Can't connect right now! retry
Advertisement

دنیا
13 نومبر ، 2017

میانمار فوج نے روہنگیا خواتین کو 'منظم انداز میں' جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، اقوام متحدہ سفیر

اب تک 1 ہزار 644 روہنگیا خواتین کو امداد دی جاچکی ہے—۔فائل فوٹو/ رائٹرز

یانگون: اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی نے تصدیق کی ہے کہ میانمار میں فوج کے کریک ڈاؤن اور ریاستی مظالم سے بچنے کے لیے نقل مکانی کرنے والی روہنگیا خواتین کی بڑی تعداد کو میانمار کی فوج نے 'منظم انداز میں' جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

جنگوں اور تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پاٹن کے مطابق میانمار کی فوج جنسی تشدد کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے، یہ معاملہ عالمی عدالت میں اٹھایا جائے گا۔

خصوصی نمائندہ پرامیلا پاٹن نے بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع کوز بازار میں قائم کیے گئے کیمپوں کا دورہ کیا، جہاں میانمار سے فرار ہونے والے 61 ہزار روہنگیا مسلمانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

اس موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران نمائندہ خصوصی پرامیلا پاٹن کا کہنا تھا، 'ان میں سے بہت سے مظالم انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہیں'۔

 میانمار فوج کے ان اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے پرامیلا نےکہا کہ ایک خاتون کو 45 دن تک قید میں رکھا گیا اور مسلسل زیادتی کی گئی، متعدد کوسرعام برہنہ کیا گیا جبکہ کئی کے جسم پر بدترین زخموں کے نشان پائے گئے۔

 پرمیلا پاٹن نے کہا کہ اب تک 1 ہزار 644 خواتین کو امداد دی جاچکی ہے جبکہ متاثرین کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر 10 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عام شہریوں کے خلاف جو کوئی بھی جنسی تشدد کا ارتکاب کرتا ہے یا اس کا حکم دیتا ہے، انہین کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے'۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے کے حوالے سے بنگلہ دیش کی کوششوں اور انسانیت کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور وہ متاثرین کی آواز کو عالمی برادری تک پہنچانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا، 'میں متاثرین کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، میں یہ بھی یقین دلانا چاہتی ہوں کہ روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے سلسلے میں بنگلہ دیش کی حکومت اکیلی نہیں ہے'۔

میانمار میں روہنگیامسلمانوں کے خلاف ریاستی فوج کے مظالم پر امن کا نوبیل انعام لینے والی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کی حکومت کو عالمی تنقید کا سامنا ہے۔


Advertisement