Can't connect right now! retry
Advertisement

دلچسپ و عجیب
03 نومبر ، 2017

نہ چاہتے ہوئے بھی مسلسل قومی ترانہ سننے پر مجبور برطانوی شخص

برطانیہ میں65 برس سے زائد عمر کا ہر 10 ہزار میں سے ایک شخص اس کیفیت میں مبتلا ہے— فوٹو : ہُل ڈیلی میل

قومی ترانہ چاہے کسی بھی ملک کا ہو  اسے سن کر جذبہ حب الوطنی ابھر جاتا ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر کسی کو نہ چاہتے ہوئے بھی مسلسل ترانہ سنایا جائے تو اس کا کیا حال ہوگا؟

ایسا ہی کچھ برطانیہ کے 87 سالہ شخص رون گولڈاسپنک کے ساتھ ہورہا ہے۔ انہیں گزشتہ چند ماہ سے مسلسل برطانوی قومی ترانہ سنائی دے رہا ہے جس سے اب ان کی حب الوطنی نہیں جاگ رہی بلکہ وہ خود بے خوابی کا شکار ہوگئے ہیں۔

برطانوی اخبار ’’ہُل ڈیلی میل‘‘ کے مطابق رون گولڈ اسپنک کا تعلق برطانیہ کے علاقے بلٹن سے ہے اور ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم آئندہ ماہ اس قصبے کا دورہ کرنے والی ہیں۔ گولڈ اسپنک کہتے ہیں کہ وہ ملکہ سے ملاقات کرکے انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ملکہ سے زیادہ مرتبہ قومی ترانہ سن چکے ہیں۔

دراصل گولڈاسپنک غیر معمولی طبّی صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں جسے ڈاکٹرز ’’میوزیکل ایئر سنڈروم‘‘ (ایم ای ایس) کہتے ہیں، اس کیفیت سے دوچار شخص کی قوت سماعت بتدریج متاثر ہوتی رہتی ہے اور اس کے دماغ میں تصوراتی آوازیں بننا شروع ہوجاتی ہیں اور وہ کوئی بھی آواز ہوسکتی ہے، گولڈ اسپنک کے کیس میں یہ آواز برطانیہ کا قومی ترانہ ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کے اس کیفیت میں مبتلا ہونے کی وجوہات فی الحال معلوم نہیں البتہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی قوت سماعت کمزور ہوتی ہے۔ جب قوت سماعت کمزور ہوتی ہے تو دماغ اپنے طور پر آوازیں بنانا شروع کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ کیفیت ان لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جن کی قوت سماعت کمزور ہوجاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں65 برس سے زائد عمر کے 10 ہزار میں سے صرف ایک شخص کو اس کی شکایت ہے۔ گولڈ اسپنک کا کہنا ہے کہ انہیں 3 سے چار ماہ قبل ایسا محسوس ہونا شروع ہوا کہ ان کے آس پاس برطانوی ترانہ بج رہا ہے، پہلے ان کا شک پڑوسیوں پر گیا اور انہوں نے بغیر تحقیق کیے ان کی شکایت بھی کونسل سے کردی۔

جب کونسل کے اہلکاروں نے پڑوسی سے تفتیش کی تو انہوں نے ترانہ بجانے کے الزام کو مسترد کیا پھر گولڈ اسپنک کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ صرف انہیں ہی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ترانے کا جو ورژن سنتے ہیں وہ مردوں کی آواز میں ہے اور بعض اوقات تو آواز اتنی تیز ہوتی ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے کان کے پردے پھٹ جائیں گے۔

گولڈ اسپنک نے کہا کہ وہ ایک ہفتے میں تقریباً 1700 بار یہ آوازیں سنتے ہیں اور جب انہوں نے ڈاکٹر کو اس بارے میں بتایا تو وہ حیران رہ گیا اور کہا کہ اس نے اس سے قبل ایسا کیس بھی نہیں دیکھا۔ گولڈ اسپنک نے بتایا کہ ترانے کی آواز سے ان کی جان صرف اسی وقت چھوٹتی ہے جب وہ اپنے ایک کان میں آلہ سماعت لگالیتے ہیں اور ٹی وی کی آواز تیز کردیتے ہیں۔

Advertisement