Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
13 اگست ، 2017

تیرا پاکستان، میرا پاکستان

2007 سے قبل ہر اگست کے مہینے میں کرم ایجنسی کی گلیاں نوجوانوں سے بھری اور بچوں کے قہقہوں سے گونج رہی ہوتی تھیں۔ اگست کا مہینہ گھر کو واپس لوٹنے کا ہوتا تھا۔ جب چاول اور ٹماٹر کے بیج بوئے جاتے تھے۔ حبس اور درجہ حرارت ملک کے دیگر علاقوں میں برداشت سے بھی بڑھ جاتا تھا تو لوگ اپنے اوزار سمیٹ کر ٹھنڈی اور ہوا دار شمال مغربی ایجنسی کی جانب واپس اپنے گھروں میں لوٹتے تھے۔

یہاں تک کے ملک کا یوم آزادی 14 اگست بھی ایک جشن کا دن ہوتا تھا۔ کرم ایجنسی کے صدرمقام پاراچنار میں باربی کیو پارٹیاں اور پکنک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ سبز ہلالی پرچم گھروں کی چھتوں، دکانوں اور گاڑیوں پر لہرائے جاتے تھے۔ بچے اپنے سینوں پر مختلف بیجز لگا کر ملک سے محبت کا والہانہ اظہار کرتے تھے۔

اس کے علاوہ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر، گورنر ہاؤس اور وادی کے دیگر سرکاری دفاتر میں یوم آزادی کا جشن منانے کی سرکاری تقریبات کا انعقاد ہوتا تھا۔ دن کے آخری حصے میں فٹبال اسٹیڈیم لوگوں سے بھر جاتا تھا جہاں نوجوان قومی ترانہ پڑھتے اور 1747 کے دن کو یاد کرتے۔

لیکن اب پارا چنار ویسا نہیں رہا۔ گزشتہ 10 برسوں میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ 8 اگست 2008 میں زیریں کرم ایجنسی میں جنگ کا آغاز ہوا اور بہت جلد پوری ایجنسی میں پھیل گیا۔ مقامی قبیلے جنہیں پاکستانی طالبان کی مدد حاصل تھی نے کئی دیہاتیوں کو قتل کیا اور ہزاروں کو منتقل ہونے پر مجبور کیا۔ تین برس کے بعد پورا علاقہ شدت پسندوں کے زیرقبضہ تھا جنہوں نے تمام زمینی راستے بند کر دیئے۔

ویلی میں رہنے والے لوگ بہت محتاط ہو گئے اور گلیاں سنسان ہو گئیں۔ اگست اب بالکل بھی جشن کا مہینہ نہیں رہا تھا۔

وہاں موت اور تباہی کی حکمرانی تھی اور چار سو بے امیدی پھیلی ہوئی تھی۔

ان تین برسوں میں ہر 14 اگست کو گھروں کی چھتوں، دکانوں اور گاڑیوں پر ہرے جھنڈوں کی جگہ سیاہ جھنڈوں نے لے لی۔ ہاتھوں میں بندوقیں اٹھائے ان مردوں کے لیے آزادی کا دن یوم سیاہ ہوتا تھا۔

یہ محاصرہ بلآخر 2011 میں اس وقت ختم ہوا جب فوج نے وادی میں اپنی رٹ بحال کی۔ اس پر لوگوں جشن منایا۔ لوگوں پھر گلیوں میں نکلے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ لیکن وہ خاموش ضرور تھے مگر انہیں تین برس تک حکومت کے رویے سے شکایت ضرور تھی۔

آج، کرم ایجنسی میں مکمل طور پر جنگ کا ماحول نہیں ہے۔ لیکن ہم اب بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ہم پر اب بھی حملے ہو رہے ہیں۔ اس سال بھی اب تک پاراچنار میں 6 حملے ہو چکے ہیں جن میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ایک حملہ آور نے تو عید کے موقع پر بازار پر حملہ کیا۔

2017 کا پارا چنار خاموش ہے۔ یہاں سب کچھ خالی ہے۔ ان دنوں یہاں بم دھماکے ہوتے ہیں جن کے بعد احتجاج اور دھرنے ہوتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان آرمی نے علاقے میں تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا ہے اور کچھ مدد وفاقی حکومت کی جانب سے بھی کی جا رہی ہے۔ کچھ ڈاکٹرز ہیں جو کہ زخمیوں کا علاج کرتے ہیں جب کہ بہت ہی کم تعداد میں اسپتال بھی موجود ہیں۔

لیکن 70 سال کے بعد بھی اس 14 اگست پر ہم پاراچنار کے لوگ کیوں خود کو چھوٹا پاکستانی محسوس کرتے ہیں؟ ہم بھی اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔ ہمیں بھی خود کو اس سرزمین پر محفوظ تصور کرناچاہیے۔

حسن طوری عوامی ورکرز پارٹی کے سیاسی کارکن ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement