بلاگ
01 اگست ، 2017

عمران خان کی نااہلی ۔ کیوں اور کیسے؟

عمران خان کی نااہلی ۔ کیوں اور کیسے؟

انقلاب کے نعرے کے ساتھ میدان سیاست میں اترنے والی پاکستان تحریک انصاف نے25 اپریل 1996ء میں جس ٹیم کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیاتھا،اس میں ایک اہم نام اکبرشیر بابر کا بھی تھا۔ جو تحریک انصاف کے بانیوں اور اس اولین ٹیم میں شامل تھے جس نے پارٹی منشور تیار کرنے سے لے کر 30اکتوبر2011ء کومینارپاکستان کے جلسے تک پردے کے پیچھے رہ کرکام کیا۔


 عمران خان کے’ ’برین‘‘ کی شہرت رکھنے والے اکبربابر کے بارے میں خود عمران خان تحریری اعتراف کرچکے ہیں کہ اللہ تعالی نے اکبربابر کو منفرد سیاسی تجزیہ کرنے والا باکمال ذہن عطا کیا ہے۔


بھارتی اخبار’’ہندوستان ٹائمز‘‘کو انٹرویو میں عمران خان نے اکبر بابر کو(انتہا کی حد تک دیانتدار) Brutaly Honest کا لقب دے کر ان کی ایمانداری کا برملا اعتراف کیا۔ کبھی عمران خان اکبر بابرکے ساتھ ان کی پرانی 76 کرولا میں اسلام آباد کی سڑکوں پراکثردکھائی دیاکرتے تھے لیکن اب اس پرانی گاڑی کی جگہ جہازوں نے لے لی ہے۔ اکبر بابر پی ٹی آئی بلوچستان کے بانی صدر تھے ۔

پارٹی کے اولین دستور کے خالقوں میں سے ایک ہیں۔ 1999ء میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا منصب سنبھالا اور سات سال تک اس عہدہ پر خدمات انجام دیں۔ 2011ء میں انہیں پی ٹی آئی کا مرکزی نائب صدر مقرر کیاگیا۔ ماضی میں چونکہ عمران خان صاحب لاہور میں رہتے تھے جبکہ اکبر بابر اسلام آباد میں مقیم تھے اس لئے اسٹیبلشمنٹ ، دیگر اداروں اور غیرملکی سفارتخانوں کے ساتھ رابطہ کار کا کام بھی اکبر ایس بابر کے سپرد تھا۔

گویا وہ ماضی کے جہانگیر ترین تھے ۔ بس فرق تھا تو یہ کہ جہانگیر ترین جہازوں کے مالک ہیں جبکہ اکبر ایس بابر کرولا گاڑی کے ۔

پشتون قبیلہ ’’بابڑ‘‘ کے فرزند اکبر بابر بلوچستان کے ایک معروف خاندان کے چشم وچراغ ہیں۔ ان کے گھرانے میں فوج اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے کئی معتبر نام ہیں۔ ان کے والدعبدالمجید بابر انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون کے گریجویٹ تھے جنہوں نے 1965ء کی تاریخی جنگ میں 9thپنجاب رجمنٹ کی کمان کی جس نے چھمب فتح کیا۔

ریٹائر منٹ کے بعد کرنل (ر) عبدالمجید بابر بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے دوبار چیئرمین رہے اوریہ وہی عبدالمجید بابر ہیں جنہوں نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کے طورپر سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کے فرزند ارسلان افتخار کوغیرقانونی رعایت دینے سے انکار کردیاتھا۔اکبر بابر پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ امریکہ کی پرڈو یونیورسٹی امریکہ سے فارغ التحصیل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے علاوہ بین الاقوامی ترقی کے لئے امریکی ادارے (یو۔ایس ایڈ) سے وابستہ رہے۔ لیکن پاکستان میں تبدیلی کے مقصد کی خاطر اپنا پیشہ ورانہ کیرئیر چھوڑ کر تمام وقت تحریک انصاف کے لئے وقف کردیا۔


2011ء میں جب اس وقت کے امپائروں نے تحریک انصاف کے غبارے میں ہوا بھرنا شروع کیا تو اکبر ایس بابر نہ صرف پورے منصوبے سے آگاہ تھے بلکہ کئی اہم اور خفیہ میٹنگز میں شریک بھی تھے


2011ء میں جب اس وقت کے امپائروں نے تحریک انصاف کے غبارے میں ہوا بھرنا شروع کیا تو اکبر ایس بابر نہ صرف پورے منصوبے سے آگاہ تھے بلکہ کئی اہم اور خفیہ میٹنگز میں شریک بھی تھے لیکن جب بڑے بڑے گدی نشین اور جہازوں کے مالک پارٹی میں شامل ہونے لگے تو انہوں نے محسوس کیا کہ عمران خان کی ترجیحات یکسر بدل رہی ہیں ۔ اس دوران پارٹی فنڈز اور وسائل میں بھی اچانک اور غیرمعمولی اضافہ ہوگیا تو انہوں نے دیکھا کہ ان میں بری طرح مبینہ خوردبرد ہونے لگی اور پارٹی کے کئی رہنما جن میں دو کراچی اور ایک خیبر پختونخوا کے تھے ، بھی بنی گالہ اور اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں زمینیں خریدنے لگے ۔

 اکبر ایس بابر ان معاملات پر پریشان ہوئے اور عمران خان کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کرنے لگے ۔ جوں جوں ان کا احتجاج بڑھتا رہا توں توں وہ عمران خان کے لئے بوجھ بنتے گئے۔ اکبر ایس بابر دیکھ رہے تھے کہ اب پی ٹی آئی کا مستقبل روشن ہے بلکہ امپائروں نے تو یہ یقین بھی دلایا تھا کہ 2013ء کے انتخابات میں اقتدار پی ٹی آئی کا مقدر بن جائے گا لیکن اکبر ایس بابر نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر پی ٹی آئی کے دیگر ابن الوقت رہنماؤں کی طرح خود تبدیل ہونے کی بجائے پی ٹی آئی اور اس کے مقصد میں آنے والی تبدیلی کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا۔

چنانچہ عمران خان نے ان کو کھڈے لائن لگانے اور بدنام کرنے کی مہم کا آغاز کردیا۔ اکبر ایس بابر کے پاس عمران خان کی ذاتی زندگی سے متعلق اتنے ویڈیوز اور دستاویزی ثبوت پڑے ہیں کہ وہ ذاتیات پر اتریں تو خان صاحب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے لیکن ہماری طرح ان کی بھی مجبوری یہ ہے کہ پاکستانی اور پختون روایات کا حامل ہونے کی وجہ سے وہ ذاتیات پر نہیں اتر سکتے ۔ چنانچہ انہوں نے صرف پی ٹی آئی کی فنڈنگز کے معاملات کو الیکشن کمیشن لے جانے کا فیصلہ کیا۔


اکبر ایس بابر کے پاس عمران خان کی ذاتی زندگی سے متعلق اتنے ویڈیوز اور دستاویزی ثبوت پڑے ہیں کہ وہ ذاتیات پر اتریں تو خان صاحب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے


 وہ تب عدالت گئے جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما پی ٹی آئی والوں کے ناز نخرے اٹھارہے تھے اور ان کے استعفیٰ دینے والے ایم این ایز کو غیرقانونی طور پر واپس اسمبلی میں لاکر ناجائز تنخواہیں ادا کررہے تھے ۔ درمیان میں بہت سارے مرحلے آئے لیکن اکبر ایس بابر تن تنہا ڈٹے رہے اور عنقریب ان کے کیس کا فیصلہ سامنے آرہا ہے ۔

میرا اکبر ایس بابر کے ساتھ واسطہ تعلق رہا اور نہ کبھی ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ گزشتہ روز زندگی میں پہلی بار ان کی والدہ کی بیمار پرسی کے لئے اسلام آباد میں واقع ان کے چھوٹے سے گھر گیا۔ وہاں معلوم ہوا کہ اس وقت ان کی زندگی صرف دوکاموں کے لئے وقف ہے ۔ ایک والدہ کی خدمت اور دوسرا عمران خان کے خلاف کیس کی تیاری ۔ ان کی والدہ گزشتہ کئی سال سے بستر پر پڑی ہیں۔ بول سکتی ہیں اورنہ چل پھر سکتی ہیں ۔ اکبر ایس بابر صبح سویرے اٹھ کر صبح آٹھ نو بجے تک ان کو ناشتہ کرواتے،دوائیاں کھلاتے اور بہلاتے ہیں ۔

اس دوران ضروری سے ضروری کام بھی ہو تو وہ گھر سے نہیں نکلتے ۔ عصر کو واپس گھر آجاتے ہیں اور پھر رات نو دس بجے تک والدہ کے ساتھ رہ کر ان کی خدمت کرتے رہتے ہیں ۔ جب تک ان کی والدہ جاگ رہی ہوتی ہیں ، وہ کوئی میٹنگ کرتے ہیں ، کسی دعوت پر جاتے ہیں اور نہ گھرپر کسی سے ملتے ہیں ۔ جب والدہ سے دعائیں لے کر ان کو سلادیتے ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی اورکام کرتے ہیں۔

ان کی ماں بول نہیں سکتیں لیکن اپنے بیٹے کی یہ خدمت دیکھ کر ان کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو نکلتے رہتے ہیں اور اکبر ایس بابر اپنی ماں کے ان آنسوئوں کو ہی اپنی زندگی کی سب سے بڑی کمائی سمجھتے ہیں ۔ وہ کسی سیاسی جماعت میں جانا چاہتے ہیں ، نہ مستقبل کے حوالے سے ان کے کوئی ارادے ہیں ۔ کہتے ہیں ان کی زندگی کے اب دو ہی مقصد رہ گئے ہیں ۔ ایک ماں کی خدمت اور دوسرا عمران خان کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرکے پی ٹی آئی کے مخلص کارکنوں کو بچانا۔


کئی گھنٹے پر محیط اس نشست میں اکبر ایس بابر نے عمران خان سے متعلق ایسی ایسی باتیں بتادیں کہ بعض مجھ جیسے ناقد کے لئے بھی ناقابل یقین تھیں۔


کئی گھنٹے پر محیط اس نشست میں اکبر ایس بابر نے عمران خان سے متعلق ایسی ایسی باتیں بتادیں کہ بعض مجھ جیسے ناقد کے لئے بھی ناقابل یقین تھیں۔ دوسری طرف اپنی صحافتی زندگی کے تجربات کا نچوڑ یہ ہے کہ اس ملک میں بہت سارے گیدڑ ،شیروں کی کھال پہن کر غرا رہے ہیں یا پھر بہت سارے شیطان فرشتوں کا روپ دھارے پھر رہے ہیں ۔ چنانچہ اب آسانی کے ساتھ کسی کی باتوں اور دعوئوں پر یقین نہیں کرتا ۔

 چنانچہ میں نے اپنے تالیف قلب کے لئے اکبر ایس بابر سے عرض کیا کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتائیں کہ عمران خا ن صاحب کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں درست ہیں تو انہوں نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہا کہ اگر وہ جھوٹ بولتے ہوں تو اللہ ان کو اٹھالے۔ پھر میں نے یہ نامناسب سوال پوچھا کہ کیا وہ اپنی ماں کے سر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ کسی کے ایما پر عمران خان کے خلاف میدان میں نہیں نکلے اور جو کچھ کہہ اور کررہے ہیں ، وہ ان کے ضمیر کی آواز ہے تو انہوں نے ماں کے سر کی قسم کھا کر کہا کہ ہاں۔

وہ جو کچھ کہہ اور کررہے ہیں وہ ان کے ضمیر کی آواز ہے ۔اب ہر چیز سے بچ جائیں گے لیکن کیا وہ اکبر ایس بابر کی ماں کے آنسوؤں کی اثرپذیری سے بچ سکتے ہیں ۔ میرے نزدیک چونکہ اس دنیا میں ماں کے آنسو سے زیادہ طاقتور چیز کوئی نہیں اس لئے مجھے یقین ہے کہ کوئی کچھ بھی کرے خان صاحب کا بچنا ناممکن ہے۔

اکبر ایس بابر کے عمران خان سے تعلق انکشافات ذہن میں گردش کررہے تھے کہ یہ خبر سامنے آئی کہ پی ٹی آئی نے شیخ رشید احمد کو وزارت عظمیٰ کے لئے امیدوار نامزد کردیا۔ اب وہ اس شخص کو پاکستان کے کروڑوں عوام کا وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں جن کو وہ اپنا چپراسی بھی نہیں رکھنا چاہتےتھے۔


عمران خان نے پوری پاکستانی قوم کے سامنے ٹی وی پر شیخ رشید احمد کی موجودگی میں اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ انہیں شیخ رشید جیسا سیاستدان نہ بنائیں۔


عمران خان نے پوری پاکستانی قوم کے سامنے ٹی وی پر شیخ رشید احمد کی موجودگی میں اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ انہیں شیخ رشید جیسا سیاستدان نہ بنائیں۔ اب وہ نہ صرف ان جیسا سیاستدان بن گئے ہیں بلکہ شیخ رشید کو پاکستان کا وزیراعظم بنانے کے متمنی ہیں۔ پاکستانی قوم نے خان صاحب کو عزت دی ۔ انہیں اپنا ہیرو بنایا۔ ان پر اربوں روپوں کی بارش کردی ۔ ان کے ہر جھوٹ کو سچ مانا اور گزشتہ انتخابات میں ان پر کروڑوں ووٹوں کی بھی بارش کردی لیکن جواب میں انہوں نے اس شخص کو ان کے وزیراعظم کے طور پر پیش کردیا جس کو خود وہ اپنا چپراسی بھی نہیں رکھنا چاہتے۔

 کیا یہ پاکستانی قوم کی توہین نہیں اور کیا اس شخص کو تبدیلی کے خواہشمند کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کی سز ا نہیں ملے گی ۔تبھی میرا ایمان ہے کہ عمران خان اس ملک کے وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ 



سینئر صحافی سلیم صافی جیو نیوز پر پروگرام ’جرگہ‘ کے میزبان ہیں، ان کا یہ کالم یکم اگست 2017 کے روزنامہ جنگ میں شایع ہوا۔