Can't connect right now! retry
Advertisement

دنیا
14 ستمبر ، 2017

روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار حکومت کا برتاؤ ناقابل قبول ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار حکومت کا برتاؤ ناقابل قبول قرار دے دیا۔

میانمار میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد واقعات میں ایک ہزار سے زائد مسلمان قتل کیے جاچکے ہیں جب کہ متعدد گھروں کو بھی نذر آتش کردیا گیا ہے، مظالم کے باعث  3 لاکھ 70 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلا دیش نقل مکانی کرچکے ہیں۔

میانمار بحران پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج کو ہوگا لیکن تنقید سے بچنے کے لیے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیا۔

انتونیو گوتیرش نے اپنے بیان میں کہا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمان تباہ کن انسانی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار حکومت کا برتاؤ ناقابل قبول ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایک تہائی آبادی ہجرت کرجائے اسے نسل کشی نہیں تواور کیا کہا جائے؟

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا دیہات پرحملے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں، فوجی طاقت کا استعمال روکا جائے۔

دوسری جانب میانمار میں انسانی نسل کشی پر سلامتی کونسل بھی خاموش نہ رہ سکی اور 15 سال بعد بیان جاری کردیا۔

سلامتی کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں میانمارکے صوبے رکھائن میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پرگہری تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی آپریشن کے دوران تشدد میں اضافے کی رپورٹوں پرانتہائی تشویش ہے، رکھائن میں فوری طورپرتشدد کا خاتمہ کرکے دوبارہ امن وامان قائم کیا جائے اورشہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

علازہ ازیں بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا اور میانمار حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ،مظاہرین نے میانمارکے سفارت خانے جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

مشتعل مظاہرین کا کہنا تھا کہ حالیہ تشدد پر کیا آنگ سان سوچی کے پاس امن کا نوبل انعام ہوناچاہیے؟

بھارت کی جانب سے روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس میانمار میں دھکیلنے کے ظالمانہ اعلان کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیم نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، اس درخواست کی سماعت پیر کوہوگی۔

Advertisement