-----

جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں، مریم اورنگزیب

Jit Report Not Supreme Courts Decision Marriyum Aurengzeb

 اسلام آباد: وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ہے۔

پاناما کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پاکستان کے آئین اورقانون کے مطابق فیصلہ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں شریف خاندان نے تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرائے ہیں تاہم غیرتصدیق شدہ دستاویزات کی گواہی کون دے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 10 کی فراہمی کی استدعا کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندانی کاروبار کے ساتھ کرپشن کا کوئی کیس جوڑا نہیں جا سکا، جےآئی ٹی رپورٹ کی زبان سے پتا چلتا ہے کہ یہ بدنیتی پرمبنی ہے تاہم اس نے بھی وزیراعظم پر کوئی الزام نہیں لگایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کس آئین و قانون کے تحت جے آئی ٹی ابھی تک اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے؟

 اس سے قبل پاناما کیس کی اہم ترین سماعت میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے وکلا سمیت شیخ رشید نے دلائل مکمل کیے جس کے بعد عدالت نے شریف خاندان کے وکیل کے دلائل کے آغاز میں سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ کی بنائی گئی جے آئی ٹی نے گزشتہ ہفتے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی جس کے بعد اس کیس کی آج پہلی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ کے حکم پر 20 اپریل کو شریف خاندان کی منی ٹریل کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جسے 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔

جے آئی ٹی نے 10 جلدوں پر مشتمل اپنی حتمی رپورٹ میں کہا کہ شریف خاندان کے معلوم ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں تضاد ہے۔