-----

شریفوں کا غیر یقینی سیاسی مستقبل

Shareefon Ka Ghair Yaqeeni Siyasi Mustaqbil

جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے پہلی بار وزیر اعظم نواز شریف کی چہیتی بیٹی مریم کو طلب کرلیا ہے۔ 5جولائی کو ان کی طلبی کو پوچھ گچھ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

نواز شریف کیلئے چیلنج دگنے ہوگئے ، انہیں اپنی پارٹی اور خاندان دونوں کا دفاع کرنا ہے۔ کچھ ناقدین کی رائے میں سب کچھ ختم ہوچکا لیکن اپنی جگہ ڈٹے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کو اس پر شک ہے۔ ماضی میں شریف برادران1999کے بدترین سیاسی بحران سمیت کئی بحرانوں اور چیلنجوں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن انہیں آج جس کیفیت کا سامنا ہے وہ بہت مختلف ہے۔

آئندہ دس دنوں میں جے آئی ٹی کے بارے میں بہت کچھ واضح ہوجائے گا۔ اس کی رپورٹ مکمل ہو جائے گی۔ اکثر کے خیال میں اس کے مضمرات مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہوں گے۔ 5جولائی کو مریم کا طلب کیا جانا محض اتفاق ہوسکتا ہے۔

اسی روز 40 سال قبل ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا تھا۔ اسی مارشل لاء نے شریف برادران کے سیاسی کیرئیر کی ابتداءکی تھی۔

اگر چہ جے آئی ٹی اعترافی بیان کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی طلب کرلیتی ہے تو شریف خاندان کی پاناما کیس کے تحت زیر تفتیش دولت، اثاثوں اور منی ٹریل کی جانچ پڑتال مکمل ہوجائے گی۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ میں پیش کی جائے گی جس کی روشنی میں وہ اپنا فیصلہ مرتب کرے گی۔ اکثر کی رائے میں یہ فیصلہ سیاست میں شریفوں کی قسمت کا حتمی فیصلہ کردے گا۔

اس خاندان کی ایک رکن جسے جے آئی ٹی نے طلب نہیں کیا وہ وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم ہیں۔ شریفوں نے جے آئی ٹی پر پہلے ہی سوال اٹھایا ہے اور حسین نواز کی فوٹو لیک کے بعد تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا کہ وزیر اعظم ڈٹے رہنے کے موڈ میں ہیں لیکن انہیں اب تک دیگر سیاسی جماعتوں کی کم ہی پشت پناہی حاصل ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے نہایت قریبی اتحادی مولانا فضل الرحمٰن بھی ان کے ہم نوانظر نہیں آتے۔ جنہوں نے پہلی بار اس جانب اشارہ کیا کہ نواز شریف کو بڑے مشکل کیس کا سامنا ہے اور وہ حتمی فیصلے کا انتظار کریں گے۔

5جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے مریم کی پہلی پیشی ہوگی۔ انہوں نے پرویز مشرف کے دور میں ایک بار اپنے والد کا انجام دیکھا جب انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے انہیں سزائے عمر قید سنائی تھی۔

وہ اپنی والدہ کے ساتھ کراچی کی اس عدالت میں موجود تھیں۔ اکثر کے خیال میں سعودی عرب کی حمایت حاصل کرنے اور اپنے خاندان کو دس سالہ سیاسی جلاوطنی کیلئے بچاکر نکال لے جانے میں مریم کا اہم کردار رہا۔

آج صورتحال بڑی مختلف ہے۔ انہیں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے ’’کلین چٹ‘‘ کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بیٹی مریم ہی کو اپنا ہمیشہ سے سیاسی وارث سمجھا۔ دونوں باپ بیٹی اس کیس کی اہمیت اور 5جولائی کو پوچھے جانے والے سوالات کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے مریم کو طلب کرنے پر جے آئی ٹی کو ہدف تنقید بنایا کیونکہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کے قبل ازیں فیصلے میں مریم کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ لیکن جے آئی ٹی اس کیس سے متعلق کسی کو بھی طلب کرنے کیلئے بااختیار ہے۔

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان حتمی عدالتی فیصلے کے حوالے سے خاصے پر امید ہیں جس کے نتیجے میں وہ آئندہ عام انتخابات جیت جائیں گے۔

نواز شریف کو معلوم ہے اگر انہیں شہباز شریف  اور مریم کو کچھ ہوجاتا ہے تو ان کے لئے پارٹی کو سمیٹے اور یکجا رکھنا آسان نہ ہوگا۔

مریم کوئی منتخب نمائندہ نہیں، شریفوں کے خروج کی صورت ان کا سیاسی مستقبل غیر یقینی ہوگا۔ خواجہ سعد رفیق سمیت کچھ مسلم لیگی رہنمائوں کے خیال میں مائنس شریف فارمولے پر کام ہوریا ہے۔ جو ان کیلئے ناقابل قبول ہے۔

سوال یہ ہے کہ فیصلہ خلاف آنے پر پارٹی آئندہ عام انتخابات میں کیسے بچ نکل سکے گی اور کون پارٹی کی قیادت کرے گا؟

 ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی بے نظیر کے سیاسی وژن کے باعث مشکل وقت میں  بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی لیکن بالاخر 2013کے عام انتخابات میں اس کا زوال ہوگیااور اسے دوبارہ سے عروج حاصل کرنا مشکل ہورہا ہے۔

نواز شریف مشرف دور اس لئے سہار گئے کیونکہ سابق صدر نے انہیں نکال باہر کیا تھا۔ لیکن اب تو نواز شریف اقتدار میں ہیں اور انہیں ایک ایسے مقدمے میں پھنسے ہیں جو ایک بین الاقوامی لیک کے نتیجے میں قائم ہوا۔

لہٰذا اس مقدمے کو کسی سازش کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کوئی سازش ہے بھی انہیں سپریم کورٹ کو مطمئن کرنا ہوگا۔

اب ہر کسی کو تین رکنی بنچ کی حتمی آبزرویشن کا انتظار ہے۔ جس نے جے آئی ٹی تشکیل دی۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ شریف برادران پاناما کیس کے بعد کی حکمت عملی طے کریں کہ پارٹی کو کس طرح سلامت رکھنا اور خود کو بچاکر نکال لانا ہے۔