Can't connect right now! retry
Advertisement

کھیل
11 اکتوبر ، 2017

آخر فواد عالم کو مسلسل نظرانداز کیوں کیا جارہا ہے؟

شاندار کارکردگی کے باوجود مسلسل نظرانداز کیے جانے والے پاکستانی کرکٹر فواد عالم نے قائداعظم ٹرافی میں ایک اور سنچری اسکور کی ہے۔

فواد نے منگل کے روز یہ سنچری لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں اپنے ڈپارٹمنٹ ایس ایس جی سی کی طرف سے لاہور بلیوز کے خلاف کی۔ اسی روز پاکستان کی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر سری لنکا کے خلاف ناکام ہوئی اور گرین شرٹس کو دس سال میں پہلی مرتبہ ہوم سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق کپتان مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد فواد عالم پاکستانی مڈل آرڈر کا بیڑہ سنبھالنے کے لیے موزوں ترین امیدوار تھے جنہوں نے گزشتہ کئی ڈومیسٹک سیزنز میں رنز کے انبار لگارکھے ہیں۔

تاہم ان کی جگہ گزشتہ تین سال سے فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھیلنے والے حارث سہیل اور عثمان صلاح الدین کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

حارث سہیل کے ٹیلنٹ پر کسی کو شبہہ نہیں اور انہوں نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنی سیلیکشن درست ثابت کی تاہم اگر کوئی بلے باز پاکستان کے سب سے بڑے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ یعنی قائداعظم ٹرافی میں رنز اسکور کرنے کے باوجود بھی ٹیم میں شامل نہیں ہوسکتا تو پھر اس ٹورنامنٹ میں محنت کرنے کا کیا فائدہ؟

بظاہر چیف سیلیکٹر انضمام الحق کی نظر میں فواد ایک قابل بیٹسمین نہیں اسی وجہ سے انہیں نظرانداز کرکے عثمان صلاح الدین، حارث سہیل اور ان کے بھتیجے امام الحق کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

اگر ریکارڈز کی بات کی جائے تو فواد دنیا بھر کے ان تین بلے بازوں میں شامل ہیں جنہوں نے 220 میچوں میں سن 2000 کے بعد ہونے والے فرسٹ کلاس میچز میں 56 یا اس سے زائد کی اوسط سے رنز اسکور کیے ہیں۔ اس فہرست میں ان سے آگے صرف ہندوستان کے پجارا اور آسٹریلیا کے اسمتھ ہی ہیں۔

گزشتہ تین سیزنز کے دوران فواد نے 59.14 کی اوسط سے 2070 رنز بنا رکھے ہیں۔

اتنی شاندار کارکردگی کے باوجود ٹیم میں جگہ نہ ملنے پر زیادہ تر کھلاڑی ہمت ہارکر امید چھوڑ دیتے تاہم فواد ان میں سے نہیں۔

جیو ڈاٹ ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں فواد کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شامل نہ ہونا افسوسناک ہے لیکن وہ اس حوالے سے مزید اور کیا کرسکتے ہیں؟

اتوار کو اپنی 32ویں سالگرہ منانے والے فواد نے کہا کہ ’میرا کام رنز اسکور کرنا ہے اور وہ میں کرتا رہوں گے۔‘

فواد اب بھی ٹیم میں جگہ ملنے کے لیے پرامید ہیں۔ اب صرف امید ہی کی جاسکتی ہے کہ سیلیکٹرز ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیں گے۔

بصورت دیگر پاکستان کرکٹ کی سیلیکشن پالیسی پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

Advertisement