-----

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!

Nawaz Sharif Shahbaz Sharif And Jit

حسن نواز اور حسین نواز کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے۔

وزیراعظم نے 15 جون اور وزیراعلی نے 17 جون کومشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو سوالات کے جواب دیے۔ جس بات پر بہت ذیادہ شور مچا وہ ان دونوں کے کسی سیکورٹی اور پروٹوکول کے بغیر جوڈیشل اکیڈمی جانا تھا۔ حکمراں جماعت کے رہنماوں کی اس سادگی پہ کون نہ مرجائے جنہیں وہ ہزاروں سکیورٹی اہکار نظر نہیں آئے جو وزیر اعظم ہاوس اور پنجاب ہائوس سے جوڈیشل ایکڈمی تک شدید گرمی اور کڑکڑاتی دھوپ میں ڈیوٹی دے رہے تھے۔

یہ بات درست ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے پروٹوکول استعمال نہیں کیا  لیکن یہ کہنا کہ کسی سکیورٹی کے بغیر وہاں پہنچے درست نہیں۔ مجھے بیچارے سادہ لوح کارکنان کی سادگی پہ بھی ہنسی آتی ہے جوان رہنماوں کی باتوں پر یقین کرکے اس کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلی شہباز شریف کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے مواقع پر پولیس، رینجرز اور ایف سی کے ڈھائی ڈھائی ہزار اہکاروں کو سیکورٹی پر لگایا گیا تھا۔

یہی نہیں وزیراعظم ہاوس اور پنجاب ہاوس سے جوڈیشل اکیڈمی جانے والے تمام راستے سیل کردئیے گئے تھے۔ اور تو اور ان راستوں سے وزراء کی گاڑیوں کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ پیدل جوڈیشل اکیڈمی پہنچے۔ رہے بیچارے عوام تو ہمیشہ کی طرح ان کو گھنٹوں سخت گرمی میں انتظار کی صعوبت برداشت کرنا پڑی ۔ لیکن حکمراں جماعت کے سرکردہ رہنما اور بیان بازی کے ماہر بدستور وزیراعظم کے بغیر سیکورٹی اور پرٹوکول کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچنے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے۔ بھلا جہاں ہزاروں اہکار وزیراعظم اور وزیراعلی کی گزرگاہ پر ان کی کی حفاظت کے فرائض انجام دے رہے ہوں اور پھر سکیورٹی بھی ایسی کہ جوڈیشل اکیڈمی جانے والے راستے پر پرندہ پر نہ مارسکے تو بتائیے سیکورٹی اور کس چڑیا کا نام ہے اور اگر دیکھا جائے تو وزراء اور ان کے ساتھی بغیر سکیورٹی اور پرٹوکول کے وہاں گئے۔

بلیو بک کے مطابق وزیراعظم ، وزراء اعلی ، گورنر صاحبان ، افواج پاکستان ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سربراہان وغیرہ کو سیکورٹی فراہم کرنا ریاست کے فرائض میں شامل ہے۔ پاکستان میں تو حکمراں جماعتوں کے سربراہ کوئی حکومتی عہدہ نا رکھنے کے باوجود پروٹوکول اور سکیورٹی کا استعمال جس بے دردی سے کرتے ہیں اور اسے اپنا استحقاق سمجھتے ہیں اس سے کون واقف نہیں اور ان سے پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔ اگر سکیورٹی نا پید ہے تو بے چارے عوام کے لیے جو دن دھاڑے لٹتے رہتے ہیں اور کسی کو ان کی فکر نہیں۔

عوام کے جان و مال کے حفاظت کی ذمہ داری اپنی جگہ ، منہ اندھیرے سکیورٹی پر پہنچنے والے ڈھائی ہزار کے قریب اہکاروں نے کم ازکم دو دن میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی حفاظت کے فرائض انجام دیے۔ جس میں افسران کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو اس انتظام کے ذمہ دار اور نگرانی پر مامور تھے ۔

اگر سکیورٹی انتظامات کی ڈیوٹی دینے والے افسران اور اہکاروں کی ایک دن کی اوسط تنخواہ ایک ہزار روپے لگائی جائے تو دو دنوں میں کم از کم  50 لاکھ روپے بنتے ہیں۔  اس طرح عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کیے گئے لاکھوں روپے اس وی وی آئی پی سکیورٹی پر خرچ کردیے گئے اور کہتے ہیں کہ بغیر سیکورٹی کے پہنچے۔

افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ معصوم عوام کئی دہائیوں سے سیاستدانوں کے ہاتھوں بیوقوف بنتے چلے آرہے ہیں۔ پھر بھی یہ سادہ لوح ان پراپنے ووٹ نثار کر کے سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے گزر بسر میں بہتری آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ حد تو یہ ہے کہ ملک میں بلدیاتی نظام کے تحت منتخب ہونے والوں کے اختیارات پر قبضہ جما کر عوامی رائے کی دھجیاں اڑا دی گئیں اور ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب تک عوام اپنے ووٹ کا بلا خوف درست استعمال نہیں کریں گے تو وہ اسی طرح بیوقوف بنتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک منتخب حکومت کے بعد اب دوسری اپنی مددت پوری کر رہی ہے لیکن عوامی کے لیے بجلی، گیس اور پانی جیسے بنیادی مسائل جوںکے توں ہیں ۔ موجودہ حکومت اپنی 80 فیصد سے زائد مدت گزار چکی ہے اورعوام یہ سن سن کے تنگ آچکے ہیں کہ جلد ان کے مسائل حل ہو جائیں گے مثال کے طور پر ملک سے بجلی کے بحران کا خاتمہ ہوجائے گا۔ پہلے کہا گیا کہ چھ  ماہ میں، پھر دو سے تین سال میں اور اب 2018 میں بجلی کے بحران کے خاتمے کی نوید سنائی گئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کسی مقدمہ کی تاریخیں دی جارہی ہوں۔

بجلی، پینے کے صاف پانی، صحت و صفائی کی معقول سہولیات کا فقدان یا دیگر بنیادی مسائل میں سے کوئی مسئلہ بھی حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ حکومت مہنگائی میں کمی کے ایسے اعداد و شمار پیش کرتی ہے جنہیں سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دعوے کئے جاتے ہیں کہ مہنگائی پہلے سے کم ہوئی ہے لیکن بازار کا رخ کریں تو قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ غریب عوام جائے تو کہاں جائے؟ شکایت کریں تو کس سے ؟ صوبائی حکومتیں ہوں یا وفاقی حکومت سب کی کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے کہ عوامی مسائل کی بازگشت بہرے کانوں میں جا کر کہیں گم ہو جاتی ہے ۔

حکمرانوں اور سیاسی رہنماوں کو چائیے کہ عوام سے سچ بولیں۔ انہیں اپنی لگی لپٹی باتوں سے گمراہ کرنا چھوڑ دیں کیوں کہ جب وہ ہی صحیح بات نہیں کریں گے تو عوام سے سچ بولنے اور غلط کام نہ کرنے کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے؟


رئیس انصاری جیوز نیوز لاہور کے بیورو چیف ہیں۔