Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
08 نومبر ، 2017

اثاثہ جات ریفرنس: احتساب عدالت کا اسحاق ڈار کو پیش ہونے کا حکم

احتساب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کے دوران آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہیں جس کی وجہ سے وہ آج عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔

دوران سماعت اسحاق ڈار کی وکیل عائشہ حامد نے اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اور ان کی غیر موجودگی میں ظافر خان کو نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست جمع کرائی۔

اسحاق ڈار کی وکیل نے ان کی 6 نومبر کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر نے ان کے مؤکل کو سفر کی اجازت نہیں دی تھی اس لیے وہ واپس نہیں آئے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے اسحاق ڈار کو بہت موقع دیا، اب ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں۔

عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔  

فاضل جج نے کہا کہ اسحاق ڈار کم از کم ایک مرتبہ خود عدالت کے سامنے پیش ہوں، اسحاق ڈار واپس آئیں تو یہاں کے ڈاکٹرز سے بھی چیک اپ کروائیں گے اور ہم دیکھیں گے کہ انہیں کیا بیماری ہے اور وہ کہیں بھاگ تو نہیں رہے۔

جس پر اسحاق ڈار کے معاون وکیل قوسین فیصل مفتی نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ بھاگ رہے ہیں، اگر ڈاکٹر نے اجازت دی تو وہ واپس آجائیں گے۔

عدالت نے اسحاق ڈار کے ضامن کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیش نہ کیا تو 50 لاکھ کے ضمانتی مچلکے ضبط کرلیے جائیں گے، جس کے بعد عدالت نے سماعت 14 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے 30 اکتوبر کو سماعت کے دوران عدم پیشی پر اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔

اسحاق ڈار کی پیشیاں:

وزیر خزانہ اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وہ 25 ستمبر، 27 ستمبر، 4 ، 12، 16، 18 اور 30 اکتوبر کو اثاثہ جات ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے پیش ہوئے۔

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی اور ان دونوں سماعتوں پر وہ پیش نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

اثاثہ جات ریفرنس: احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کردی

27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

نیب کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان:

نیب کی جانب سے پیش کیے گئے پہلے گواہ اشتیاق علی تھے جن کا تعلق نجی بینک سے ہے جب کہ شاہد عزیز قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ اسلام آباد کے ملازم اور طارق جاوید لاہور کے نجی بینک میں افسر ہیں۔

Advertisement