-----

عیدالفطر،تخت لاہور اور برسات کی رم جھم

Eidul Fitr Takhte Lahore Aur Barsat Ki Rimjhim

جس دن کا سال بھر انتظار رہتا ہے، خصوصاً ہماری بچیاں اس دن کےحوالے سے کیا کیا سوچتی ہیں اور باپوں سے لاڈ کر کے کیا کیا منوا لیتی ہیں، بھائی اکثر منہ تکتے رہ جاتےہیں پھر مائیں ان کو سمجھاتی ہیں کہ یہ چڑیاں ہیں، ایک دن اڑ جانا ہے تو بھائیوں کو بھی پیار آ جاتا ہے۔

بات ہو رہی ہے عید الفطر کی جس کا آج تیسرا دن بھی گزر گیا، موسم کا عید سے بڑا گہرا تعلق ہے، موسم جتنا خوشگوار ہو گا عید بھی اتنی ہی خوشگوار گزرے گی۔

لاہور میں عید کا پہلا دن گویا یوں تھا کہ حبس کا ایک سمندر تھا جس کے پسینے میں لاہوریے سارا دن تیرتے رہے، انٹرنیٹ پر موسم بتانے والے سافٹ وئیرز بارش کی نوید دیتے رہے لیکن جناب بارش تھی کہ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، حکومت وقت کا بھلا ہو جس نے لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا وعدہ پورا کیا اور لاکھوں اے سی چلنے کے باوجود حکومت کا بھرم قائم رہا۔

اس دوران سیاسی موسم بھی بہت گرم رہا، یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مسئلے کی جڑ موجودہ حکومت ہے، ہم چونکہ خود میڈیا کا حصہ ہیں اس لیے سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں اور کٹھ پتلی سیاست دان پاکستان کی سوچنے کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کے لیے نا عاقبت اندیش پالیسی سازوں کے ہاتھوں ناچ رہے ہیں۔

ٹرو کے روز یعنی دہلی اور کراچی کی اردو میں باسی عید والے دن موسم نے پلٹا کھایا اور لاہور میں برسات کی رم جھم نے موسم کو خوشگوار کر دیا، لوگ گھروں سے نکل آئے اور سڑکوں پر سیر سپاٹے اور آوارگی شروع ہو گئی۔

کراچی میں ہمارے دوست نے بتایا کہ باسی عید بھی سیاسی موسم کی طرح تلخ اور گرم ہی گزری، آج عید کے تیسرے اور آخری دن لاہور گویا ملکہ کوہسار مری کا نظارہ پیش کر رہا تھا، لگتا تھا کہ لاکھوں ٹن اے سی چل رہے ہیں، ٹھنڈی برف جیسی ہوارم جھم کرتا موسم اور پاکستان کا دل لاہور۔

آج زندہ دلان لاہور کی خوشی دیدنی تھی کیونکہ سہانے موسم کی وجہ سے عید ٹھیک طرح سے منائی جا سکی، میوزک کی محفلیں، گرما گرم پکوڑے، حلوے اور لاہوری پکوان۔ غرض وہ سب کچھ کیا گیا جو مغلوں کے اس تاریخی شہر کا خاصا ہے اور اسی لیے تو اس شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔

آج ابر رحمت اہل کراچی پر بھی کھل کر برسا، پاکستان بھر کا موسم اس رم جھم نے خوشگوار کر دیا ہے لیکن سیاسی موسم خوب تپا ہوا ہے، سیاسی آسمان پر گہرے سیاہ بادلوں کے ساتھ گرج چمک اور گونج دل دھلا رہی ہے اور بیانات کی رم جھم کا آج سے آغاز بھی ہو گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے اس مرتبہ برسات سارا منظر نامہ بدل دے گی۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، حال ہی میں بہترین میڈیا ایجوکیشنسٹ بھی قرار پائے ہیں)