-----

کراچی: لیاقت آباد میں 3منزلہ عمارت گرگئی،5 افراد جاں بحق

Karachi Liaqatabad Mai 3 Manzila Imarat Gir Gai 3 Afrad Jaan Bahaq

کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 9 میں 3 منزلہ رہائشی عمارت گرنے 5 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔

جیونیوز کے مطابق علاقہ مکینوں کا کہنا ہےکہ عمارت کافی مخدوش تھی اور ایک طرف جھک گئی تھی جب کہ اس رہائشی بلڈنگ میں ناقص میٹریل بھی استعمال کیا تھا جس کےباعث پوری عمارت زمین بوس ہوگئی۔

واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے اپنی مدد سے کچھ زخمیوں کو باہر نکالا جب کہ حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار بھی جائے حادچہ پر پنہچ گئے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

عمارت کے ملبے تلے دب کر خاتون ،بچے اور ایک مرد سمیت 5 افراد  جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے خدشے کے باعث امدادی کام بہت احتیاط سے کیا جارہا ہے تاکہ ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے افراد کو محفوظ باہر نکالا جاسکے، اس لیے امدادی سرگرمیوں میں مزید 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں جب کہ جائے حادثہ پر عوام کا رش ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے میں پھنسے ایک شخص نے امدادی کارکنوں کو آواز دے کر اپنی جانب متوجہ کیا جس کے بعد اسے باحفاظت نکال لیا گیا۔

 ریسکیو حکام کی جانب سے عمارت گرنے کی وجہ اس کے مخدوش ہونے کے ساتھ ساتھ برسات کے موسم کو بھی قرار دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عمارت اور خستہ حال ہوچکی تھی۔

عمارت گرنے سے اس کے قریب موجود دیگر عمارات کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کے بعد متصل رہائشی عمارت کو خالی کرالیا گیا ہے۔

علاقے کی رہائشی عینی شاہد خاتون کا کہنا ہے کہ عمارت گرنے کا واقعہ رات ڈھائی بجے کے لگ بھگ پیش آیا جس کی دھماکے دار آواز سے علاقہ مکین جاگ گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس عمارت میں متعدد خاندان رہائش پذیر تھے جب کہ اس کے نیچے دکانوں میں ہوٹل بھی قائم تھا۔

ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ عمارت بہت بوسیدہ تھا اور اس کی اینٹیں وقفے وقفے سے اکثر ٹوٹ کر گرتی رہتی تھیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمارت کے مالک کو متعدد مرتبہ کہا گیا کہ یہ بلڈنگ مخدوش ہے اسے خالی کیا جائے مگر اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔

دوسری جانب واقعے کے بعد ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ جائے حادثہ سے لوگوں کا رش کم کیا جائے تاکہ امدادی کاموں میں آسانی ہو سکے۔

ڈپٹی میئر نے کہا کہ  فوری طور پر بھاری مشینری کے استعمال سے جانی نقصان بڑھنے کا خطرہ ہے اس لیے احتیاط سے کام لیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمین بوس ہونے والی 3 منزلہ عمارت میں 4 خاندان رہائش پذیر تھے۔

اس کے علاوہ ڈی سی سینٹرل نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا جب کہ ایم کیوایم پاکستان کےرہنما خواجہ اظہار اور میئر کراچی بھی امدادی کاموں کا جائزہ لینے پہنچے۔