Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
13 ستمبر ، 2017

پاکستان میں کرکٹ بحال، قذافی اسٹیڈیم بھی تبدیل ہوگیا

ایک طویل عرصے بعد اپنے پیارے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ میچ کی رپورٹنگ کیلیے میں نے جب قذافی اسٹیڈیم کے لئے سفر شروع کیا تو دس منٹ کی دوری پر واقع اسٹیڈیم کی مسافت ہر گذرتے لمحے کیساتھ بڑھ رہی تھی۔

اگرچہ میں میچ کے آغاز سے چار گھنٹے قبل اسٹیڈیم کی جانب روانہ ہونے کیلئے اپنی گاڑی میں سوار ہوا تھا، تاہم ’وی آئی پی‘ پارکنگ اسٹیکر کیساتھ چلنے والی گاڑی کے ڈرائیور کو قذافی اسٹیڈیم جانے والے ہر راستے سے جواب مل رہا تھا، ’آپ یہاں سے نہیں جا سکتے۔‘

تھوڑی دیر میں یہ تماشہ دیکھتا رہا۔ ایک جگہ سیکیورٹی اہلکاروں نے جب گاڑی روکی تو مجھے دروازہ کھول کر اترنا پڑا۔ میرے اترتے کے ساتھ ہی سرگوشیاں ہونے لگیں، ’ارے یہ تو یحیی حسینی ہیں۔‘میں نے سامنے پولیس کی وردی میں کھڑے شخص سے پوچھا، دوست میں پچھلے آدھے گھنٹے سے کبھی ادھر اور کبھی ادھر گھوم رہا ہوں، میرے ڈرائیور کو جواب دیا جاتا ہے، یہاں سے راستہ بند ہے، میرے سامنے کھڑے شخص نے تحمل سے میری بات سننے کے بعد کہا کہ یحیی بھائی ’وی آئی پی موومنٹ‘ ہے، اگر آپ پیدل جانا چاہیں تو اسٹیڈیم زیادہ دور نہیں، میں نے ڈرائیور سے کہا ٹھیک ہے آپ میرا بیگ لا دو۔

پیدل چلتا ہوا جب میں ایک گلی کے کونے تک پہنچا تو سامنے وہی لبرٹی چوک تھا، جہاں 2009ء میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تھا، لیکن آج وہاں کئی ٹی وی چینلز کی ’ ڈی ایس این جیز ‘ وین کھڑی تھیں، کچھ کونوں میں مختلف ٹی وی چینلز کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری تھا۔

اسی دوران میری نظر سامنے سے آتے ہوئے عبدالماجد بھٹی، عثمان سمیع الدین اور رضوان عرف جوجی پر پڑی جو سیکیورٹی اہلکار سے آگے جانے کا راستہ پوچھ رہے تھے۔ اپنے صحافی دوستوں سے مصافحہ کرتے ہوئے میں قذافی اسٹیڈیم کی جانب جانے والی شٹل میں سوار ہوا تو وہاں کئی لوگوں سے سلام دعا ہوئی جو میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم کی طرف جانے کیلیے اسی شٹل میں سوار تھے۔

چند منٹ کی مسافت کے بعد ہم اپنی منزل پر اتر چکے تھے۔ معمول کی چیکنگ کے بعد لفٹ سے قذافی اسٹیڈیم میں بنائی گئی اس بلڈنگ میں میرا یہ پہلا جانے کا اتفاق تھا جہاں میڈیا بکس موجود تھا۔ پہلے یہ میڈیا بکس قذافی اسٹیڈیم کی مین بلڈنگ میں ہوا کرتا تھا لیکن نیا میڈیا بکس دنیا کے کئی کرکٹ اسٹیڈیم کے مقابلے میں قدرے بہتر لگا۔

میڈیا بکس سے ہوتا ہوا شائقین کے اسٹینڈ میں گیا تو حبس کی شدت اور گرمی کے سبب واپس اے سی والے میڈیا بکس میں آنا پڑا۔ 25 ہزار نشتوں والے قذافی اسٹیڈیم میں تماشائیوں کا جوش و خروش دیکھ کر یہ اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ کچھ گھنٹوں پہلے یہ لوگ ٹریفک کے رش اور کئی سیکیورٹی چیکس کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔

بحرحال پہلا میچ ہو گیا،آج دوسرا میچ ہے،پہلے ٹی 20 میں خوب جم کر رنز بنے ،البتہ چیمپئنز ٹرافی کی جیت کے ہیروز حسن علی اور فخر زمان کچھ بجھے بجھے رہے،امید کرتے ہیں ۔آج دونوں اپنے اصل رنگ میں نظر آئیں گے،ارے تماشائیوں کی درمیان پہلے میچ میں بوم بوم آفریدی بھی دکھائی دئیے،جنھوں نے قذافی اسٹیڈیم میں کئی یاد گار اننگز کھیلی تھیں۔

پہلے میچ کے لیے فی الحال اتنا ہی۔۔۔ دوسرے میچ کے بعد اس میں ہونے والی سرگرمیوں پر دوبارہ بات کریں گے۔

سینئر صحافی سید یحییٰ حسینی جیو نیوز کے پروگرام اسکور کے میزبان ہیں۔

Advertisement