Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
02 اگست ، 2017

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

بچپن میں والدین اور اساتذہ کرام اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر پیسہ کھو جائے تو سمجھو کچھ نہیں کھویا، اگر صحت خراب ہو جائے تو تھوڑا بہت کھویا ہے لیکن اگر کردار ہی کھو جائے تو سب کچھ ہی کھو دیا لیکن افسوس آج ہم پیسے کی کرپشن پر تو سخت فیصلے کر دیتے ہیں لیکن کردار کی کرپشن کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں۔

اس کی نفسیاتی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ تمام لوگ جو کردار کی عظمت کو اہمیت نہیں دیتے، کہیں وہ خود تو اس کجی کا شکار نہیں ہیں، اس کے لیے ہم ابلاغ عامہ کے نظریہ عمل اور علم میں عدم مطابقت کی مثال دے سکتے ہیں۔

قوم کے وہ تمام افراد جو سابق وزیر اعظم کی کرپشن کی دن رات دہائیاں دے رہے ہیں، افسوس ان میں دانشور نما بے شعور لوگ اور میڈیا کے افراد بھی شامل ہیں، ایک دوسرے قومی رہنما کی کردار کی ان خامیوں کو جسٹی فائی کرنے میں لگے ہیں جس کی سزا بہت ہی زیادہ سخت ہے، اب یا تو وہ شخصیت پرستی میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ان کے علم اور عمل میں ٹکراؤ کی سی کیفیت ہے اور وہ درحقیقت اپنی کرداری خامیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنے لیڈر کا دفاع کر رہے ہیں۔

میں بہت عرصے سے یہ کہتا چلا آ رہا ہوں کہ مقتدر حلقوں کو چائیے کہ اب وہ ان معاملات میں نہ الجھیں لیکن افسوس پاکستان میں جو کچھ چند دنوں میں ہوا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے 16 دسمبر 1971ء کے سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا، موڈیز نے پاکستان کی اکنامک صورتحال کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ صوتحال معاشی اصلاحات کی رفتار سست کر دے گی۔

آج سارا دن پیارے وطن میں جو تماشا لگا رہا اس سے مجھے مرزا نوشہ کا یہ شعر بہت یاد آیا

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

ایک طرف وہ صاحب وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے جو بڑے فخر سے اپنے رنگین کارنامے بتاتے اور ان کا لیڈر کبھی ان کو اپنا چپڑاسی رکھنے کو تیار نہیں تھا، دوسری طرف جاوید ہاشمی ہیں جو ساری کہانی بیان کر چکے ہیں کہ کیا ہوا اور کس نے کیا کھیل کھیلا ہے لیکن بات یہ ہے کہ اللہ ہمیشہ اپنی چال چلتا ہے جو یقیناً سب سے بہتر ہوتی ہے۔

جس پارٹی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے کئی سالوں سے وہ تو قائم و دائم ہے آج اس کا ایک کارکن 221 ووٹ حاصل کر کے ملک کا وزیر اعظم منتخب ہوا ہے اور وہ میاں محمد نواز شریف کو اپنا قائد مانتا ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کی انتہائی متحرک خاتون رکن اسمبلی اپنے لیڈر کو بد کردار کہہ کر پارٹی اس وقت چھوڑنے کا اعلان کر چکی ہیں جس وقت سب موقع پرست اس میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ بادشاہ گر اب کیا چاہتے ہیں، وہ سب جانتے ہیں۔

عائشہ گلالئی نے بڑا واضح کہا ہے کہ تحریک انصاف میں ماؤں بہنوں کی عزت محفوظ نہیں، شیریں مزاری کے جوابی الزام پر صرف قہقہہ ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن ہمارے تقلیدی انداز فکر کے حامی لوگ اب ان خاتون کے پیچھے پنجے جھاڑ کے پڑ گئے ہیں۔

جناب عمران خان کے رویے کے بارے میں ان کے بہت سے قریبی ساتھی بہت کچھ کہہ چکے ہیں اور اپنے ہی رفقاء کے بارے میں وہ جیسے الفاظ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

پاکستان عالمی حوالے سے بہت سنگین صورتحال سے دوچار ہے اور ہم مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلے کی طرح 'ہنوز دہلی دور است ہی سمجھ رہے ہیں جبکہ نادر شاہی طوفان بڑی تیزی کے ساتھ ہماری طرف بڑھ رہا ہے، چوہدری نثار بھی اس کا اظہار کر چکے ہیں اور میں مسلسل اپنے کالموں میں اس نیو ورلڈ آرڈر کے اس خطے پر اثرات کا ذکر کر رہا ہوں۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، حال ہی میں بہترین میڈیا ایجوکیشنسٹ بھی قرار پائے ہیں)

Advertisement