-----

ایک شہید پولیس اہلکار کی بیوہ کی زندگی

My Life As The Widow Of A Slain Police Officer

جب میرے شوہر سب انسپکٹر جعفر بلوچ کی شہادت ہوئی تو ان کی عمر صرف 45 سال تھی۔ 14 اگست 2008 کی رات ایک خود کش بمبار نے مون مارکیٹ لاہور کے قریب دھماکا کرکے جعفر سمیت 11 پولیس افسروں کو شہید کر دیا۔

اس واقعہ سے کچھ عرصہ پہلے پولیس نے چند خطرناک دہشتگردوں کو اسی علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ تب ہی سے اقبال ٹاون تھانے کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔

افسروں نے اسی تھانے میں ایک ایف آئی آر بھی جمع کرا دی تھی جس میں لکھا تھا کہ اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ذمہ دار یہی دہشتگرد ہوں گے۔


مگر جعفر کو ان دھمکیوں سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ موت کا دن تو مقرر ہے، اس لیے ڈرنا کیسا؟  


جس وقت جعفر پر حملہ ہوا، اس وقت میں اور میرے تینوں بیٹے یومِ آزادی کی خوشیاں منا رہے تھے۔ پھر محلے والوں نے ہمیں بتایا کہ مون مارکیٹ میں حملہ ہوا ہے۔ ہم نے ٹی وی لگایا۔ اس وقت میڈیا یہ بتا رہا تھا کہ جعفر کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

میرے بیٹے اپنے والد کو ڈوھونڈتے ڈوھونڈتےجناح ہسپتال جا پہنچے۔ تب تک پولیس کو پتہ چل چکا تھا کہ جعفر دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن ہسپتال میں ان کو بھی نہ سمجھ آئی کہ ایک عورت اور اس کے تین بچوں کو یہ کس طرح بتائیں کہ ان کے گھر کی چھت نہیں رہی۔

باپ کی موت کی خبر سن کے میرا منجھلا بیٹا چھت کی طرف دوڑا۔ اگر اس کے دوست اس کو واپس نا کھینچ لاتے، تو میں شاید ایک بیٹے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی۔

جب تحقیقات مکمل ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اس رات ہوا کیا تھا۔  میرے شوہر اور باقی پولیس والے گلشن اقبال پارک جانے کی تیاری میں تھے۔ جعفر نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کلمے کا ورد کریں کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

سب وین میں بیٹھنے ہی والے تھے کہ انہیں ایک داڑھی والا شخص قریب آتا دکھائی دیا۔ جعفر نے ایک کانسٹیبل سے کہا کہ اس کو روکو۔ لیکن دہشتگرد نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اڑا دیا۔ جب میرے شوہر کو ایمبولینس میں ڈالا گیا، تو آخری لمحات میں بھی ان کے ہاتھوں میں تسبی اور ہونٹوں پر کلمہ تھا۔


ہمارے نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔۔۔میرے بچے اپنے باپ کی شفقت کے لئے ترستے ہیں۔


جعفر ان کے والد ہی نہیں، دوست بھی تھے۔ خود میں بھی اکثر شام کو انتظار کرتی ہوں کہ جعفر گھر آنے والے ہیں۔ پولیس والوں کی بیویوں کو انتظار کی عادت ہوتی ہے۔ میری عادت نو سال بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔

جعفر کے جانے کے بعد مالی مشکلات کا سلسلہ شروع ہوا۔ حالانکہ جعفر کی تنخواہ کے ساتھ  مجھے بچوں کی فیس ملتی رہی، لیکن ہاتھ تنگ ہو گیا۔ اگر پولیس  کاادارہ فیس نہ دیتا تو میں بچوں کو اعلیٰ تعلیم نہ دلوا پاتی۔

حکومت نے مجھے صرف تین لاکھ روپے دیے۔  لیکن میں ان کی بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے افسران کی تنخواہ بڑھا دی۔ جعفر کو زندگی میں اتنی اجرت نہ ملی جتنی  اس کے گھروالوں کو اس کے مرنے کے بعد دی گئی ۔

بس ایک خواہش ہے اور وہ یہ کہ کاش فوجی کی بیوہ کی طرح پولیس والے کی بیوہ کو بھی گھر مل جائے، خواہ وہ تین مرلے کا ہو۔


ہم ابھی تک کرائے پر رہتے ہیں۔ لوگ ہمیں گھر دینے کو تیار نہیں۔


 مجھ سے پوچھتے ہیں’’کرایہ کیسے دو گی؟‘‘۔  مالک مکان کہتے ہیں کہ گواہ اور گارنٹی لاؤ، ورنہ گھر نہیں ملے گا۔ میں نے کئی گھر بدلے ہیں۔ مستقل پتے کی جگہ ایک قریبی ورک شاپ کا پتہ استعمال کرتی ہوں۔ اس طرح ضروری دستاویزات مجھ تک پہنچ جاتے ہیں۔ میں ایک شہید پولیس والے کی بیٹی کو جانتی ہوں جس کو رشتہ نہیں ملتا، کیونکہ وہ کرائے کے مکان میں رہتی ہے۔

آخر میں ایک التجا ہے، اور وہ یہ کہ جو عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے جان تک دے، ان کو ’’گلو بٹ‘‘نہ کہا جائے۔ ہماری قربانی کی کچھ تو لاج رکھ لی جائے۔

میرے شوہر کی تدفین ان کے آبائی علاقے جھنگ میں ہوئی۔ میرے بیٹوں نے اپنے والد کے خون سے لت پت بوٹ ان کے قدموں سے اتار کر سنبھال لیے۔ وہ بوٹ آج بھی گھر کے دروازے کے ساتھ رکھے ہیں۔ ان کو دیکھ کر میرے بیٹوں کو اپنے والد کی میراث پر فخر محسوس ہوتا ہے۔


 زبیدہ ناہید نے اپنی داستان جیو نیوز کی نتاشہ محمد زئی کو بیان کی