسی بھی بات کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔

جب سونیا گاندھی نے کانگرس کی بھاگ ڈور سنبھالی تو نرسیما راو کو بالکل دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا۔ حتیٰ کی نرسیما راو کے انتقال کے بعد ان کے ٓخاندان کو ان کی آخری رسومات دہلی میں کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی حالانکہ یہ روایت رہی ہے کہ ہر بھارتی وزیراعظم کی آخری رسومات دارلحکومت میں ہی ادا کی جا تی ہیں۔

من موہن سنگھ پر نرسیماراو کے اس انجام کا بہت گہرا اثر تھا۔ بارو کے مطابق من موہن کے دور میں ہر اچھے کام کا کریڈٹ سونیا گاندھی کو ملتا اور جو کام بھی خراب ہوتا اس کی ذمہ داری من موہن سنگھ پر ڈال دی جاتی۔

کتاب میں یہ بھی لکھا ہے من موہن سنگھ، مشرف کے ساتھ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے خواہشمند تھے مگر سونیا گاندھی نے ان کو اگے بڑھنے سے روک دیا کہ کہیں پا کستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا سہرا من موہن سنگھ کے سر پر نہ سج جائے۔

ایک کالم میں گنجائش نہیں کہ 285 صفحات پر مبنی کتاب کے تمام اہم پہلووں کو سمو دیا جائے۔ بھارت اور اس خطے کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کتاب کا مطا لعہ ضرور کرنا چاہیے۔

اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی کسی عام انسان کےلئے ممکن نہیں ہوتی، ایسے میں ان غلام گردشوں کو سمجھنے کے لئے 'دی ایکسیڈنٹل پرائمنسٹر' جیسی کتابیں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتیں۔

عمر جاوید جیو ٹیلیوژن میں سینئر ریسرچر ہیں۔