Can't connect right now! retry
Advertisement

خصوصی رپورٹس
11 جولائی ، 2017

سینٹرل جیل کراچی کے انتظامات پولیس نہیں قیدی چلاتے ہیں

سینٹرل جیل کراچی کے انتظامات پولیس نہیں قیدی چلاتے ہیں

کراچی کی سینٹرل جیل میں قید دہشت گردوں کا جیل کے اندر سے ہی اپنا نیٹ ورک چلانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ جیل کے انتظامات پولیس نہیں قیدی چلاتے ہیں۔

جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے پر سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل حکام کالعدم تنظیموں کے قیدیوں خصوصا حافظ قاسم رشید عرف گنجے سے ڈرتے ہیں۔

خوف کی وجہ سے جیل حکام ان قیدیوں پر ضابطے کی پابندی نہیں کرواپاتے جبکہ عملی طور پر کالعدم تنظیموں کے قیدی جیل چلا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خوف، نا اہلی یا غفلت کے باعث جیل انتظامیہ ان قیدیون کا کہا ماننے پر مجبور ہے،  سپریٹنڈنٹ سمیت جیل کے سینئر حکام  اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں جبکہ زیادہ تر جیل حکام کرپشن سے بھرپور اس سسٹم کا حصہ بننے پر راضی ہوجاتے ہیں۔

سی ٹی ڈی کے مطابق جیلوں میں کالعدم تنظیموں یا سیاسی جماعت کے قیدی دھمکیاں دے کر کام چلاتے ہیں جبکہ دیگر قیدیوں کو سہولیات کے لیے ہر چیز کے پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں، ان حالات کے باعث قیدی کورٹ کلرکس تک بن جاتے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ قیدی اس حد تک آزاد ہیں کہ وہ وارڈز اور کھولیوں کو کھولتے اور بند کرتے ہیں۔ 

سی ٹی ڈی کے مطابق جیل میں ہائی پروفائل قیدی جو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، وہ کورٹ سمن کے بغیر جوڈیشل کمپلیکس جاتے ہیں، کسی بھی وارڈ میں چلے جاتے ہیں۔

13 جون کو قیدیوں کے فرار پر رپورٹ میں کہا گیا کہ فرار ملزمان میں سے ایک بغیر سمن کے جوڈیشل کمپلیکس گیا،  فرار دہشت گردوں کا اگلے دن تک پتا اس لیے نہیں چلا کہ گنتی بھی قیدی خود ہی کرتے ہیں، جیل کی اس بد تر صورتحال کے باعث دونوں دہشت گرد با آسانی فرارہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیل میں رہنا دہشت گرداپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ یہاں یہ قانون کی گرفت سے باہر ہیں، گرفتار جیل اہلکاروں نے  انکشاف کیا ہے کہ یہ سسٹم 15 سے 20 سالوں سے چل رہا ہے، ان دہشتگردوں کو سزاؤں کا بھی خوف نہیں ہے۔

فرار دہشت گرد شیخ ممتاز 2013 میں گرفتار ہوا تھا، اسکے مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں تاہم کسی کا فیصلہ نہیں ہوا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق حافذ قاسم رشید عرف گنجا جیل انتظامیہ، پولیس افسران، گواہوں اور جوڈیشل اسٹاف کو دھمکیاں دیتا ہے،  کراچی ایئر پورٹ حملے میں گرفتار سرمد صدیقی کا بھی یہی حال ہے جبکہ کھلے عام دھمکیاں دینے کے باوجود جیل انتظامیہ انہیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔

سی ٹی ڈی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کے فرار کی ذمے داری جن جیل افسران پر ڈالی گئی ہے اس میں بھی بد دیانتی ہے، جن پر ذمے داری ڈالی گئی ہے ان میں سے بیشتر فرار کے ذمےدار نہیں ہیں،  جن کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے وہ محکمہ جیل خانہ جات کے مضبوط افسران ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے قیدی آیندہ فرار نہ ہوں اس کے لیے ٹھوس اقدامات کی  ضرورت ہے۔

Advertisement