Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
09 اکتوبر ، 2017

نواز شریف اور سقوط ڈھاکہ

وزارت عظمیٰ سے نااہل ہونے کے بعد نواز شریف بار بار سقوط ڈھاکہ کا ذکر کررہے ہیں۔ جی ٹی روڈ مارچ کے دوران اور بعدازاں مسلم لیگ(ن) کا دوبارہ صدر بننے کے بعد انہوں نے کہا کہ منتخب وزرائے اعظم کا مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے کی روایت ختم نہ ہوئی تو پاکستان کو سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے سے دوبارہ دوچار ہونے کا خطرہ ہے۔

دو دن پہلے نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی اور وفاقی وزیر نے بڑےپراسرار انداز میں مجھے پوچھا کہ ہمارے بزرگ میر ظفر اللہ جمالی کی قومی اسمبلی میں تقریر کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ میں نے کہا کہ جمالی صاحب کی اس رائے سے مجھے اتفاق نہیں کہ اسمبلی ختم ہوجانی چاہئے لیکن اس بات سے اتفاق ہے کہ نواز شریف کو عدلیہ کے خلاف اپنے لب و لہجے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

جمالی صاحب کی تقریر میں نواز شریف سے زیادہ طنز پنجاب پر تھا ،انہوں نے کہا کہ پانچ دریاؤں کی سرزمین پر رہنے والے پانچ دریاؤں کا پانی پیتے ہیں اور ہمارا خیال نہیں کرتے۔ پیغام یہ تھا کہ ریاستی اداروں کے بارے میں جو باتیں پنجاب کے سیاستدان کررہے ہیں وہ چھوٹے صوبوں کے سیاستدان نہیں کرسکتے۔ جمالی صاحب کی تقریر کے فوراً بعد مسلم لیگ(ن) کے کچھ وزراء اور اراکین اسمبلی نے اپنے خلاف انٹیلی جنس بیورو کے ایک مبینہ خط پر احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

واک آؤٹ کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا اور یہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کی موجودہ پالیسی سے متفق نہ تھے۔ میری باتیں سن کر وفاقی وزیر صاحب سنجیدہ ہوگئے۔ انہوں نے پرعزم لہجے میں کہا کہ دیکھو جی یہ تو طے ہے کہ میں نے نواز شریف کو دھوکہ نہیں دینا اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے لیکن نواز شریف کی کچھ باتوں کی سمجھ نہیں آرہی، ہم اپنے حلقے میں پبلک ڈیلنگ کرتے ہیں، پبلک پوچھتی ہے کہ نواز شریف بار بار سقوط ڈھاکہ کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟

ہم کوئی نہ کوئی وضاحت پیش کرتے ہیں لیکن ہمارے بزرگ ووٹر مطمئن نہیں ہوتے وہ پوچھتے ہیں کہیں نواز شریف یہ دھمکی تو نہیں دے رہا کہ وہ شیخ مجیب الرحمان بن جائے گا؟

وفاقی وزیر نے تشویش بھرے لہجے میں کہا کہ ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر پچھلے الیکشن میں ان کی پولنگ ایجنٹ تھیں اور جی ٹی روڈ مارچ میں بھی شامل تھیں انہوں نے مجھے کہا کہ پاکستان1971کی جنگ کے بعد ٹوٹا تھا کیا ہمارا لیڈر نواز شریف ہمیں ایک اور پاک بھارت جنگ سے ڈرا رہا ہے؟ وفاقی وزیر کے بقول انہوں نے اپنی بزرگ ورکر کو سمجھایا کہ نہیں ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے ہم پاکستان کے خلاف بغاوت کی دھمکی نہیں دے رہے۔ وفاقی وزیر نے مجھے پوچھا کہ کیا نواز شریف کو بار بار سقوط ڈھاکہ کا ذکر کرنا چاہئے؟

ایک وفاقی وزیر کی طرف سے پوچھے جانے والا سوال سن کر میں چند لمحے خاموش رہا، پھر پوچھا کہ میری رائے سن کر آپ برا تو نہیں منائیں گے؟ وزیر صاحب نے کہا کہ آج کل ہم آپس میں بہت کھل کر باتیں کرتے ہیں آپ بھی کھل کر بات کریں۔ میں نے عرض کیا کہ سقوط ڈھاکہ پر بات ضرور کرنی چاہئے لیکن سقوط ڈھاکہ کا ذکر اپنے سیاسی مفاد کی روشنی میں نہیں ہونا چاہئے۔

سقوط ڈھاکہ پر ایک قومی مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو پتہ چلے کہ اس کے بزرگوں کی کون سی غلطیوں کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا تھا۔ یہ کہنا حقائق کے منافی ہے کہ1971کی جنگ نے پاکستان توڑا۔ اس جنگ میں بھارت کے خلاف ہتھیار نہ ڈالے جاتے اور آخر دم تک مزاحمت کی جاتی تو شاید پاکستان ایک شرمناک شکست سے بچ جاتا لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہماری فوج نے ہتھیار ڈالے تو ڈھاکہ میں جشن کیوں منایا گیا؟

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تحریک پاکستان پنجاب سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ تحریک پاکستان بنگال سے شروع ہوئی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ1906ءمیں لاہور یا کراچی میں نہیں ڈھاکہ میں قائم ہوئی۔ مسلم لیگ کی پہلی حکومت پنجاب میں نہیں متحدہ بنگال میں قائم ہوئی۔ 23مارچ1940ءکے بعد پنجاب کے غریب اور محنت کش مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا لیکن مت بھولئے کہ 1946تک پنجاب کے اکثر بڑے جاگیردار یونینسٹ پارٹی کے ساتھ تھے۔

پاکستان بننے کے بعد یہ جاگیردار مسلم لیگ میں آگئے اور پھر ان جاگیرداروں نے مسلم لیگ کے اندر اپنی پاور پالیٹکس شروع کردی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگ کے اندر سازشیں بڑھ گئیں۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے1949ءمیں پروڈا کے قانون کے تحت اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن کے الزامات میں نااہل قرار دینا شروع کردیا۔ تحریک پاکستان کے رہنماؤں حسین شہید سہروردی اور اے کے فضل الحق کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ قائد اعظم کے ساتھی اور پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندرناتھ منڈل نے8اکتوبر 1950ءکو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ان کا تفصیلی استعفیٰ پڑھ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ اگر حسین شہید سہروردی کے ساتھ مسلم لیگی قیادت ناانصافیاں نہ کرتی تو جوگندرناتھ منڈل نہ وزارت چھوڑتے نہ پاکستان چھوڑ کر بھارت جاتے۔ مسلم لیگ کی غیر بنگالی قیادت نے پاپولر بنگالی سیاستدانوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں غدار قرار دیدیا۔

پنجاب کے ایک سیاستدان ملک فیروز خان نون کو مشرقی بنگال کا گورنر بنا کر ڈھاکہ بھیجا گیا اور انہوں نے وہاں جاکر ایسے بیانات دئیے جن سے بنگالیوں میں احساس محرومی بڑھا۔ 1958ءکے مارشل لا نے اس احساس محرومی کو نفرت میں بدل دیا۔1962ءکے صدارتی آئین کیخلاف بنگالی وزیر قانون جسٹس ریٹائرڈ محمد ابراہیم نے استعفیٰ دیدیا۔

نئے وزیر قانون جسٹس محمد منیر نے صدر ایوب خان کی ہدایت پر بنگالیوں سے پاکستان سے علیحدہ ہوجانے کیلئے بات چیت شروع کی، جسٹس منیر نے اپنی کتاب’’فرام جناح ٹو ضیاء‘‘ میں لکھا ہے کہ بنگالیوں نے پاکستان سے علیحدگی کا آپشن مسترد کردیا، پھر صدر ایوب نے 1964کے صدارتی الیکشن میں دھاندلی کے ذریعہ محترمہ جناح کو شکست دی۔ شیخ مجیب الرحمان نے فاطمہ جناح کی بھرپور حمایت کی لیکن دھاندلی سے شکست کا ردعمل چھ نکات کی صورت میں سامنے آیا۔

عوامی لیگ نے1970کا الیکشن چھ نکات پر لڑا اور اکثریت حاصل کی۔ عوامی لیگ کو اکثریت مل گئی لیکن اسے اقتدار نہ دیا گیا۔ منتخب لیڈر گرفتار ہوگیا اور خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ یہ خانہ جنگی پاک بھارت جنگ میں تبدیل ہوئی اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ پاکستان میں ٹوٹ پھوٹ1958ء کے مارشل لا میں شروع ہوئی اور1969ء کے مارشل لا میں یہ ٹوٹ پھوٹ انجام کو پہنچی۔

مارشل لا پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ آج پاکستان میں سیاسی بے یقینی ہے لیکن 1973کا آئین موجود ہے۔ یہ آئین بنانے والوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بھی دی۔ 1973کا آئین ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ یہ آئین قائم رہے اور اس پر عمل کیا جائے تو سقوط ڈھاکہ کا کوئی خطرہ نہیں۔ اس آئین پر عملدرآمد فوج اور عدلیہ کے علاوہ پارلیمنٹ کی بھی ذمہ داری ہے اگر پارلیمنٹ ایسے قوانین منظور کرے گی جو آئین کی روح کے منافی ہوں گے تو جمہوریت کمزور ہوگی۔

وفاقی وزیر صاحب نے میری باتیں غور سے سنیں اور جسٹس منیر کی کتاب پڑھنے کو مانگی۔ اگلے دن یہ کتاب انہیں پہنچا دی اور کہا کہ خود پڑھ کر نواز شریف صاحب کو بھی پڑھادینا تاکہ انہیں پتہ چلے کہ سقوط ڈھاکہ 1971میں نہیں 1962میں ہوگیا تھا جب ملک پر صدارتی نظام مسلط کیا گیا۔

یہ آرٹیکل روزنامہ جنگ میں 9 اکتوبر کو شائع ہوا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement