بلاگ
12 جون ، 2017

میرے بچپن کے رمضان، بیٹھے بیٹھائے یوں ہی یاد آ گئے

میرے بچپن کے رمضان، بیٹھے بیٹھائے یوں ہی یاد آ گئے

ابھی ہم اتنے عمر رسیدہ تو نہیں ہوئے کہ پرانے قصے لے کر بیٹھ جائیں لیکن انسانی فطرت ہے کہ گیا وقت دل فریب بھی لگتا ہے اور دلکش بھی۔ اور جب بات میرے اورآپ کے بچپن کے رمضان کی ہو تو اس سے سہانہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟

آج بھی ماہ مبارک آنے سے خواتین کی ذمہ داریاں مزیدبڑھ جاتیں ہیں بلکہ رمضان کی تیاری کے لئے کئی دن پہلے سے ہی بڑے بڑے اسٹور ز کا رخ کرتی ہیں ۔ہمارے بچپن کا زمانہ سن اسی اور نوے کا سادہ سا زمانہ تھا اور سادہ مزاج لوگ ۔آج کے دور کے برخلاف گھروں کے ذائقوں کوپسند کیا جاتا اور بازاری کھانے خال خال نظر آتے۔ یقیناً اس میں بچت کے پہلو کے ساتھ صفائی کا پہلو بھی تھا۔

رمضان کی آمد سے پہلے ہی بہت سی چیزیں گھروں میں تیار کر لی جاتیں۔ چاٹ اور دہی بڑوںکے مصا لحوں سے لے کر املی ،آلوبخارے اور پودینے کی چٹنیا ں تک سب گھر پر بنتیں۔ خستہ نمک پارے ، میدے کے کھجور اور میٹھی ٹیکیاں بنا کر رکھ لیں جاتیں۔

دوسرا بڑا کام گھرکی صفائی ستھرائی کا تھا۔ دیواریں ، پنکھے جھاڑے جاتے، خوب رگڑ رگڑ کر فرش اور دروازے دھوئے جاتے ۔ غرض کہ رمضان کا چاند دیکھنے اور پہلے روزے سے جو رونق رہتی وہ عید کی چھٹیوں پر ہی جا کر ختم ہوتی ۔

سحری کا اپنا الگ مزہ تھا اور افطار کا الگ ۔اس وقت سحر و افطار پر ٹی وی کا چھیٹا نہیں پڑا تھا لہذا مسجدوںکے دسیوں اعلانات اس وقت تک جاری رہتے جب تک فجرکی آذان نہ ہو جاتی۔ آج بھی لوگوں کو یاد ہوگا کہ " حضرات ضروری اعلان سنئے ! سحری کا وقت ہوگیا ہے ‘‘اور ’’ سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے، کھانا پینا چھوڑ دیں" ۔

دوسرے شہروں سے آئے ہوئے ڈھول بجانے والے خوب ڈھول پیٹتے اور اگر اس پر بھی نہ اٹھتے توپڑوس کو حق حاصل تھا کہ آپ کے دروازے کی کونڈی بجا دیں یا آواز لگا دیں ۔ ہمارا بچپن تو ان سب آوازوں سے ہی آباد ہے۔

سحر ی کے وقت سے ہی گھروں کے کواڑ کھل جاتے اور گلی میں خوب چہل پہلی رہتی ، کوئی دہی یا دکان تک جا رہا ہے تو پوچھتا جارہا ہے کہ" خالہ جان کچھ چاہیے تو نہیں"۔

دہی اور دال سبزی یا سالن کے ساتھ سحری کالازمی جز میٹھا تھا۔ کبھی کھجلہ ، پھینی او رکبھی دودھ جلیبی کے مزے لئے جاتے اور ہماری والدہ کہتی جاتیں کہ شکر کرنے کے ہزار بہانے ! ہم تو گھر میں ہی کبھی کسی چیز کی کھیر تو کبھی کوئی حلوہ اور کچھ نہیں تو دودھ اور گڑ میں بھیگے ابلے چاول خوش ہو کر کھاتےتھے۔

ہر گھر کی کوشش ہوتی کہ مسجد یا آس پڑوس میں افطار بھیج دی جائے ۔ افطار میں بہت اور بہترین تھالوں کا کوئی رواج نہیں تھا بلکہ نیت یہ ہی ہوتی کہ روزہ دار پیٹ بھر لے۔ آج بازار کا برف لیتے ہوئے چالیس بار سوچیں لیکن تب ہر گھر میںفرج تو تھا نہیں لہذا برف دکان سے آتی۔ افطارمیں بھی ہر وقت سموسے جلیبی اور بازاری کھانے کا دستور نہیں تھا۔ اس لئے سادہ سی افطاربنتی لیکن اس میں بھی کبھی دہی بڑے یا دہی پھلکیاں ، پھلوں کی چاٹ ،کبھی کابلی چنے تو کبھی چھولے اور کبھی صرف چنے کی دال ۔ یعنی اپنی اپنی سہولت کے مطابق جوبن پڑتا بن جاتا ۔

آلو ، پالک، پیاز کے پکوڑے تو تھے ہی لیکن مصالحہ بھری ہری مرچیوں کے بغیر تو پکوڑوں کی ٹرے بے کار تھی ۔کبھی مونگ کی دال کے پکوڑے توکبھی چنے کی دال کے اور بیسن تو تھا ہی ۔ ان سب ذائقے دار کھانوںکے لئے ہماری والدہ کاکہنا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ـ ۔

رمضان کا مہینہ آتے ہی ہم بچوں کے لئے پہلی تبدیلی یہ ہوتی کہ باہر کچھ نہیں کھانا ۔ٹی وی کا شور غوں غاںتھا ہی نہیں ۔ رمضان میں ٹی وی جلد بند ہوجاتا اللہ اللہ حیر صلہ ۔اگر کہیں ڈیک پر انڈین گانے چلتے بھی تھے تو رمضان کا مہینہ آتے ہی ڈیک کو پردہ اڑا دیا جاتا۔

دوران رمضان کھیل کود کی کوئی قید نہیں تھی۔ جب سب بچے جمع جائیں توکھیل شروع۔ اور صبح سحری میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں مولسری کے پھول چنا اور تازہ گری ہوئی میٹھی میٹھی جامن کھانے کا اپنا ہی لطف تھا۔ ہاں سب کو یاد رہتا تھا کہ شور اتنا ہی مچائیں کہ سحر کے بعد سوئی ہوئی اماں اور باجیوں کی نیندیں خراب نا ہوں ورنہ کوئی بھی دروازے کھولے گا اورپڑوس کی نانی ،میاں جان یا پھرکسی باجی کی ایک ڈانٹ سب بچوں کو گھروں کو ڈور لگا نے پر مجبورکر دے گی ۔

ہاکی کو صفحہ ہستی سے جیسے مٹایا گیا ہے اب کوئی یقین کرئے گاکہ ہماری گلی کے لڑکے رمضان میں کرکٹ میچ کے بجائے ہاکی میچ کھیلتے تھے اور ہم شائقین ہاکی بن کر دونوں ٹیموں کی طرف سے تالیاں بجاتے رہتے تھے۔