Can't connect right now! retry
Advertisement

کھیل
12 اکتوبر ، 2017

کامیاب ٹیسٹ آغاز کے باوجود حارث سہیل ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کے دوسرے کامیاب ترین بیٹسمین حارث سہیل کو ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کی گیارہ رکنی ٹیم میں جگہ بنانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے حارث سہیل نے سیریز میں اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیا اور 44 کی بیٹنگ اوسط سے 176 رنز بنائے۔

اسد شفیق کے183رنز کے بعد حارث سہیل نے بیٹنگ لائن میں اچھی کارکردگی سے اپنے ناقدین کو خاموش کردیا۔

اسد شفیق بھی ون ڈے ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ جمعے کو ہورہا ہے۔

کپتان سرفراز احمد نے تصدیق کی ہے کہ پہلے ون ڈے کے موقع پر عثمان شنواری ،حارث سہیل ،فہیم اشرف اور امام الحق ٹیم میں شامل نہیں ہوں گے۔

18جون کو لندن کے اوول گراونڈ پر آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کےتاریخی فائنل جیتنےوالی ٹیم گیارہ رکنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی جائیں گی۔ان فٹ اظہر علی کی جگہ احمد شہزاد لیں گے جبکہ پنڈلی کی تکلیف کا شکار فاسٹ بولر محمد عامر کی جگہ رومان رئیس گیارہ رکنی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

سابق کپتان اظہر علی لاہور پہنچ رہے ہیں جہاں سے وہ چند دن قیام کے بعد لندن جائیں گے جہاں ان کے گھٹنے کا علاج ہوگا۔

محمد عامر کو بھی ڈاکٹروں نے تین ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے۔سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم نے بدھ کو دبئی میں آرام کیا۔

سرفراز احمد نے تصدیق کی ہے کہ پہلے ون ڈے انٹر نیشنل میں پاکستانی اننگز کا آغاز فخر زمان کے ساتھ احمد شہزاد کریں گے۔

ون ڈاون پر بابر اعظم آئیں گے۔محمد حفیظ جو ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہیں تھے، وہ چوتھے اور سابق کپتان شعیب ملک پانچویں نمبر پر کھیلیں گے۔

چھٹا نمبر کپتان سرفراز احمد کا ہوگا جن کے بعد آل راونڈرز عماد وسیم اور شاداب خان ٹیم میں شامل ہوں گے۔

آئی سی سی چیمپنز ٹرافی فائنل کے بعد پاکستانی ٹیم چار ماہ بعد ون ڈے میچ میں ایکشن میں دکھائی دے گی۔

سری لنکا کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں دو صفر سے شکست پاکستانی کرکٹ ٹیم کی متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز میں پہلی شکست ہے۔

پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں کسی ٹیم سے دس میں سے پہلی سیریز ہاری ہے۔امارات میں ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا ریکارڈ ٹیسٹ کی طرح شاندار نہیں ہے۔

2009کے بعدسے پاکستانی ٹیم کو امارات میں کھیلی گئی بارہ میں نو سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک اور سری لنکا کے خلاف دو سیریز جیتی ہیں۔ٹیسٹ میچوں کی طرح سری لنکا کی ون ڈے فارم بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔

اسے 21میں سے گذشتہ سولہ ون ڈے میچوں میں شکست ہوئی ہے۔

سری لنکا کو جنوبی افریقا اور بھارت کے ہاتھوں پانچ صفر کی وائٹ واش شکست ہوئی جبکہ زمبابوے نے پہلی بار سیریز میں شکست دی۔

بھارت کے ہاتھوں ہوم گراونڈ پر شکست کے بعد کپتان اوپل تھرنگا شدید تنقید کی زد میں ہیں۔تھرنگا کہتے ہیں کہ ہمیں مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھانا ہوگی۔بھارت نے ہمیں آوٹ کلاس کردیا لیکن ہماری بیٹنگ لائن کی کارکردگی مایوس کن تھی۔بولنگ اور فیلڈنگ بھی ناقص رہی۔

بھارت کے خلاف کسی میچ میں سری لنکا کی ٹیم ڈھائی سو رنز نہیں بنا سکی۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان آخری ون ڈے انٹر نیشنل آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کے موقع پر کارڈف میں ہوا تھا۔

سرفراز احمد کی 61نا قابل شکست رنز کی بدولت پاکستان نے سری لنکا کو ڈرامائی شکست سے دوچار کیا تھا۔

پاکستان کے پاس بولنگ میں کئی آپشن موجود ہوں گے۔محمد عامر اور وہاب ریاض جیسے تجربہ کار فاسٹ بولروں کی عدم موجودگی میں پیس اٹیک میں حسن علی،جنید خان اور رومان رئیس شامل ہوں گے۔

سری لنکا کے خلاف پاکستان کی گیارہ رکنی ٹیم ان کھلاریوں پر مشتمل ہوگی:

سرفراز احمد(کپتان)فخر زمان،احمد شہزاد،بابر اعظم،محمد حفیظ،شعیب ملک،عماد وسیم ،شاداب خان،حسن علی،جنید خان اور رومان رئیس۔

Advertisement