-----

نوٹس پہ نوٹس

Notice Pe Notice

احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر حادثے کے بعد بہنے والا تیل اکٹھا کرتے ہوئے آگ لگنے سے 170سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نوٹس لے لیا، مرنے والوں کے لیے بیس بیس لاکھ اور زخمیوں کو دس دس لاکھ روپے کے اعلانات بھی ہو گئے اور جن افراد کی شناخت ہو گئی انہیں چیک بھی دے دیے گئے۔

وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حادثے کے مقام کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا، اسپتال جا کر زخمیوں کی عیادت کی۔

لاہور میں دھماکا ہوا جس میں اعلیٰ پولیس افسران شہید ہوگئے، وزیراعظم، وزیراعلیٰ نے اس وقت بھی نوٹس لیا اور شہید ہونے والے اعلیٰ افسران کو پانچ پانچ کروڑ جبکہ دیگر شہید ہونے والے اہلکاروں اور شہریوں کے لیے بھی امداد کا اعلان کیا گیا اور ایک خطیر رقم تقسیم کی گئی۔

یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک میں کوئی بڑا واقعہ ہوجائے تو نوٹس لیا جاتا ہے اور مذمت کی خبر فوری جاری کروادی جاتی ہے لیکن جائے واقعہ سے شواہد کم اکٹھے کئے جاتے ہیں۔

حکومتی وزراء اور رہنماؤں کے دورے زیادہ ہوتے ہیں لیکن اسپتالوں میں مریضوں کے لیے سہولتوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کمی ہو رہی ہے۔

واقعے کے زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو پریشان زیادہ کیا جاتا ہے اور علاج کم، جب کبھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے یا دہشت گردی کا واقعہ تو حکومت کی جانب سے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ کردیا جائے گا، وہ کردیا جائےگا، اس قسم کے واقعات کا سدباب کیا جائے گا۔

شہر میں آتش بازی کے سامان میں آگ لگ جائے تو حکومتی اہلکار کہتے ہیں کہ ان کارخانوں کو شہر سے باہر منتقل کردیا جائے گا، ان کے خلاف کارروائی ہو گی، لیکن تین سے چار روز تک لوگوں کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا، کام اسی طرح جاری رہتا ہے۔

لاہور میں ایک بار سلنڈر پھٹنے سے پوری بلڈنگ گرپڑی، اس وقت بھی نوٹس بازی کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ کسی رہائشی یا کاروباری عمارت کے نیچے ایسی دکانیں نہیں کھولنے دی جائیں گی لیکن آج بھی جاکر دیکھیں تو رہائشی عمارتوں کے نیچے دھڑلے سے سلنڈرز بھرنے کا کام بغیر کسی احتیاتی تدابیر کے سر عام ہورہا ہے۔

کہیں کوئی بوسیدہ عمارت گر جائے تو کہا جاتا ہے کہ اب تمام خطرناک عمارتوں کو خالی کروا کر گرا دیا جائے گا لیکن یہ عمارتیں آج بھی جوں کی توں موجود ہیں اور لوگ وہاں رہ رہے ہیں۔

حکومتی افسران اور اہلکار بھی سمجھ گئے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے دعوے وقتی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں اور چند دنوں میں انہیں بھلا دیا جائے گا۔

دنیا میں کوئی بھی اس قسم کا ہولناک حادثہ ہوجائے تو اس کے محرکات کو دیکھنا اور شواہد اکھٹا کرنا سب سے اہم ہوتا ہے، چند ماہ پہلے برطانیہ کی ایک شاہراہ پر ٹائر پھٹنے سے کار کے حادثے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔

تحقیقات شروع ہوئیں تو پتہ چلا کہ ٹائر غیر معیاری تھا جو حادثے کا باعث بنا، حکومت نے اس کمپنی کے ٹائرز کی فروخت پر پابندی لگا کر تمام ٹائر مارکیٹ سے اٹھوا دیئے، ساتھ ہی کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کر کے مرنے والوں کے ورثاء کو خطیر رقم دلوائی اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا کیوں کہ جانی نقصان تو پورا نہیں کیا جاسکتا لیکن مزید لوگوں کو مرنے سے ضرور بچایا جاسکتا ہے۔

مگر ہمارے وطن میں حال یہ ہے کہ تیس تیس، چالیس چالیس سال پرانے ٹرالر، ٹرک، مسافر بسیں اور ویگنیں کے علاوہ نہایت خستہ حال پرائیویٹ گاڑیاں بھی سڑکوں پر فراٹے بھرتی نظر آئیں گی لیکن ادارے ہیں کہ بوجوہ اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

گیس سلنڈر کی دکانیں، آتش بازی کا سامان، سو سو سال پرانی مخدوش عمارتیں، سب اسی طرح موجود ہے، اگر کچھ نہیں ہے تو قانون کا نفاذ، عوام کی جان و مال کے تحفظ کے اقدامات اور کسی حادثے کی صورت میں معیاری طبی سہولتوں سے آراستہ اسپتال وغیرہ وغیرہ۔

اگر کچھ ہے تو وہی نوٹس اور دعوؤں کی بھرمار ہے کہ یہ کردیں گے،وہ کردیں گے، ہماری حکومتوں کا کام بھی یہی رہا ہے کہ سدباب نہ کرو وقتی طور پر پیسے دے کر لوگوں کے منہ بند کردو، جن کے پیارے دنیا سے چلے جاتے ہیں وہ بھی پیسے لے کر چپ ہوجاتے ہیں کہ جانے والے نے اب واپس تو نہیں آنا۔

زخمی بھی کہتے ہیں کہ کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے کہ جو ملتا ہے لے لو، عوام بھی چپ ہو جاتے ہیں کہ جن کا مسئلہ ہے جب وہی نہیں بول رہے تو وہ کیا آواز اٹھائیں، میڈیا بھی مصالحہ مل جاتا ہے اور وہ پیسے دینے کی خبر کو خوب پیٹتا ہے، لائیو پریس کانفرنسیں دکھائی جاتی ہیں، چیک تقسیم ہونے کی خبریں شہہ سرخیوں میں لگتی ہیں، ہیڈ لائن بنائی جاتیں ہیں، افسوس کہ رات گئی بات گئی کی مثل اصل واقعہ اور اس کے محرکات کے پہلو یکسر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

روز نئی خبریں، روز نئے واقعات، ان کا تدارک کرنا شاید کسی کی ذمہ داری نہیں،کیا ہوا عوام تو بس عوام ہیں، ارباب اختیار کی چکنی چپڑی باتوں سے ہی بہل جاتے ہیں اور میڈیا کو بھی حقائق کی کھوج لگانا اور حکومت کو وعدے اور دعوے یاد دلانا بھی یاد نہیں رہتا۔

زندگی اور موت صرف اللہ تعالیٰ کےاختیار میں ہے لیکن اللہ نے انسان کو عقل بھی دی ہے، جس طرح کوئی شخص اونچی عمارت سے چھلانگ لگائے گا تو اس کی موت یقینی ہے بالکل اسی طرح ٹرالر سے بہنے والے تیل کو بوتلوں، واٹر کولر، ڈرم اور بالٹیوں میں بھرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آگ لگنے کی صورت میں ان کی موت یقینی ہے اور وہ زندہ جل جائیں گے، احمد پور شرقیہ میں بھی ایسا ہی ہوا، اگر لوگ لالچ میں آکر تیل لوٹنے نہ جاتے تو اپنی جان نہ گنواتے اور بچ جاتے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹرالر اپنی معمول کی رفتار سے جا رہا تھا کہ اس کے آگے جانے والی مسافر بس نے اچانک بریک لگا دیے جس کو بچانے کی کوشش میں آئل ٹینکر الٹ گیا، یہ تو مکمل تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا کہ اس ہولناک حادثے کی وجوہات کیا تھیں اور وہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں جمع ہوئے اور ٹینکر میں آگ کیسے لگی؟

ان سوالات کے جواب اپنی جگہ مگر کیا یہ ممکن ہو گا کہ تحقیقات کو سامنے لایا جائے اور اس میں ملوث افراد کو سزا دی جائے اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومتی ادارے خواب خرگوش سے بے دار ہو کر اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر بھی کوئی وجہ دیں گے؟ میراتجربہ تو یہ کہتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے اور بس اللہ ہی رحم کرے گا۔