-----

پھر ساون رت کی پون چلی ،’ تم‘۔۔ یاد آئے

Phir Sawan Rutt Ki Pon Chali Tum Yaad Aaye

بادل، ساون اور اس کے بعد اٹھنے والی مٹی کی خوشبو کے ساتھ ناصر کاظمی کی غزل ہو اور غزل سرا ہوں نیرہ نور تو کیا ہی کہنا ہے۔

برستی بارش ہو ،ہاتھ میں کوئی اچھی کتاب کے ساتھ بھاپ اڑاتی چائے یا کافی ہو اور پس منظر میں اسی طرح کا کوئی خوبصورت گیت ۔ سمجھیں آپ نے موسم سے ساری تازگی کشید کر لی ۔ بہت عرصے بعد ہم نے عید کی لمبی چھٹیوں میں بھیگے ہوئے موسم کا مزہ اس پرانے اندازمیں لیا ۔

ہم کراچی والے تو کئی سالوں سے صرف بوندہ باندی کو ہی بارش اور مون سون سمجھ لیتے تھے ۔ موسم برسات ملک کے بالائی علاقوں سے شروع ہوتا اور وہیں کہیں برس کر ختم ہو جاتا۔ کالی گھٹاؤں نے کتنی ہی بار ہم سے دغا کی اور ہم دیکھتے کہ بادل آتے، ادوھم مچاتے لیکن ابر بادو باراں، یک دم چمکتی دھوپ میں بدل جاتا ۔

ہم بارش کی کمی کی فریاد اس لئےکر رہے ہیں کہ سنتے ہیں کبھی ساون کی چھڑی لگتی تھی ۔ہمیں بھی یاد ہے کہ کراچی کی بارش سے دوستی تھی اور اکثر ایسا جل تھل رہتا کہ کئی بار سارا باورچی خانہ ایک تخت اور چوکی پر سما جاتا ۔

ہماری والدہ کے جہیز کے کتنے ہی گوٹا کناری والے قیمتی غرارے اور ساڑیاں ان بارشوں کی نظر ہو گئیں اور ہم نے بھی چوکی پر بیٹھ کراس پانی میں کاغذ کی کشتیاں چلائیں۔

ہر موسم کی طرح برسات کی بھی اپنی سو سو ، سوغاتیں، ہزار ہا باتیں اور قسم قسم کے پکوان ہیں ۔ گرمی اور سردی کی بارشوں میں لاکھ فرق سہی لیکن کچھ چیزیں ہمیشہ ساون بھادوں سے جڑی رہیں گی۔ جیسے گھرکے آنگن میں ابھی بارش کی پہلی بوند پڑی نہیں کہ چولہے پر کڑا ھائی چڑھادی جاتی ہے ۔ کبھی چھیکے تو کبھی گرم پکوڑے دہی اور ہرے دھنیے پودینے کی چٹنی میں ڈبو کر کھانا، نظیر اکبر آبادی کی برسات کی بہارئیں جیساہی لگتا ہے ۔

آپ نے لاکھ ناشتہ حلوہ پوری سے کیا ہو لیکن کھانے پر لہسن مرج کی چٹنی ، تلی مرچوں اور اچار کے ساتھ گرم بیسنی روٹی پر مکھن یااصلی گھی کی خوشبوآپ کوکھانے کی میز پر کچے دھاگے کی طرح نہ کھیچ لائے تو کہیے گا!

خیال رہے کہ ہم موسم برسات کے ساتھ ان مزیدار کھانوں کے عادی ہیں۔ آپ دیکھ لیجئے گا کہ کہیں معجون ناکھانا پڑے!

پاک و ہند کی تہذیب میں آم اور ساون ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں ۔ گرمی ابھی اپنے جوبن پر پہنچتی ہی ہے کہ موسم کو ٹھنڈا کرنے بارش اور آم ایک ساتھ آن پہنچتے ہیں ۔ پھر کون ہوگا جو بارش کے موسم میں، پانی میں بھیگے ہوئے آموں کا مزہ نہ لے ۔ ہمارا بھی بھائی غالب کی طرح یہی ماننا ہے کہ ’آم ہوں اور خوب ہوں‘ ۔

آپ کواس بات سے انکار ہے توزرا، آم کے ٹھیلے کے پاس سے گزر کر تو دیکھیں ۔ انوراٹول ، سندھڑی ، دسہری ، گلاب خاص، چونسا اور طوطا پری کی خوشبو آپ کے قدم نہ روک لے تو کہیے گا۔

اب اگر آموں کی روایت مینگو پارٹیوں سے جڑی ہے تو ماضی میں اپنے باغوں کے آم بہن بیٹیوں کے گھر دینے کی روایت بھی تھی لیکن اب باغ رہے نہ ہی باغیچے بلکہ اب تو گھروں میں آم کے پیڑ لگانے تک کی روایت تک نہ رہی ۔ خاندان کے دیگر بڑوں کے گھروں سے آم آتے بھی ہیں اور ہمارے ہاں سے بھیجے بھی جاتے ہیں لیکن جو مزہ ہماری خالہ جان کے گھر کے پیڑ پر پکے آموں میں تھا وہ پال پر پکے آموں میں کہاں۔