Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
12 نومبر ، 2017

پی ایس پی کا ایم کیو ایم پاکستان والوں کو کنفیوز کرنا مثبت اشارہ ہے، مصطفیٰ کمال

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال پہلے بننے والی پارٹی نے 40 سال پرانی پارٹیوں کو پریشان کردیا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی پی ایس پی میں شمولیت کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لوگ آج کنفیوز ہوئے ہیں کل ’’کنورٹ‘‘ بھی ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہمیں ان کے لیے بھی کام کرنا ہے اور اختلاف رکھنے والوں سے دشمنی نہیں کرنی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ پی ایس پی نے ایم کیو ایم پاکستان کے لوگوں کو کنفیوز کردیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو کنفیوز ہوگا وہی تبدیل ہوگا، یہ مثبت اشارہ ہے،کچھ لوگ چند منٹوں کے لیے کنفیوز ہوئے، کچھ گھنٹوں کے لیے کنفیوز ہوئے اور کچھ لوگ ایک سال تک کنفیوز رہے لیکن آخر میں یہ کنفیوژن ’’کنورژن‘‘ میں ہی تبدیل ہونی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ پرویز مشرف کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

مصطفیٰ کمال سے جب پوچھا گیا کہ کراچی کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے ان کا کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا کہ لوگ جو بھی سمجھ رہے ہیں انہیں سمجھنے دیں جب وقت آئے گا تو ایک اور بھرپور پریس کانفرنس کریں گے اور ان سب باتوں کے جواب دیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی سیاست میں واپسی پر ان کے والدہ کے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ماں کسی کی بھی ہو وہ قابل احترام ہوتی ہے، اس معاملے میں فاروق ستار نے والدہ کو شامل کرکے زیادتی کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی پریس کانفرنس کے دوران پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 22 اگست 2016 کی رات فاروق ستارگرفتار ہوئے اور صبح پارٹی کے سربراہ بن کر نکلے، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کی خواہش پر ہی اسٹیبلشمنٹ نے ان سے ملاقات کروائی۔

آخر میں مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ’’کراچی شہر میں رہنے ولے مایوس نہ ہوں، کوئی لڑائی نہیں ہوگی، ان ساری چیزوں کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور ان کے رفقاء کو دعوت دیتا ہوں کہ دنیا ختم نہیں ہوئی، اس شہر، اس صوبے اور ملک کے پائیدار امن کی خاطر اور سچ کی بنیاد پر ہم منطق کے ساتھ کیمروں کے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان-پی ایس پی تناؤ

مصطفیٰ کمال نے یہ پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں کی ہے جب رواں ہفتے 8 نومبر کو ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم اگلے ہی روز ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے سیاست سے علیحدگی کا اعلان کردیا، جو بعدازاں انہوں نے کارکنوں کے اصرار اور والدہ کے حکم پر واپس لے لیا۔

اپنی پہلی پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے مصطفیٰ کمال پر مہاجروں کی تذلیل کا الزام عائد کیا اور کہا کہ 'گزشتہ روز جس طرح مہاجروں کی تذلیل ہوئی، ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا'۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ پریس کانفرنس کا مقصد سیاسی اتحاد اور الیکشن اتحاد کا تھا، ایم کیو ایم پاکستان حقیقت ہے، اسے تسلیم کرنا ہوگا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'ہم کیسے اس پارٹی سے انضمام کرسکتے ہیں جو مہاجروں کو گردانتی ہی نہیں اور ان کے ساتھ ظلم کی بات ہی نہیں کرتی'۔

بعدازاں ایم کیو ایم پاکستان سے دستبرداری کے اعلان کے بعد کراچی کے علاقے پی آئی بی میں کچھ دیر کے فرق سے اپنی دوسری پریس کانفرنس فاروق ستار نے اپنی والدہ کے ساتھ کی، اس موقع پر پارٹی رہنما عامر خان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا، 'میری والدہ کا حکم ہے کہ سیاست میں بھی رہنا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان میں بھی رہنا ہے، میں اپنی والدہ کے حکم کے آگے سرجھکاتا ہوں'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا ’میں نئے عزم اور نئی توانائی کے ساتھ آپ کی محبت کے جواب میں سیاست میں بھی آرہا ہوں اور ایم کیو ایم پاکستان کی دوبارہ ممبرشپ بھی لے رہا ہوں'۔

Advertisement