-----

ماروی سرمد، عاصمہ جہانگیر اور جنرل مہرالنسا

Marwi Sarmad Asma Jahangir And General Mehrun Nisa

ماروی سرمد نے ٹوئٹر پر ایک مزے کا سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان میں صرف خواتین کی سیاسی جماعت ہونی چاہیے؟

ابھی یہ پول جاری ہے اور اس کے مکمل نتائج سامنے نہیں آئے لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اگر ایسی پارٹی قائم کی گئی تو کیا ہوگا؟ ہر سیاسی جماعت ہی میں نہیں، ہر گھر میں بھی پھوٹ پڑجائے گی۔ تمام خواتین جوق در جوق اس پارٹی میں شامل ہونا شروع ہوجائیں گی۔

سب سے اہم سوال ہے کہ اس پارٹی کا نام کیا رکھا جائے؟ پاکستان خواتین پارٹی؟ پاکستان خواتین لیگ؟ پاکستان تحریک خواتین؟ پاکستان خواتین موومنٹ؟ پاکستان خواتین اسلامی؟ جمعیت علمائے خواتین؟ مرد مار پارٹی؟

جو نامور خواتین سیاست دان اس پارٹی میں شامل ہوسکتی ہیں، ان میں مریم اورنگزیب، انوشے رحمان، تہمینہ دولتانہ، حنا ربانی کھر، شیری رحمان، نسرین ولی، فہمیدہ مرزا، شیریں مزاری، فردوس عاشق اعوان، کشمالا طارق، نسرین جلیل، خوش بخت شجاعت اور غنوی بھٹو بالکل سامنے کے نام ہیں۔ باقی ارکان اسمبلی کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں بچے گا۔

پارٹی کا صدر اور چیئرپرسن کسے بنایا جائے؟ اس کے لیے پارٹی انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔ ان انتخابات میں صرف انھیں خواتین کو حصہ لینے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو سابقہ پارٹی میں کوئی عہدہ چھوڑ کے آئی ہوں۔ سابق پارٹی پر دو چار بڑے الزامات لگاسکیں تو بلامقابلہ بھی منتخب کیا جاسکتا ہے۔

ہماری پسندیدہ پارٹی، جس کا نام ابھی زیر غور ہے، کو رجسٹر ہونے کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا پڑے گا۔ الیکشن کمیشن لامحالہ پوچھے گا کہ انتخابی نشان کیا چاہیے؟ انتخابی نشان لپ اسٹک ہوسکتا ہے لیکن مذہبی رجحان والی خواتین ووٹرز کو پسند نہیں آئے گا۔ لپ اسٹک لگانے والے مرد اینکرز کے جذبات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ انتخابی نشان دوپٹہ ہوسکتا ہے لیکن پھر ترقی پسند خواتین خفا ہوجائیں گی۔ ہماری تجویز ہے کہ خواتین پارٹی کو اپنا انتخابی نشان بیلن رکھنا چاہیے۔ اس پر کسی خاتون کو اعتراض نہیں ہوگا اور مرد پارٹیاں بھی ڈری رہیں گی۔

الیکشن لڑنے کے لیے خواتین پارٹی کو اپنا منشور بنانا پڑے گا۔ اس کے لیے عاصمہ جہانگیر، فرزانہ باری اور ماروی سرمد کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان کی طرز پر پاستہ، میک اپ اور لان کا نعرہ تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ یہ پارٹی ایسے وعدے کرسکتی ہے جو مردوں کی کسی جماعت نے آج تک نہیں کیے۔ مثال کے طور پر ہر شہر اور گاؤں میں سستے بیوٹی پارلر کا قیام، برانڈڈ ملبوسات کی قیمتوں میں کمی، ہر علاقے میں تندور کی فراہمی تاکہ روٹی پکانے کے جھنجٹ سے خواتین کی جان چھوٹے، کام کرنے والی خواتین کے لیے تین کے بجائے تنخواہ کے ساتھ نو ماہ کی میٹرنٹی لیو اور کیبل پر اسٹار پلس کے ڈراموں کی بلاتعطل نشریات۔ اس کے علاوہ مردوں کو ماسی کا درجہ دینے کا فیصلہ اور شادی شدہ مردوں کے گھر داماد بننے پر بونس کا وعدہ بھی منشور میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان خواتین پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد عین ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں میاں نواز شریف کا مقابلہ مریم نواز سے ہو، قائم علی شاہ کو نفیسہ شاہ کا سامنا کرنا پڑجائے، بلاول بھٹو کے مقابلے پر بختاور بھٹو کاغذات جمع کرادیں اور فخر امام کو عابدہ حسین کا چیلنج درپیش ہو۔

یہ امکان کم ہے کہ پاکستان خواتین پارٹی الیکشن جیت کر اقتدار میں آسکے، کیونکہ خواتین آبادی میں بے شک زیادہ ہیں لیکن رجسٹرڈ ووٹرز کی فہرست میں ان کی تعداد کم ہے۔ لیکن چند نشستیں جیت کر کسی مخلوط حکومت کا حصہ ضرور بن سکتی ہے۔ اس کے بعد اپنے چند وعدوں پر عمل کرواسکتی ہے۔

یہ پارٹی حکومت پر زور دے کر صرف خواتین کا نیوز چینل قائم کرواسکتی ہے۔ صرف خواتین کے ڈرامے اور فلمیں بنانے کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔ پارلیمان میں خواتین کی نشستوں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی نصف نشستیں اور فوجی جرنیلوں کے نصف عہدے خواتین کو دیے جاسکتے ہیں۔

اس کے بعد قوی امکان ہے کہ کسی دن جنرل مہرالنسا اسمبلیاں توڑ کر مارشل لا لگادیں گی اور دنیا کی پہلی خاتون مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا اعزاز ہمارے پاس آجائے گا۔

نوٹ: یہ ایک طنزیہ آرٹیکل ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے


مبشر علی زیدی سینئر صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ جیو نیوز سے وابستہ ہیں اور روزنامہ جنگ میں 100 لفظوں کی کہانی لکھتے ہیں۔